🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب ما جاء في الدية كم هي من الدراهم
باب: دیت میں کتنے درہم دئیے جائیں؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1388
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , " عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ جَعَلَ الدِّيَةَ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت بارہ ہزار درہم مقرر کی۔ [سنن ترمذي/كتاب الديات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1388]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الدیات 18 (4546)، سنن النسائی/القسامة 35 (4807، 4808)، سنن ابن ماجہ/الدیات 6 (2629)، (تحفة الأشراف: 6165) وسنن الدارمی/الدیات 11 (ضعیف) (اس روایت کا مرسل ہو نا ہی صحیح ہے، جیسا کہ امام ابوداود اور مولف نے صراحت کی ہے، اس کو ”عمروبن دینار“ سے سفیان بن عینیہ نے جو کہ محمد بن مسلم طائفی کے بالمقابل زیادہ ثقہ ہیں) نے بھی روایت کیا ہے لیکن انہوں نے ابن عباس رضی الله عنہما کا تذکرہ نہیں کیا ہے دیکھئے: الإرواء رقم 2245)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجة (2629)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← عكرمة مولى ابن عباس
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن مسلم بن سس، أبو عبد الله
Newمحمد بن مسلم بن سس ← عمرو بن دينار الجمحي
صدوق حسن الحديث
👤←👥معاذ بن هانئ القيسي، أبو هانئ
Newمعاذ بن هانئ القيسي ← محمد بن مسلم بن سس
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← معاذ بن هانئ القيسي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
4807
جعل النبي ديته اثني عشر ألفا وذكر قوله إلا أن أغناهم الله ورسوله من فضله في أخذهم الدية
سنن النسائى الصغرى
4808
قضى باثني عشر ألفا
جامع الترمذي
1388
الدية اثني عشر ألفا
سنن ابن ماجه
2632
جعل الدية اثني عشر ألفا قال وذلك قوله وما نقموا إلا أن أغناهم الله ورسوله من فضله
سنن ابن ماجه
2629
جعل الدية اثني عشر ألفا
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1388 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1388
اردو حاشہ:
وضاحت:
نوٹ:
(اس روایت کا مرسل ہونا ہی صحیح ہے،
جیساکہ امام ابوداوداورمولف نے صراحت کی ہے،
اس کو عمروبن دینار سے سفیان بن عینیہ نے جو کہ محمد بن مسلم طائفی کے بالمقابل زیادہ ثقہ ہیں) نے بھی روایت کیا ہے لیکن انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا تذکرہ نہیں کیا ہے دیکھئے:
الإرواء رقم 2245)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1388]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4807
چاندی سے دیت کی ادائیگی کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص نے ایک شخص کو قتل کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت بارہ ہزار درہم مقرر کی، اور دیت لینے سے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بیان کیا «إلا أن أغناهم اللہ ورسوله من فضله» مگر یہ کہ اب اللہ اور اس کے رسول نے ان کو مالدار کر دیا ہے (المائدہ: ۵۰)، الفاظ ابوداؤد کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4807]
اردو حاشہ:
جبکہ محمد بن مثنیٰ کی حدیث کے الفاظ اس کے ہم معنیٰ ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4807]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4808
چاندی سے دیت کی ادائیگی کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارہ ہزار درہم کا فیصلہ کیا یعنی دیت میں۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4808]
اردو حاشہ:
(1) مذکورہ بالا دونوں روایات کی صحت مرفوعاً محل نظر ہے۔ راجح بات یہ ہے کہ یہ روایت مرسل ہے، تاہم بارہ ہزار درہم کے بارے میں یہ بات صحیح سند سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اونٹوں کی قیمت کا حساب لگا کر بارہ ہزار درہم مقرر کیے تھے۔ (سنن أبي داود، حدیث: 4542) مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الإرواء: 7/ 304، ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 36، 186)
(2) اصل دیت تو اونٹ ہیں جن کی تفصیل پیچھے بیان ہو چکی ہے۔ اگر سونے چاندی یا سکوں میں دیت دینا ہو تو مذکورہ صفات کے اونٹوں کی قیمت دینا ہوگی جو علاقے اور زمانے کے لحاظ سے بدلتی رہتی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4808]