🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب ما جاء في تأخير صلاة العصر
باب: نماز عصر دیر سے پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 161
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ تَعْجِيلًا لِلظُّهْرِ مِنْكُمْ، وَأَنْتُمْ أَشَدُّ تَعْجِيلًا لِلْعَصْرِ مِنْهُ ".
ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ظہر میں تم لوگوں سے زیادہ جلدی کرتے تھے اور تم لوگ عصر میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے زیادہ جلدی کرتے ہو ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 161]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ (تحفة الأشراف: 18184)، وانظر مسند احمد (6/289، 310) (صحیح) (تراجع الألبانی 606)»
وضاحت: ۱؎: بعض لوگوں نے اس روایت سے عصر دیر سے پڑھنے کے استحباب پر استدلال کیا ہے، جب کہ اس میں کوئی ایسی دلیل نہیں جس سے عصر کی تاخیر کے استحباب پر استدلال کیا جائے، اس میں صرف اتنی بات ہے کہ ام سلمہ رضی الله عنہا کے جو لوگ مخاطب تھے وہ عصر میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے بھی زیادہ جلدی کرتے تھے، تو ان سے ام سلمہ نے یہ حدیث بیان فرمائی، اس میں اس بات پر قطعاً دلالت نہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم عصر دیر سے پڑھتے تھے کہ عصر کی تاخیر پراس سے استدلال کیا جائے، علامہ عبدالحئی لکھنوی التعليق الممجد میں لکھتے ہیں «هذا الحديث إنما يدل على أن التعجيل في الظهر أشد من التعجيل في العصر لا على استحباب التأخير» بلاشبہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز ظہر میں (اس کا وقت ہوتے ہی) جلدی کرنا، نماز عصر میں جلدی کرنے سے بھی زیادہ سخت حکم رکھتا ہے، نہ کہ تاخیر سے نماز ادا کرنے کے مستحب ہونے پر۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، المشكاة (6195 / التحقيق الثانى)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمةصحابية
👤←👥عبد الله بن أبي مليكة القرشي، أبو محمد، أبو بكر
Newعبد الله بن أبي مليكة القرشي ← أم سلمة زوج النبي
ثقة
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← عبد الله بن أبي مليكة القرشي
ثقة ثبتت حجة
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر
Newإسماعيل بن علية الأسدي ← أيوب السختياني
ثقة حجة حافظ
👤←👥علي بن حجر السعدي، أبو الحسن
Newعلي بن حجر السعدي ← إسماعيل بن علية الأسدي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
161
كان رسول الله أشد تعجيلا للظهر منكم وأنتم أشد تعجيلا للعصر منه
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 161 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 161
اردو حاشہ:
1؎:
بعض لوگوں نے اس روایت سے عصر دیر سے پڑھنے کے استحباب پر استدلال کیا ہے،
جب کہ اس میں کوئی ایسی دلیل نہیں جس سے عصر کی تاخیر کے استحباب پر استدلال کیا جائے،
اس میں صرف اتنی بات ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے جو لو گ مخاطب تھے وہ عصر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی زیادہ جلدی کرتے تھے،
تو ان سے ام سلمہ نے یہ حدیث بیان فرمائی،
اس میں اس بات پرقطعاً دلالت نہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر دیر سے پڑھتے تھے کہ عصر کی تاخیر پر اس سے استدلال کیا جائے،
علامہ عبدالحیٔ لکھنوی التعليق الممجد میں لکھتے ہیں هذا الحديث إنما يدل على أن التعجيل في الظهر أشد من التعجيل في العصر لا على استحباب التأخير بلاشبہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز ظہر میں (اُس کا وقت ہوتے ہی) جلدی کرنا،
نمازِ عصر میں جلدی کرنے سے بھی زیادہ سخت حکم رکھتا ہے،
نہ کہ تاخیرسے نماز ادا کرنے کے مستحب ہونے پر۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 161]