🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَنْ يُسَافِرَ الرَّجُلُ وَحْدَهُ
باب: تنہا سفر کرنے کی کراہت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1674
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الرَّاكِبُ شَيْطَانٌ، وَالرَّاكِبَانِ شَيْطَانَانِ، وَالثَّلَاثَةُ رَكْبٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَاصِمٍ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَحَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حَدِيثٌ حَسَنٌ، قَالَ مُحَمَّدٌ: هُوَ ثِقَةٌ صَدُوقٌ، وَعَاصِمُ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ لَا أَرْوِي عَنْهُ شَيْئًا.
عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اکیلا سوار شیطان ہے، دو سوار بھی شیطان ہیں اور تین سوار قافلہ والے ہیں“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
عبداللہ بن عمرو کی حدیث حسن ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1674]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الجہاد 86 (2607)، (تحفة الأشراف: 8740)، وط/الاستئذان 14 (35)، و مسند احمد (2/186، 214) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اکیلا یا دو آدمیوں کا سفر کرنا صحیح نہیں ہے، تنہا ہونے میں کسی حادثہ کے وقت کوئی اس کا معاون و مددگار نہیں رہے گا، اسی طرح دو ہونے کی صورت میں ایک کو کسی ضرورت کے لیے جانا پڑا تو ایسی صورت میں پھر دونوں تنہا ہو جائیں گے، اور اگر ایک دوسرے کو وصیت کرنا چاہے تو اس کے لیے کوئی گواہ نہیں ہو گا جب کہ دو گواہ کی ضرورت پڑے گی۔
قال الشيخ الألباني: حسن، الصحيحة (64) ، المشكاة (3910) ، صحيح أبي داود (2346)


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥شعيب بن محمد السهمي
Newشعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عمرو بن شعيب القرشي، أبو إبراهيم، أبو عبد الله
Newعمرو بن شعيب القرشي ← شعيب بن محمد السهمي
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن حرملة الأسلمي، أبو حرملة
Newعبد الرحمن بن حرملة الأسلمي ← عمرو بن شعيب القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← عبد الرحمن بن حرملة الأسلمي
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥معن بن عيسى القزاز، أبو يحيى
Newمعن بن عيسى القزاز ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة ثبت
👤←👥إسحاق بن موسى الأنصاري، أبو موسى
Newإسحاق بن موسى الأنصاري ← معن بن عيسى القزاز
ثقة متقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1674
الراكب شيطان والراكبان شيطانان والثلاثة ركب
سنن أبي داود
2607
الراكب شيطان والراكبان شيطانان والثلاثة ركب
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1674 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1674
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی اکیلا یا دو آدمیوں کا سفر کرنا صحیح نہیں ہے،
تنہا ہونے میں کسی حادثہ کے وقت کوئی اس کا معاون و مدد گار نہیں رہے گا،
اسی طرح دو ہونے کی صورت میں ایک کوکسی ضرورت کے لیے جانا پڑا تو ایسی صورت میں پھر دونوں تنہا ہو جائیں گے،
اور اگر ایک دوسرے کو وصیت کرنا چاہے تو اس کے لیے کوئی گواہ نہیں ہوگا جب کہ دو گواہ کی ضرورت پڑے گی۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1674]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2607
تنہا سفر کرنے کی ممانعت کا بیان۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سوار شیطان ہے اور دو سوار دو شیطان ہیں، اور تین سوار قافلہ ہیں“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2607]
فوائد ومسائل:
1۔
انسان کا اکیلے سفر کرنا بعض اوقات انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے۔
بالفرض کوئی حادثہ پیش آجائے تو اسے سنبھالنے والا کوئی نہ ہوگا۔
اور نہ کوئی خبر ہی ملے گی۔
اس طرح دو افراد کا معاملہ بہت کمزور ہے۔
البتہ تین ہوں تو سب کو مکمل سہولت ہوگی۔
باجماعت نماز پڑھیں گے۔
ایک دوسرے کے انیس اور معاون ہوں گے۔

2۔
موجودہ حالات میں بسوں گاڑیوں اورجہازوں میں اگرچہ ایک کثیرتعداد بطور قافلہ کے سفرکرتی ہے۔
اور مذکور نہی سے انسان خارج ہوجاتا ہے۔
مگر انسان کو اپنے محب اور انیس رفیق سفر ہوں۔
تو بہت ہی افضل ہے۔
کیونکہ عام ہمراہی کئی طرح کے ہوتے ہیں۔
بالخصوص اب جبکہ شروفساد بہت بڑھ گیا ہے۔
اور دین وامانت میں کمی آتی جا رہی ہے۔

3۔
یہ حدیث تنہا سفر کرنے کی قباحت پر صریح دلالت کرتی ہے۔
اس لئے بعض اہل علم نے اس حدیث سے یہ استنباط کیا ہے۔
کہ صوفی قسم کے لوگ تن تنہا تہذیب نفس اور مزعومہ چلہ کشی کے نام پرصحرائوں اور بے آباد علاقوں کے جو سفر اخیتار کرتے ہیں۔
وہ بھی صریحا غلط اور مردود ہیں۔
ایسے ہی وہ چلہ کشی جو آجکل بزرگ اور ولی اللہ بننے کے چکر میں کی جاتی ہے۔
یہ بھی قرآن وحدیث کے منافی ہے۔
اس لئے ایسے تمام امور سے احتراز اور اجتناب ضروری ہے۔
کیونکہ یہ چیزیں بدعت ہیں۔
بدعت کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح فرمان ہے۔
کہ جس نے بھی دین اسلام میں کوئی نئی بات پیدا کی جو اس میں نہیں ہے وتو وہ مردود ہے۔
(صحیح البخاري، الصلح، حدیث: 2697)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2607]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 1674 in Urdu