🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب ما جاء في الرخصة في الثوم مطبوخا
باب: پکا ہوا لہسن کھانے کی اجازت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1808
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَدُّوَيْهِ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ وَالِدُ وَكِيعٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ شَرِيكِ بْنِ حَنْبَلٍ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ: " نُهِيَ عَنْ أَكْلِ الثُّومِ إِلَّا مَطْبُوخًا ".
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لہسن کھانے سے منع کیا گیا ہے سوائے اس کے کہ وہ پکا ہوا ہو ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1808]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الأطعمة 41 (3828)، (تحفة الأشراف: 10127) (صحیح) (سند میں ابواسحاق سبیعی مختلط اور مدلس راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، الإرواء: 2512)»
وضاحت: ۱؎: پکنے سے اس میں پائی جانے والی بو ختم ہو جاتی ہے، اس لیے اسے کھا کر مسجد جانے میں کوئی حرج نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الإرواء (2512)
قال الشيخ زبير على زئي:(1808) إسناده ضعيف / د 3828

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥شريك بن حنبل العبسي
Newشريك بن حنبل العبسي ← علي بن أبي طالب الهاشمي
لم تثبت صحبتها
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← شريك بن حنبل العبسي
ثقة مكثر
👤←👥الجراح بن مليح الرؤاسي، أبو وكيع، أبو مليح
Newالجراح بن مليح الرؤاسي ← أبو إسحاق السبيعي
صدوق يهم
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← الجراح بن مليح الرؤاسي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن أحمد القرشي، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن أحمد القرشي ← مسدد بن مسرهد الأسدي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1808
نهي عن أكل الثوم إلا مطبوخا
جامع الترمذي
1809
لا يصلح أكل الثوم إلا مطبوخا
سنن أبي داود
3828
نهي عن أكل الثوم إلا مطبوخا
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1808 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1808
اردو حاشہ:
وضاحت: 1؎:
پکنے سے اس میں پائی جانے والی بو ختم ہوجاتی ہے،
اس لیے اسے کھا کر مسجد جانے میں کوئی حرج نہیں۔

نوٹ:
(سند میں ابواسحاق سبیعی مختلط اورمدلس راوی ہیں،
لیکن شواہد کی بناپر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے،
الإرواء: 2512)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1808]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1809
پکا ہوا لہسن کھانے کی اجازت کا بیان۔
شریک بن حنبل سے روایت ہے کہ علی رضی الله عنہ لہسن کھانا مکروہ سمجھتے تھے، سوائے اس کے کہ وہ پکا ہوا ہو۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1809]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ا بوا سحاق سبیعی مدلس اور مختلط راوی ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1809]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 1808 in Urdu