یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب ما جاء في الرخصة في الثوم مطبوخا
باب: پکا ہوا لہسن کھانے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1808
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَدُّوَيْهِ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ وَالِدُ وَكِيعٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ شَرِيكِ بْنِ حَنْبَلٍ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ: " نُهِيَ عَنْ أَكْلِ الثُّومِ إِلَّا مَطْبُوخًا ".
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لہسن کھانے سے منع کیا گیا ہے سوائے اس کے کہ وہ پکا ہوا ہو ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1808]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الأطعمة 41 (3828)، (تحفة الأشراف: 10127) (صحیح) (سند میں ابواسحاق سبیعی مختلط اور مدلس راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، الإرواء: 2512)»
وضاحت: ۱؎: پکنے سے اس میں پائی جانے والی بو ختم ہو جاتی ہے، اس لیے اسے کھا کر مسجد جانے میں کوئی حرج نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الإرواء (2512)
قال الشيخ زبير على زئي:(1808) إسناده ضعيف / د 3828
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1808
| نهي عن أكل الثوم إلا مطبوخا |
جامع الترمذي |
1809
| لا يصلح أكل الثوم إلا مطبوخا |
سنن أبي داود |
3828
| نهي عن أكل الثوم إلا مطبوخا |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1808 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1808
اردو حاشہ:
وضاحت: 1؎:
پکنے سے اس میں پائی جانے والی بو ختم ہوجاتی ہے،
اس لیے اسے کھا کر مسجد جانے میں کوئی حرج نہیں۔
نوٹ:
(سند میں ابواسحاق سبیعی مختلط اورمدلس راوی ہیں،
لیکن شواہد کی بناپر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے،
الإرواء: 2512)
وضاحت: 1؎:
پکنے سے اس میں پائی جانے والی بو ختم ہوجاتی ہے،
اس لیے اسے کھا کر مسجد جانے میں کوئی حرج نہیں۔
نوٹ:
(سند میں ابواسحاق سبیعی مختلط اورمدلس راوی ہیں،
لیکن شواہد کی بناپر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے،
الإرواء: 2512)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1808]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1809
پکا ہوا لہسن کھانے کی اجازت کا بیان۔
شریک بن حنبل سے روایت ہے کہ علی رضی الله عنہ لہسن کھانا مکروہ سمجھتے تھے، سوائے اس کے کہ وہ پکا ہوا ہو۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1809]
شریک بن حنبل سے روایت ہے کہ علی رضی الله عنہ لہسن کھانا مکروہ سمجھتے تھے، سوائے اس کے کہ وہ پکا ہوا ہو۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1809]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ا بوا سحاق سبیعی مدلس اور مختلط راوی ہیں)
نوٹ:
(سند میں ا بوا سحاق سبیعی مدلس اور مختلط راوی ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1809]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 1808 in Urdu
شريك بن حنبل العبسي ← علي بن أبي طالب الهاشمي