🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب ما جاء في أكل الدجاج
باب: مرغی کھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1826
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ، عَنْ أَبِي الْعَوَّامِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ، قَالَ: " دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى وَهُوَ يَأْكُلُ دَجَاجَةً، فَقَالَ: ادْنُ فَكُلْ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ زَهْدَمٍ وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ زَهْدَمٍ، وَأَبُو الْعَوَّامِ هُوَ عِمْرَانُ الْقَطَّانُ.
زہدم جرمی کہتے ہیں کہ میں ابوموسیٰ کے پاس گیا، وہ مرغی کھا رہے تھے، کہا: قریب ہو جاؤ اور کھاؤ اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے کھاتے دیکھا ہے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن ہے، زہدم سے یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ہم اسے صرف زہدم ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1826]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 74 (4385)، والصید 26 (5517، 5518)، و کفارات الأیمان 10 (6721)، صحیح مسلم/الأیمان 3 (1649/9)، سنن النسائی/الصید 33 (4351)، (تحفة الأشراف: 8990) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دوست کے گھر اس کے کھانے کے وقت میں جانا صحیح ہے، نیز کھانے والے کو چاہیئے کہ آنے والے مہمان کو اپنے ساتھ کھانے میں شریک کرے، اگرچہ کھانے کی مقدار کم ہو، اس لیے کہ اجتماعی شکل میں کھانا نزول برکت کا سبب ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ مرغ کا گوشت حلال ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الإرواء (2499)


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسىصحابي
👤←👥زهدم بن مضرب الأزدي، أبو مسلم
Newزهدم بن مضرب الأزدي ← عبد الله بن قيس الأشعري
ثقة
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← زهدم بن مضرب الأزدي
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥عمران بن داور العمي، أبو العوام
Newعمران بن داور العمي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ورمي برأي الخوارج، صدوق يهم
👤←👥سلم بن قتيبة الشعيري، أبو قتيبة
Newسلم بن قتيبة الشعيري ← عمران بن داور العمي
ثقة
👤←👥زيد بن أخزم الطائي، أبو طالب
Newزيد بن أخزم الطائي ← سلم بن قتيبة الشعيري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5517
يأكل دجاجا
جامع الترمذي
1826
ادن فكل فإني رأيت رسول الله يأكله
جامع الترمذي
1827
يأكل لحم دجاج
سنن النسائى الصغرى
4352
قدم في طعامه لحم دجاج وفي القوم رجل من بني تيم الله أحمر كأنه مولى فلم يدن فقال له أبو موسى ادن فإني قد رأيت رسول الله يأكل منه
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1826 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1826
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہواکہ دوست کے گھر اس کے کھانے کے وقت میں جانا صحیح ہے،
نیز کھانے والے کوچاہیے کہ آنے والے مہمان کو اپنے ساتھ کھانے میں شریک کرے،
اگر چہ کھانے کی مقدارکم ہو،
اس لیے کہ اجتماعی شکل میں کھانا نزول برکت کا سبب ہے،
یہ بھی معلوم ہواکہ مرغ کا گوشت حلا ل ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1826]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1827
مرغی کھانے کا بیان۔
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مرغ کا گوشت کھاتے دیکھا۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1827]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ابراہیم بن عمربن سفینہ بُریہ مجہول الحال راوی ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1827]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5517
5517. سیدنا ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مرغی کا گوشت کھاتے دیکھا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5517]
حدیث حاشیہ:
مرغی کے حلال ہونے پر سب کا اتفاق ہے یہ حضرت یحییٰ بن ابی کثیر ہیں بنو طے کے آزاد کردہ ہیں انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی ہے اور ان سے عکرمہ اور اوزاعی وغیرہ نے روایت کی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5517]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5517
5517. سیدنا ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مرغی کا گوشت کھاتے دیکھا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5517]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مرغی کا گوشت حلال اور اس کا کھانا جائز ہے۔
یہ ایک بہترین، خوش ذائقہ اور طاقتور گوشت ہے لیکن ہمارے ہاں جو برائلر مرغی کا رواج ہے اس میں نہ لذت ہے اور نہ طاقت، یہ بے چارہ اپنا بوجھ نہیں اٹھا سکتا اس نے دوسرے کو کیا طاقت فراہم کرنی ہے۔
(2)
بہرحال مرغی حلال ہے اور جو لوگ زہد و تقویٰ کی وجہ سے اسے مکروہ خیال کرتے ہیں ان کی کراہت کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
واللہ المستعان
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5517]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 1826 in Urdu