Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. باب الدجاج:
باب: مرغی کھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5517
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى يَعْنِي الْأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ دَجَاجًا".
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے، ان سے زہدم جرمی نے، ان سے ابوموسیٰ یعنی الاشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مرغی کھاتے دیکھا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5517]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسىصحابي
👤←👥زهدم بن مضرب الأزدي، أبو مسلم
Newزهدم بن مضرب الأزدي ← عبد الله بن قيس الأشعري
ثقة
👤←👥عبد الله بن زيد الجرمي، أبو كلابة، أبو قلابة
Newعبد الله بن زيد الجرمي ← زهدم بن مضرب الأزدي
ثقة
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← عبد الله بن زيد الجرمي
ثقة ثبتت حجة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← أيوب السختياني
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري
ثقة حافظ إمام
👤←👥يحيى بن جعفر البيكندي، أبو زكريا
Newيحيى بن جعفر البيكندي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5517
يأكل دجاجا
جامع الترمذي
1826
ادن فكل فإني رأيت رسول الله يأكله
جامع الترمذي
1827
يأكل لحم دجاج
سنن النسائى الصغرى
4352
قدم في طعامه لحم دجاج وفي القوم رجل من بني تيم الله أحمر كأنه مولى فلم يدن فقال له أبو موسى ادن فإني قد رأيت رسول الله يأكل منه
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5517 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5517
حدیث حاشیہ:
مرغی کے حلال ہونے پر سب کا اتفاق ہے یہ حضرت یحییٰ بن ابی کثیر ہیں بنو طے کے آزاد کردہ ہیں انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی ہے اور ان سے عکرمہ اور اوزاعی وغیرہ نے روایت کی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5517]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5517
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مرغی کا گوشت حلال اور اس کا کھانا جائز ہے۔
یہ ایک بہترین، خوش ذائقہ اور طاقتور گوشت ہے لیکن ہمارے ہاں جو برائلر مرغی کا رواج ہے اس میں نہ لذت ہے اور نہ طاقت، یہ بے چارہ اپنا بوجھ نہیں اٹھا سکتا اس نے دوسرے کو کیا طاقت فراہم کرنی ہے۔
(2)
بہرحال مرغی حلال ہے اور جو لوگ زہد و تقویٰ کی وجہ سے اسے مکروہ خیال کرتے ہیں ان کی کراہت کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
واللہ المستعان
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5517]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1826
مرغی کھانے کا بیان۔
زہدم جرمی کہتے ہیں کہ میں ابوموسیٰ کے پاس گیا، وہ مرغی کھا رہے تھے، کہا: قریب ہو جاؤ اور کھاؤ اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے کھاتے دیکھا ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1826]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہواکہ دوست کے گھر اس کے کھانے کے وقت میں جانا صحیح ہے،
نیز کھانے والے کوچاہیے کہ آنے والے مہمان کو اپنے ساتھ کھانے میں شریک کرے،
اگر چہ کھانے کی مقدارکم ہو،
اس لیے کہ اجتماعی شکل میں کھانا نزول برکت کا سبب ہے،
یہ بھی معلوم ہواکہ مرغ کا گوشت حلا ل ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1826]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1827
مرغی کھانے کا بیان۔
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مرغ کا گوشت کھاتے دیکھا۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1827]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ابراہیم بن عمربن سفینہ بُریہ مجہول الحال راوی ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1827]