🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب ما جاء في حق الجوار
باب: پڑوسی کے حقوق کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1943
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ شَابُورَ، وَبَشِيرٍ أبي إسماعيل، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ذُبِحَتْ لَهُ شَاةٌ فِي أَهْلِهِ، فَلَمَّا جَاءَ قَالَ: أَهْدَيْتُمْ لِجَارِنَا الْيَهُودِيِّ؟ أَهْدَيْتُمْ لِجَارِنَا الْيَهُودِيِّ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ "، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَنَسٍ، وَالْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَأَبِي شُرَيْحٍ، وَأَبِي أُمَامَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْضًا.
مجاہد سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کے لیے ان کے گھر میں ایک بکری ذبح کی گئی، جب وہ آئے تو پوچھا: کیا تم لوگوں نے ہمارے یہودی پڑوسی کے گھر (گوشت کا) ہدیہ بھیجا؟ کیا تم لوگوں نے ہمارے یہودی پڑوسی کے گھر ہدیہ بھیجا ہے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: مجھے جبرائیل علیہ السلام پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی ہمیشہ تاکید کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ یہ اسے وارث بنا دیں گے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے،
۲- یہ حدیث مجاہد سے عائشہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہما کے واسطہ سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے،
۳- اس باب میں عائشہ، ابن عباس، ابوہریرہ، انس، مقداد بن اسود، عقبہ بن عامر، ابوشریح اور ابوامامہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1943]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الأدب 132 (5152) (تحفة الأشراف: 8919) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: پڑوسی تین قسم کے ہیں: ایک پڑوسی وہ ہے جو غیر مسلم ہے یعنی کافر و مشرک اور یہودی، نصرانی، مجوسی وغیرہ، اسے صرف پڑوس میں رہنے کا حق حاصل ہے، دوسرا وہ پڑوسی ہے جو مسلم ہے، اسے اسلام اور پڑوس میں رہنے کے سبب ان دونوں کا حق حاصل ہے، ایک تیسرا پڑوسی وہ ہے جو مسلم بھی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ رشتہ ناتے والا بھی ہے، ایسے پڑوسی کو اسلام، رشتہ داری اور پڑوس میں رہنے کے سبب تینوں حقوق حاصل ہیں، ایسے ہی مسافر بھی پڑوسی ہے اس کے ساتھ اس تعلق سے بھی حقوق ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الإرواء (891)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج
Newمجاهد بن جبر القرشي ← عبد الله بن عمرو السهمي
ثقة إمام في التفسير والعلم
👤←👥بشير بن سلمان النهدي، أبو إسماعيل
Newبشير بن سلمان النهدي ← مجاهد بن جبر القرشي
ثقة
👤←👥داود بن شابور المكي، أبو سليمان
Newداود بن شابور المكي ← بشير بن سلمان النهدي
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← داود بن شابور المكي
ثقة حافظ حجة
👤←👥محمد بن عبد الأعلى القيسي، أبو صدقة، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبد الأعلى القيسي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1943
ما زال جبريل يوصيني بالجار حتى ظننت أنه سيورثه
سنن أبي داود
5152
ما زال جبريل يوصيني بالجار حتى ظننت أنه سيورثه
مسندالحميدي
604
ما زال جبريل عليه السلام يوصيني بالجار حتى ظننت أنه سيورثه
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1943 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ترمذي 1943
قربانی کا گوشت اور غیر مسلم؟
تحریر: محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
— سوال —
قربانی کا گوشت غیر مسلم لوگوں کو دیا جا سکتا ہے یا نہیں؟
— الجواب —
قربانی کے گوشت کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿فَكُلُوْا مِنْهَا وَاَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيْرَ﴾
پس اس سے کھاؤ اور فاقہ کش فقیر کو کھلاؤ۔
(الحج: 28)
اور فرمایا:
﴿فَكُلُوْا مِنْهَا وَاَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ﴾
پس اس میں سے کھاؤ اور امیر و غریب کو کھلاؤ۔
(الحج:36)
ان آیات سے ثابت ہوا کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کرنا، خود کھانا، امیروں مثلًا رشتہ داروں اور دوستوں کو کھلانا اور غریبوں کو کھلانا بالکل صحیح ہے اور چونکہ قربانی تقربِ الٰہی و عبادت ہے، لہٰذا بہتر یہی ہے کہ قربانی کا گو شت صرف مسلمانوں کو کھلایا جائے۔
اگر تالیفِ قلب کا معاملہ ہو تو پھر سورۃ التوبہ کی آیت نمبر 60 کی رُو سے اُن کا فروں کو یہ گو شت کھلانا جائز ہے جو اسلام کے معاند دشمن نہیں بلکہ نرمی والا سلوک رکھتے ہیں۔
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے گھر میں ایک بکری ذبح کی گئی، پھر وہ جب آئے تو کہا: کیا تم نے (اس میں سے) ہمارے یہودی پڑوسی کو بھی بھیجا ہے؟
آپ نے یہ بات دو دفعہ فرمائی اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
«مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِيْ بِالجَارِ حَتَّي ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ»
جبریل مجھے مسلسل پڑوسی کے بارے میں کہتے رہے، حتی کہ میں نے سمجھا کہ وہ اسے وارث بنا دیں گے۔
(سنن ترمذی: 1943، مسند حمیدی: 593، وسندہ صحیح)
معلوم ہوا کہ تالیفِ قلب اور پڑوسی وغیرہ ہونے کی وجہ سے غیر مسلم کو بھی قربانی کا گوشت دیا جا سکتا ہے۔
……… اصل مضمون ………
اصل مضمون کے لئے دیکھئے فتاویٰ علمیہ المعروف توضیح الاحکام (جلد 3 صفحہ 281 اور 282) للشیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
[تحقیقی و علمی مقالات للشیخ زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 1943]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1943
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
پڑوسی تین قسم کے ہیں:
ایک پڑوسی وہ ہے جو غیرمسلم ہے یعنی کافرو مشرک اور یہودی،
نصرانی،
مجوسی وغیرہ،
اسے صرف پڑوس میں رہنے کا حق حاصل ہے،

دوسرا وہ پڑوسی ہے جو مسلم ہے،
اسے اسلام اور پڑوس میں رہنے کے سبب ان دونوں کا حق حاصل ہے،

ایک تیسرا پڑوسی وہ ہے جو مسلم بھی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ رشتہ ناتے والا بھی ہے،
ایسے پڑوسی کو اسلام،
رشتہ داری اور پڑوس میں رہنے کے سبب تینوں حقوق حاصل ہیں،
ایسے ہی مسافربھی پڑوسی ہے اس کے ساتھ اس تعلق سے بھی حقوق ہیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1943]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5152
پڑوسی کے حق کا بیان۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک بکری ذبح کی تو (گھر والوں) سے کہا: کیا تم لوگوں نے میرے یہودی پڑوسی کو ہدیہ بھیجا (نہ بھیجا ہو تو بھیج دو) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے تھے: جبرائیل مجھے برابر پڑوسی، کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت فرماتے رہے یہاں تک کہ مجھے گمان گزرا کہ وہ اسے وارث بنا دیں گے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5152]
فوائد ومسائل:
ہمسایہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو اس کے ساتھ حسن سلوک کرنا شرعی فریضہ ہے علماء کا بیان ہے کہ غیر مسلم ہمسائے کا صرف ایک حق ہے۔
یعنی حق ہمسائیگی اور مسلمان ہمسائے کے دو حق ہیں۔
ایک حق ہمسایئگی دوسرا حق اسلام جب کہ مسلمان رشتہ دار ہمسائے کے تین حق ہوتے ہیں۔
حق ہمسائیگی حق اسلام اور حق قرابت
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5152]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 1943 in Urdu