علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
65. باب ما جاء في الحياء
باب: شرم و حیاء کا بیان۔
حدیث نمبر: 2009
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ، وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ، وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي بَكْرَةَ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیاء ایمان کا ایک جزء ہے اور ایمان والے جنت میں جائیں گے اور بےحیائی کا تعلق ظلم سے ہے اور ظالم جہنم میں جائیں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابن عمر، ابوبکرہ، ابوامامہ اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2009]
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابن عمر، ابوبکرہ، ابوامامہ اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2009]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 15040، و 15053، و15088) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جس طرح ایمان صاحب ایمان کو گناہوں سے روکنے کا سبب ہے، اسی طرح حیاء انسان کو معصیت اور گناہوں سے بچاتا ہے، بلکہ اس کے لیے ایک طرح کی ڈھال ہے، اسی وجہ سے حیاء کو ایمان کا جزء کہا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (495) ، الروض النضير (746)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2009
| الحياء من الإيمان الإيمان في الجنة البذاء من الجفاء الجفاء في النار |
سنن النسائى الصغرى |
5009
| الحياء شعبة من الإيمان |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2009 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2009
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
جس طرح ایمان صاحب ایمان کو گناہوں سے روکنے کاسبب ہے،
اسی طرح حیاء انسان کو معصیت اورگناہوں سے بچاتا ہے،
بلکہ اس کے لیے ایک طرح کی ڈھال ہے،
اسی وجہ سے حیاء کو ایمان کا جزء کہاگیا ہے۔
وضاحت:
1؎:
جس طرح ایمان صاحب ایمان کو گناہوں سے روکنے کاسبب ہے،
اسی طرح حیاء انسان کو معصیت اورگناہوں سے بچاتا ہے،
بلکہ اس کے لیے ایک طرح کی ڈھال ہے،
اسی وجہ سے حیاء کو ایمان کا جزء کہاگیا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2009]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5009
ایمان کی شاخوں کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیاء (شرم) ایمان کی ایک شاخ ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5009]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیاء (شرم) ایمان کی ایک شاخ ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5009]
اردو حاشہ:
حیا و خصلت ہے جو انسان کو قبیح باتوں اور کاموں سے روکتی ہے تا کہ رسوائی نہ ہو۔ لیکن حیا شریعت کے مطابق ہونی چاہئیے، مثلا: طلب علم، حق گوئی اور نیک کام میں حیا نہیں ہونی چاہیئے۔ اس حدیث میں حیا کا خصوصی ذکر ہے اس لیے ہے کہ حیا ہرنیکی کرنے اور برائی سے اجتناب کا سبب بنتی ہے جیسا کہ ایک دوسری روایت میں ہے کہ حیا جس چیز میں بھی ہو، اسے مزین اور خوب صورت بنا دیتی ہے اور جس چیز سےنکل جائے وہ قبیح بن جاتی ہے۔ (مسند احمد:3/165،وسنن ابن ماجہ،الزھد،حدیث:4185)
حیا و خصلت ہے جو انسان کو قبیح باتوں اور کاموں سے روکتی ہے تا کہ رسوائی نہ ہو۔ لیکن حیا شریعت کے مطابق ہونی چاہئیے، مثلا: طلب علم، حق گوئی اور نیک کام میں حیا نہیں ہونی چاہیئے۔ اس حدیث میں حیا کا خصوصی ذکر ہے اس لیے ہے کہ حیا ہرنیکی کرنے اور برائی سے اجتناب کا سبب بنتی ہے جیسا کہ ایک دوسری روایت میں ہے کہ حیا جس چیز میں بھی ہو، اسے مزین اور خوب صورت بنا دیتی ہے اور جس چیز سےنکل جائے وہ قبیح بن جاتی ہے۔ (مسند احمد:3/165،وسنن ابن ماجہ،الزھد،حدیث:4185)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5009]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 2009 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي