سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
66. باب ما جاء في التأني والعجلة
باب: سوچ سمجھ کر کام کرنے کا ذکر اور جلد بازی نہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2011
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ: " إِنَّ فِيكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ: الْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَفِي الْبَابِ عَنِ الْأَشَجِّ الْعَصَرِيِّ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منذر بن عائذ اشج عبدالقیس سے فرمایا: ”تمہارے اندر دو خصلتیں (خوبیاں) ایسی ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں: بردباری اور غور و فکر کی عادت ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے،
۲- اس باب میں اشج عصری سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2011]
۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے،
۲- اس باب میں اشج عصری سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2011]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الزہد 18 (4188) (تحفة الأشراف: 6531) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: معلوم ہوا کہ انسان کو کوئی بھی کام سوچ سمجھ کرنا چاہیئے، جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیئے اور آدمی کو بردباری اور حلیم و صابر ہونا چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (4188)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2011
| فيك خصلتين يحبهما الله الحلم والأناة |
سنن ابن ماجه |
4188
| فيك خصلتين يحبهما الله الحلم والحياء |
المعجم الصغير للطبراني |
708
| فيك خصلتين يحبهما الله الحلم والأناة |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2011 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2011
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
معلوم ہواکہ انسان کو کوئی بھی کام سوچ سمجھ کرنا چاہیے،
جلدبازی سے کام نہیں لینا چاہیے اور آدمی کو بردباری اور حلیم وصابر ہونا چاہیے۔
وضاحت:
1؎:
معلوم ہواکہ انسان کو کوئی بھی کام سوچ سمجھ کرنا چاہیے،
جلدبازی سے کام نہیں لینا چاہیے اور آدمی کو بردباری اور حلیم وصابر ہونا چاہیے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2011]
نصر بن عمران الضبعي ← عبد الله بن العباس القرشي