🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب ما جاء في إبطال ميراث ولد الزنا
باب: ولد الزنا کی میراث باطل ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2113
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ عَاهَرَ بِحُرَّةٍ أَوْ أَمَةٍ، فَالْوَلَدُ وَلَدُ زِنَا لَا يَرِثُ وَلَا يُورَثُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَوَى غَيْرُ ابْنِ لَهِيعَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ: أَنَّ وَلَدَ الزِّنَا لَا يَرِثُ مِنْ أَبِيهِ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی آزاد عورت یا کسی لونڈی کے ساتھ زنا کرے تو (اس سے پیدا ہونے والا) لڑکا ولد الزنا ہو گا، نہ وہ (اس زانی کا) وارث ہو گا۔ نہ زانی (اس کا) وارث ہو گا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابن لہیعہ کے علاوہ دوسرے لوگوں نے بھی اس حدیث کو عمرو بن شعیب سے روایت کیا ہے،
۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ ولد الزنا اپنے باپ کا وارث نہیں ہو گا۔ [سنن ترمذي/كتاب الفرائض عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2113]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 8731) (حسن صحیح) (سند میں عبداللہ بن لھیعہ ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، المشكاة (3054 / التحقيق الثانى)
قال الشيخ زبير على زئي:(2113) إسناده ضعيف / جه 2745
عبدالله بن لھيعة ضعيف مدلس (تقدم: 10)
وللحديث شاھد ضعيف عند ابن حبان فى صحيحه (5964)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥شعيب بن محمد السهمي
Newشعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عمرو بن شعيب القرشي، أبو إبراهيم، أبو عبد الله
Newعمرو بن شعيب القرشي ← شعيب بن محمد السهمي
ثقة
👤←👥عبد الله بن لهيعة الحضرمي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن لهيعة الحضرمي ← عمرو بن شعيب القرشي
ضعيف الحديث
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← عبد الله بن لهيعة الحضرمي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2113
أيما رجل عاهر بحرة أو أمة فالولد ولد زنا لا يرث ولا يورث
سنن ابن ماجه
2745
من عاهر أمة أو حرة فولده ولد زنا لا يرث ولا يورث
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2113 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2113
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں عبداللہ بن لھیعہ ضعیف راوی ہیں،
لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2113]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2745
بچے کا دعویٰ کرنا اس کے حکم کا بیان۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کسی لونڈی یا آزاد عورت سے زنا کیا، پھر اس سے بچہ پیدا ہوا تو وہ ولدالزنا ہے، نہ وہ مرد اس بچے کا وارث ہو گا، نہ وہ بچہ اس مرد کا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2745]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  ترکہ وغیرہ کے مسائل میں شرعی طور پر اسی نسب کا اعتبار ہے جس کی بنیاد نکاح کے شرعی تعلق پر ہو۔
زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ اگرچہ حقیقت میں زانی کا بیٹا ہے لیکن اس کا یہ رشتہ قانونی طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ اس کے مرنے کی صورت میں یہ شخص اس کا وارث بن سکتا ہے۔

(2)
ماں کا رشتہ ثابت ہونے میں تعلق کے جائز یا ناجائز ہونے سے فرق نہیں پڑتا، اس لیے ناجائز بچہ اور اس کی ماں کے درمیان وراثت کا تعلق قائم ہوتا ہے۔
اسی طرح ننھیالی رشتے داروں سے بھی اس کا وراثت کا تعلق قائم رہتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2745]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 2113 in Urdu