🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب ما جاء في الرجل يتصدق أو يعتق عند الموت
باب: مرتے وقت صدقہ کرنے والے اور غلام آزاد کرنے والے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2123
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ الطَّائِيِّ، قَالَ: أَوْصَى إِلَيَّ أَخِي بِطَائِفَةٍ مِنْ مَالِهِ فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَقُلْتُ: إِنَّ أَخِي أَوْصَى إِلَيَّ بِطَائِفَةٍ مِنْ مَالِهِ فَأَيْنَ تَرَى لِي وَضْعَهُ فِي الْفُقَرَاءِ أَوِ الْمَسَاكِينِ أَوِ الْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ: أَمَّا أَنَا فَلَوْ كُنْتُ لَمْ أَعْدِلْ بِالْمُجَاهِدِينَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَثَلُ الَّذِي يَعْتِقُ عِنْدَ الْمَوْتِ، كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي إِذَا شَبِعَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوحبیبہ طائی کہتے ہیں کہ میرے بھائی نے اپنے مال کے ایک حصہ کی میرے لیے وصیت کی، میں نے ابو الدرداء رضی الله عنہ سے ملاقات کی اور کہا: میرے بھائی نے اپنے مال کے ایک حصہ کی میرے لیے وصیت کی ہے، آپ کی کیا رائے ہے؟ میں اسے کہاں خرچ کروں، فقراء میں، مسکینوں میں یا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں میں؟ انہوں نے کہا: میری بات یہ ہے کہ اگر تمہاری جگہ میں ہوتا تو مجاہدین کے برابر کسی کو نہ سمجھتا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو شخص مرتے وقت غلام آزاد کرتا ہے اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جو آسودہ ہونے کے بعد ہدیہ کرتا ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الوصايا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2123]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ العتق 15 (3968)، سنن النسائی/الوصایا 1 (3616) (تحفة الأشراف: 10970)، و مسند احمد (5/197)، (6/447) (ضعیف) (سند میں ابو حبیبہ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، الضعيفة (1322) ، المشكاة (1871 / التحقيق الثاني)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عويمر بن مالك الأنصاري، أبو الدرداءصحابي
👤←👥أبو حبيبة الطائي، أبو حبيبة
Newأبو حبيبة الطائي ← عويمر بن مالك الأنصاري
مقبول
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← أبو حبيبة الطائي
ثقة مكثر
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← أبو إسحاق السبيعي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد
Newعبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري
ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
3644
مثل الذي يعتق يتصدق عند موته مثل الذي يهدي بعدما يشبع
جامع الترمذي
2123
مثل الذي يعتق عند الموت كمثل الذي يهدي إذا شبع
سنن أبي داود
3968
مثل الذي يعتق عند الموت كمثل الذي يهدي إذا شبع
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2123 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2123
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ابوحبیبہ لین الحدیث ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2123]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3644
وصیت میں تاخیر مکروہ اور ناپسندیدہ کام ہے۔
ابوحبیبہ طائی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کچھ دینار اللہ کی راہ میں دینے کی وصیت کی۔ تو ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی کہ آپ نے فرمایا: جو شخص اپنی موت کے وقت غلام آزاد کرتا ہے یا صدقہ و خیرات دیتا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص پیٹ بھر کھا لینے کے بعد (بچا ہوا) کسی کو ہدیہ دیدے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3644]
اردو حاشہ:
(1) فاضل محقق کی تحقیق کے مطابق اس روایت کی سند حسن ہے‘ لیکن اس سند کو حسن کہنا محل نظر ہے کیونکہ اس کی سند میں ابوحبیبہ نامی راوی مجہول ہے‘ تاہم شواہد کی بنا پر بعض علماء نے اس روایت کو حسن قراردیا ہے۔ دیکھیے: (ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 30/86)
(2) مقصد یہ ہے کہ موت کے وقت صدقہ ثواب کے لحاظ سے صحت کے وقت کے صدقے سے کمتر ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ اس کا کوئی ثواب یا فائدہ نہیں کیونکہ ہر نیکی تو ہر وقت ہی مفید ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3644]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3968
صحت و تندرستی کی حالت میں غلام آزاد کرنے کی فضیلت۔
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مرتے وقت غلام آزاد کرے تو اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی آسودہ ہو جانے کے بعد ہدیہ دے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3968]
فوائد ومسائل:
اگرچہ موت کے قریب تہائی مال تک کا صدقہ یا وصیت کرنا جائز ہے، مگر افضل یہ ہے جیسے کہ صیح بخاری میں ہے: حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کےرسول صدقہ کونسا افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: تواس حال میں صدقہ کرے کہ تو صحت مند ہو حریص ہو (یعنی زندگی اور مال کا) غنی رہنا چاہتا ہوں اور فقیر ہوجانے سے ڈرتا ہواور صدقہ کرنے میں سستی نہ کرے کہ جب جان حلق میں آن اٹکے تو کہنے لگے فلاں کے لئے اتنا ہے اور فلاں کےلئے اس قدر حالانکہ وہ تو(حق وارثت کی وجہ سے) فلاں کا ہوچکا۔
قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے: (اہل ایمان دوسرے حاجت مندوں کو) اپنے سے ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں خوداحتیاج ہوتی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3968]