🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب ما جاء لا يحل لمسلم أن يروع مسلما
باب: ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کو ڈرانا دھمکانا ناجائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2160
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَأْخُذْ أَحَدُكُمْ عَصَا أَخِيهِ لَاعِبًا أَوْ جَادًّا، فَمَنْ أَخَذَ عَصَا أَخِيهِ فَلْيَرُدَّهَا إِلَيْهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدَ، وَجَعْدَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، وَالسَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ لَهُ صُحْبَةٌ قَدْ سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ وَهُوَ غُلَامٌ، وَقُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ، وَوَالِدُهُ يَزِيدُ بْنُ السَّائِبِ لَهُ أَحَادِيثُ، هُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالسَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ هُوَ ابْنُ أُخْتِ نَمِرٍ.
یزید بن سائب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص کھیل کود میں ہو یا سنجیدگی میں اپنے بھائی کی لاٹھی نہ لے اور جو اپنے بھائی کی لاٹھی لے، تو وہ اسے واپس کر دے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف ابن ابی ذئب ہی کی روایت سے جانتے ہیں،
۲- سائب بن یزید کو شرف صحبت حاصل ہے بچپن میں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی حدیثیں سنی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت ان کی عمر سات سال تھی، ان کے والد یزید بن سائب ۱؎ کی بہت ساری حدیثیں ہیں، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیثیں روایت کی ہیں، سائب بن یزید نمر کے بہن کے بیٹے ہیں،
۳- اس باب میں ابن عمر، سلیمان بن صرد، جعدہ، اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2160]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الأدب 93 (5003) (تحفة الأشراف: 11827)، و مسند احمد (4/221) (صحیح لغیرہ)»
وضاحت: ۱؎: ان کا نام یزید بن سعید ہے، انہیں یزید بن سائب رضی الله عنہ بھی کہا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن، المشكاة (2948) ، الإرواء (1518)


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥يزيد بن سعيد الكنديصحابي
👤←👥السائب بن يزيد الكندي، أبو يزيد
Newالسائب بن يزيد الكندي ← يزيد بن سعيد الكندي
صحابي صغير
👤←👥عبد الله بن السائب الكندي، أبو محمد
Newعبد الله بن السائب الكندي ← السائب بن يزيد الكندي
ثقة
👤←👥محمد بن أبي ذئب العامري، أبو الحارث
Newمحمد بن أبي ذئب العامري ← عبد الله بن السائب الكندي
ثقة فقيه فاضل
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← محمد بن أبي ذئب العامري
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2160
لا يأخذ أحدكم عصا أخيه لاعبا أو جادا من أخذ عصا أخيه فليردها إليه
سنن أبي داود
5003
لا يأخذن أحدكم متاع أخيه لاعبا ولا جادا من أخذ عصا أخيه فليردها
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2160 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2160
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ان کا نام یزید بن سعید ہے،
انہیں یزید بن سائب رضی اللہ عنہ بھی کہا جاتا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2160]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5003
ہنسی مذاق میں کوئی کسی کی چیز لے لے تو کیسا ہے؟
یزید بن سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا سامان (بلا اجازت) نہ لے نہ ہنسی میں اور نہ ہی حقیقت میں ۱؎۔‏‏‏‏ سلیمان کی روایت میں ( «لاعبا ولا جادا‏"‏» کے بجائے) «لعبا ولا جدا» ہے، اور جو کوئی اپنے بھائی کی لاٹھی لے تو چاہیئے کہ (ضرورت پوری کر کے) اسے لوٹا دے۔ ابن بشار نے صرف عبداللہ بن سائب کہا ہے ابن یزید کا اضافہ نہیں کیا ہے اور (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، کہنے کے بجائے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5003]
فوائد ومسائل:
مسلمان کی جان ومال اورعزت وآبرو انتہائی محترم ومحفوظ چیزیں ہیں۔
ہنسی مزاح میں بھی کسی کی ہتک کر دینا یا مال ہڑپ کر لینا حرام ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5003]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 2160 in Urdu