🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
72. باب منه
باب: خراب حاکم سے متعلق پیش گوئی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2259
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ تِسْعَةٌ: خَمْسَةٌ، وَأَرْبَعَةٌ، أَحَدُ الْعَدَدَيْنِ مِنَ الْعَرَبِ، وَالْآخَرُ مِنَ الْعَجَمِ، فَقَالَ: اسْمَعُوا، " هَلْ سَمِعْتُمْ أَنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ، وَلَيْسَ بِوَارِدٍ عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ وَارِدٌ عَلَيَّ الْحَوْضَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ مِسْعَرٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکلے اور ہم لوگ نو آدمی تھے، پانچ اور چار، ان میں سے کوئی ایک گنتی والے عرب اور دوسری گنتی والے عجم تھے ۱؎ آپ نے فرمایا: سنو: کیا تم لوگوں نے سنا؟ میرے بعد ایسے امراء ہوں گے جو ان کے پاس جائے ان کی جھوٹی باتوں کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے، وہ مجھ سے نہیں ہے اور نہ میں اس سے ہوں اور نہ وہ میرے حوض پر آئے گا، اور جو شخص ان کے پاس نہ جائے، ان کے ظلم پر ان کی مدد نہ کرے اور نہ ان کی جھوٹی باتوں کی تصدیق کرے، وہ مجھ سے ہے، اور میں اس سے ہوں اور وہ میرے حوض پر آئے گا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث صحیح غریب ہے،
۲- ہم اسے مسعر کی روایت سے اسی سند سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2259]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/البیعة 35 (4212)، و 36 (4213) (تحفة الأشراف: 11110)، و مسند احمد (4/243) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی راوی کو شک ہے کہ عربوں کی تعداد پانچ تھی، اور عجمیوں کی چار یا اس کے برعکس تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح مضى بزيادة فى متنه (617)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥كعب بن عجرة الأنصاري، أبو محمد، أبو إسحاق، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥عاصم العدوي
Newعاصم العدوي ← كعب بن عجرة الأنصاري
ثقة
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← عاصم العدوي
ثقة
👤←👥عثمان بن عاصم الأسدي، أبو الحصين
Newعثمان بن عاصم الأسدي ← عامر الشعبي
ثقة ثبت سنى
👤←👥مسعر بن كدام العامري، أبو سلمة
Newمسعر بن كدام العامري ← عثمان بن عاصم الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن عبد الوهاب السكري، أبو يحيى
Newمحمد بن عبد الوهاب السكري ← مسعر بن كدام العامري
ثقة
👤←👥هارون بن إسحاق الهمداني، أبو القاسم
Newهارون بن إسحاق الهمداني ← محمد بن عبد الوهاب السكري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2259
سيكون بعدي أمراء من دخل عليهم صدقهم بكذبهم أعانهم على ظلمهم ليس مني ولست منه ليس بوارد علي الحوض من لم يدخل عليهم لم يعنهم على ظلمهم لم يصدقهم بكذبهم هو مني وأنا منه هو وارد علي الحوض
المعجم الصغير للطبراني
783
أمراء يكونون بعدي من دخل عليهم صدقهم بكذبهم وأعانهم على ظلمهم فليس مني ولست منه ولن يرد على الحوض ومن لم يدخل عليهم ولم يصدقهم بكذبهم ولم يعنهم على ظلمهم فذاك مني وأنا منه وسيرد على الحوض لا يدخل الجنة لحم نبت من سحت
المعجم الصغير للطبراني
772
ستكون بعدي أمراء وصفهم بالجور من دخل عليهم صدقهم بكذبهم أعانهم على فجورهم ليس مني ولست منه لا يرد على الحوض من لم يدخل عليهم لم يصدقهم بكذبهم لم يعنهم على فجورهم هو مني وأنا منه يرد على الحوض حق للحم نبت من سحت أن لا يدخل الجنة النار أولى به
سنن النسائى الصغرى
4212
ستكون بعدي أمراء من صدقهم بكذبهم أعانهم على ظلمهم ليس مني ولست منه ليس بوارد علي الحوض من لم يصدقهم بكذبهم لم يعنهم على ظلمهم هو مني وأنا منه هو وارد علي الحوض
سنن النسائى الصغرى
4213
ستكون بعدي أمراء من دخل عليهم صدقهم بكذبهم أعانهم على ظلمهم ليس مني ولست منه ليس يرد علي الحوض من لم يدخل عليهم لم يصدقهم بكذبهم لم يعنهم على ظلمهم هو مني وأنا منه سيرد علي الحوض
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2259 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2259
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی راوی کو شک ہے کہ عربوں کی تعداد پانچ تھی،
اور عجمیوں کی چار یا اس کے برعکس تھے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2259]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4212
ظلم میں امیر کی مدد کرنے والے پر وعید کا بیان۔
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، ہم نو لوگ تھے، آپ نے فرمایا: میرے بعد کچھ امراء ہوں گے، جو ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ظلم میں ان کی مدد کرے گا وہ میرا نہیں اور نہ میں اس کا ہوں، اور نہ ہی وہ (قیامت کے دن) میرے پاس حوض پہ آ سکے گا۔ اور جس نے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہیں کی اور ظلم میں ان کی مدد نہیں کی تو وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں اور وہ میرے پاس حوض پر آئے گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4212]
اردو حاشہ:
(1) باب کے ساتھ حدیث کی مناسبت واضح ہے کہ جو شخص، کسی بھی طریقے سے، حاکم و امیر کے ظلم پر اس کی حمایت و اعانت کرے گا، اس کے لیے یہ خطرناک وعید ہے کہ وہ حوض کوثر پر آنے اور جامِ کوثر نوش کرنے کی سعادت سے محروم ہو جائے گا، لہٰذا اس وعید شدید کو مدنظر رکھتے ہوئے ظالم حکمرانوں کے حضور اپنی بزرگانہ و مشفقانہ، نیز عالمانہ و فاضلانہ خدمات پیش کرنے کے عوض اسمبلی کی ممبری، پرمٹ و پلاٹ اور دیگر عارضی و فانی اور زوال پذیر مراعات حاصل کرنے اور ان کامیابیوں کو اپنا کمال ہنر سمجھنے والے، متلاشیانِ قربِ شاہی، درباری ملاؤں اور اصحاب جبہ و دستار کو بھی اپنی سنہری خدمات کا ازسر نو جائزہ ضرور لینا چاہیے۔ ظلم و ناانصافی والے معاملے میں حاکم و امیر کی مدد کرنا کبیرہ گناہ ہے۔
(2) ظالم حکمرانوں اور بے انصاف امراء سے فاصلہ رکھنا چاہیے تاکہ ان کے شر سے اپنے دین و ایمان کو سلامت رکھا جا سکے۔ ان سے قرب کی صورت میں یا تو ان کے ظلم و زیادتی پر، کسی بھی انداز سے، انہیں تعاون ملے گا یا ان کی تائید ہو گی یا پھر ظلم و زیادتی پر خاموشی اور سکوت کرنا پڑے گا، اور اصلاح کی صورت میں اپنے دین و ایمان کے فساد یا اپنی جان و مال کے اتلاف کا خطرہ ہے، اس لیے عافیت، اور سلامتی ان لوگوں سے دور رہنے ہی میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر سلف صلاح حکمرانوں سے دور ہی رہا کرتے تاکہ ان کے شر سے اپنے آپ کو اور اپنے دین کو محفوظ رکھ سکیں۔
(3)تصدیق نہ کرے یعنی ان کے پاس جائے تو سہی مگر حق پر قائم رہے اور انہیں بھی حق کی طرف دعوت دیتا رہے۔ واقعتا یہ بلند مرتبہ ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4212]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2259M
قَالَ هَارُونُ: فَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
ہارون کہتے ہیں کہ ہم سے محمد بن عبدالوہاب نے «عن سفيان عن أبي حصين عن الشعبي عن عاصم العدوي عن كعب بن عجرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث بیان کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2259M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح مضى بزيادة فى متنه (617)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥كعب بن عجرة الأنصاري، أبو محمد، أبو إسحاق، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥عاصم العدوي
Newعاصم العدوي ← كعب بن عجرة الأنصاري
ثقة
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← عاصم العدوي
ثقة
👤←👥عثمان بن عاصم الأسدي، أبو الحصين
Newعثمان بن عاصم الأسدي ← عامر الشعبي
ثقة ثبت سنى
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← عثمان بن عاصم الأسدي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥محمد بن عبد الوهاب السكري، أبو يحيى
Newمحمد بن عبد الوهاب السكري ← سفيان الثوري
ثقة
👤←👥هارون بن إسحاق الهمداني، أبو القاسم
Newهارون بن إسحاق الهمداني ← محمد بن عبد الوهاب السكري
ثقة
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2259M
قَالَ هَارُونُ: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَلَيْسَ بِالنَّخَعِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ مِسْعَرٍ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ حُذَيْفَةَ، وَابْنِ عُمَرَ.
ہارون کہتے ہیں کہ ہم ہم سے محمد نے «عن سفيان عن زبيد عن إبراهيم وليس بالنخعي عن كعب بن عجرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مسعر کی حدیث جیسی حدیث بیان کی ہے، اور ابراہیم سے مراد ابراہیم نخعی نہیں ہیں۔ اس باب میں حذیفہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی حدیث مروی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2259M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انطر ماقبلہ (تحفة الأشراف: 11106) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح مضى بزيادة فى متنه (617)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥كعب بن عجرة الأنصاري، أبو محمد، أبو إسحاق، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥إبراهيم
Newإبراهيم ← كعب بن عجرة الأنصاري
مجهول
👤←👥زبيد بن الحارث اليامي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newزبيد بن الحارث اليامي ← إبراهيم
ثقة ثبت
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← زبيد بن الحارث اليامي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥محمد بن عبد الوهاب السكري، أبو يحيى
Newمحمد بن عبد الوهاب السكري ← سفيان الثوري
ثقة
👤←👥هارون بن إسحاق الهمداني، أبو القاسم
Newهارون بن إسحاق الهمداني ← محمد بن عبد الوهاب السكري
ثقة