پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب منه
باب: امت محمدیہ کے اہل کبائر کی شفاعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2435
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وفي الباب عن جَابِرٍ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ والوں کے لیے ہو گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے،
۲- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2435]
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے،
۲- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2435]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 481) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی میری امت کے جو اہل کبائر ہوں گے اور جو اپنے گناہوں کی سزا جہنم میں بھگت رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی بخشش کے لیے میری مخصوص شفاعت ہو گی، باقی رفع درجات کے لیے انبیاء، اولیاء، اور دیگر متقی و پرہیزگار لوگوں کی شفاعت بھی ہو گی جو سنی جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، المشكاة (5599) ، الظلال (831 - 832) ، الروض النضير (65)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6305
| جعلت دعوتي شفاعة لأمتي يوم القيامة |
صحيح مسلم |
494
| لكل نبي دعوة دعاها لأمته اختبأت دعوتي شفاعة لأمتي يوم القيامة |
جامع الترمذي |
2435
| شفاعتي لأهل الكبائر من أمتي |
سنن أبي داود |
4739
| شفاعتي لأهل الكبائر من أمتي |
المعجم الصغير للطبراني |
1097
| جعلت الشفاعة لأهل الكبائر من أمتي |
المعجم الصغير للطبراني |
1095
| شفاعتي لأهل الكبائر من أمتي يوم القيامة |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2435 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2435
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی میری امت کے جو اہل کبائر ہوں گے اور جو اپنے گناہوں کی سزا جہنم میں بھگت رہے ہوں گے،
ایسے لوگوں کی بخشش کے لیے میری مخصوص شفاعت ہوگی،
باقی رفع درجات کے لیے انبیاء،
اولیاء،
اور دیگر متقی و پرہیز گار لوگوں کی شفاعت بھی ہوگی جو سنی جائے گی۔
وضاحت:
1؎:
یعنی میری امت کے جو اہل کبائر ہوں گے اور جو اپنے گناہوں کی سزا جہنم میں بھگت رہے ہوں گے،
ایسے لوگوں کی بخشش کے لیے میری مخصوص شفاعت ہوگی،
باقی رفع درجات کے لیے انبیاء،
اولیاء،
اور دیگر متقی و پرہیز گار لوگوں کی شفاعت بھی ہوگی جو سنی جائے گی۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2435]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4739
شفاعت کا بیان۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری شفاعت ۱؎ میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہے ۲؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4739]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری شفاعت ۱؎ میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہے ۲؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4739]
فوائد ومسائل:
1: گناہ گاروں کو امید رکھنی چاہیے کہ ان کی سفارش ہوگی اور انہیں معاف کردیا جائے گا، مگر ساتھ ہی شدید خوف بھی چاہیے، کیو نکہ یہ بھی معلوم نہیں کہ کس گناہ گارکی شفاعت ہو گی اور کون اس سے محروم رہے گا یا کس کے بارے میں شفاعت ہوگی؟ کیونکہ یہ معاملہ سارے کا سارا االلہ رب العالمین کی اپنی مشیت پر ہے۔
اگر مشیت ہوئی تو فبہا ورنہ شدیدعقاب ہو گا۔
اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے: (إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ) (النساء٤٨) يقيناالله تعالی اپنے ساتھ شریک کیے جانےکو نہیں بخشا اوراس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے ارشاد ہے: (وَكَمْ مِنْ مَلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِنْ بَعْدِ أَنْ يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَرْضَى) (النجم: ٢٦) اورآسمانوں میں بہت سے فرشتے ہیں جن کی سفارش کچھ نفع نہیں دے سکتی مگر بعداس کے کہ اللہ تعالی جس کے لئے چاہے اور پسند فرمائے تو اجازت دے دے اس دن سفارش کچھ کام نہیں آئے گی، مگر جسے رحمن اجازت دےاور اس کی بات کو پسند فرمائے اور یہ لوگ صرف اہل توحید ہوں گے جن کے حق میں اللہ تعالی سفارش کرنے کی اجازت دے گا۔
2: اس خوشخبری کا مطلب یہ نہیں کہ انسان گناہوں کے ارتکاب میں جری ہو جائے بلکہ خوف کے پہلو کو غالب رکھنا چاہیے کیونکر میدان حشر کی تکلیف ناقابل برداشت ہو گی، جہنم تو اس سے بہت زیادہ سخت ہے۔
پھر یہ بھی معلوم نہیں کہ شفاعت قبول ہوتے ہوتے کتنی مدت لگ جائے۔
1: گناہ گاروں کو امید رکھنی چاہیے کہ ان کی سفارش ہوگی اور انہیں معاف کردیا جائے گا، مگر ساتھ ہی شدید خوف بھی چاہیے، کیو نکہ یہ بھی معلوم نہیں کہ کس گناہ گارکی شفاعت ہو گی اور کون اس سے محروم رہے گا یا کس کے بارے میں شفاعت ہوگی؟ کیونکہ یہ معاملہ سارے کا سارا االلہ رب العالمین کی اپنی مشیت پر ہے۔
اگر مشیت ہوئی تو فبہا ورنہ شدیدعقاب ہو گا۔
اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے: (إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ) (النساء٤٨) يقيناالله تعالی اپنے ساتھ شریک کیے جانےکو نہیں بخشا اوراس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے ارشاد ہے: (وَكَمْ مِنْ مَلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِنْ بَعْدِ أَنْ يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَرْضَى) (النجم: ٢٦) اورآسمانوں میں بہت سے فرشتے ہیں جن کی سفارش کچھ نفع نہیں دے سکتی مگر بعداس کے کہ اللہ تعالی جس کے لئے چاہے اور پسند فرمائے تو اجازت دے دے اس دن سفارش کچھ کام نہیں آئے گی، مگر جسے رحمن اجازت دےاور اس کی بات کو پسند فرمائے اور یہ لوگ صرف اہل توحید ہوں گے جن کے حق میں اللہ تعالی سفارش کرنے کی اجازت دے گا۔
2: اس خوشخبری کا مطلب یہ نہیں کہ انسان گناہوں کے ارتکاب میں جری ہو جائے بلکہ خوف کے پہلو کو غالب رکھنا چاہیے کیونکر میدان حشر کی تکلیف ناقابل برداشت ہو گی، جہنم تو اس سے بہت زیادہ سخت ہے۔
پھر یہ بھی معلوم نہیں کہ شفاعت قبول ہوتے ہوتے کتنی مدت لگ جائے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4739]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6305
6305. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےبیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”ہر نبی نے اللہ تعالٰی سے سوال کیا۔ یا فرمایا: ہر نبی کے لیے ایک مخصوص دعا تھی جو انہوں نے مانگی تو قبول ہوئی لیکن میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے محفوظ رکھی ہوئی ہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6305]
حدیث حاشیہ:
قال ابن بطال في ھذالحدیث بیان فضل نبینا صلی اللہ علیه وسلم۔
الخ یعنی اس حدیث میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان ہے جو آپ کو تمام رسولوں پر حاصل ہے کہ آپ نے اس مخصوص دعا کے لئے اپنے نفس پر ساری امت اوراپنے اہل بیت کے لئے ایثار فرمایا۔
نووی نے کہا کہ اس میں آ پ کی طرف سے امت پر کمال شفقت کا اظہار ہے اس میں ان پر بھی دلیل ہے کہ اہل سنت میں سے جو شخص توحید پر مرا وہ دوزخ میں ہمیشہ نہیں رہے گا اگر چہ وہ کبائر پراصرار کرتا ہوا مر جائے۔
(فتح الباري)
قال ابن بطال في ھذالحدیث بیان فضل نبینا صلی اللہ علیه وسلم۔
الخ یعنی اس حدیث میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان ہے جو آپ کو تمام رسولوں پر حاصل ہے کہ آپ نے اس مخصوص دعا کے لئے اپنے نفس پر ساری امت اوراپنے اہل بیت کے لئے ایثار فرمایا۔
نووی نے کہا کہ اس میں آ پ کی طرف سے امت پر کمال شفقت کا اظہار ہے اس میں ان پر بھی دلیل ہے کہ اہل سنت میں سے جو شخص توحید پر مرا وہ دوزخ میں ہمیشہ نہیں رہے گا اگر چہ وہ کبائر پراصرار کرتا ہوا مر جائے۔
(فتح الباري)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6305]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6305
6305. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےبیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”ہر نبی نے اللہ تعالٰی سے سوال کیا۔ یا فرمایا: ہر نبی کے لیے ایک مخصوص دعا تھی جو انہوں نے مانگی تو قبول ہوئی لیکن میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے محفوظ رکھی ہوئی ہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6305]
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"قیامت کے دن میری سفارش ہر اس شخص کے لیے قبول ہو گی جو میری امت سے اس حالت میں فوت ہوا ہو کہ اس نے اللہ کے ساتھ شرک نہ کیا ہو۔
" (صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 491 (199) (2)
اس حدیث میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برتری اور فضیلت کا بیان ہے جو انہیں تمام انبیاء علیہم السلام پر حاصل ہے کہ آپ نے اس مخصوص دعا کے لیے اپنی ذات پر تمام موحدین کو ترجیح دی۔
اس میں آپ کی طرف سے امت پر کمال شفقت کا بھی اظہار ہے۔
(3)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اہل سنت میں سے جو شخص توحید پر فوت ہوا ہو وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا اگرچہ وہ کبیرہ گناہوں پر اصرار ہی کیوں نہ کرتا ہو۔
(فتح الباري: 117/11)
واللہ اعلم
(1)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"قیامت کے دن میری سفارش ہر اس شخص کے لیے قبول ہو گی جو میری امت سے اس حالت میں فوت ہوا ہو کہ اس نے اللہ کے ساتھ شرک نہ کیا ہو۔
" (صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 491 (199) (2)
اس حدیث میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برتری اور فضیلت کا بیان ہے جو انہیں تمام انبیاء علیہم السلام پر حاصل ہے کہ آپ نے اس مخصوص دعا کے لیے اپنی ذات پر تمام موحدین کو ترجیح دی۔
اس میں آپ کی طرف سے امت پر کمال شفقت کا بھی اظہار ہے۔
(3)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اہل سنت میں سے جو شخص توحید پر فوت ہوا ہو وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا اگرچہ وہ کبیرہ گناہوں پر اصرار ہی کیوں نہ کرتا ہو۔
(فتح الباري: 117/11)
واللہ اعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6305]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 2435 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري