پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
58. باب منه
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 2512
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خَصْلَتَانِ مَنْ كَانَتَا فِيهِ كَتَبَهُ اللَّهُ شَاكِرًا صَابِرًا، وَمَنْ لَمْ تَكُونَا فِيهِ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ شَاكِرًا وَلَا صَابِرًا، مَنْ نَظَرَ فِي دِينِهِ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَهُ فَاقْتَدَى بِهِ، وَمَنْ نَظَرَ فِي دُنْيَاهُ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَهُ فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا فَضَّلَهُ بِهِ عَلَيْهِ، كَتَبَهُ اللَّهُ شَاكِرًا صَابِرًا، وَمَنْ نَظَرَ فِي دِينِهِ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَهُ وَنَظَرَ فِي دُنْيَاهُ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَهُ فَأَسِفَ عَلَى مَا فَاتَهُ مِنْهُ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ شَاكِرًا وَلَا صَابِرًا "
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”دو خصلتیں ایسی ہیں کہ جس شخص کے اندر وہ موجود ہوں گی اسے اللہ تعالیٰ صابر و شاکر لکھے گا اور جس کے اندر وہ موجود نہ ہوں گی اسے اللہ تعالیٰ صابر اور شاکر نہیں لکھے گا، پہلی خصلت یہ ہے کہ جس شخص نے دین کے اعتبار سے اپنے سے زیادہ دین پر عمل کرنے والے کو دیکھا اور اس کی پیروی کی اور دنیا کے اعتبار سے اپنے سے کم حیثیت والے کو دیکھا پھر اس فضل و احسان کا شکر ادا کیا جو اللہ نے اس پر کیا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے صابر اور شاکر لکھے گا۔ اور دوسری خصلت یہ ہے کہ جس نے دین کے اعتبار سے اپنے سے کم اور دنیا کے اعتبار سے اپنے سے زیادہ پر نظر کی پھر جس سے وہ محروم رہ گیا ہے اس پر اس نے افسوس کیا، تو اللہ تعالیٰ اسے صابر اور شاکر نہیں لکھے گا“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2512]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 8778) (ضعیف) (سند میں مثنی بن صباح ضعیف راوی ہیں، ان کی تضعیف خود امام ترمذی نے کی ہے، اور عمرو بن شعیب بن محمد اور ان کے پردادا عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کے درمیان انقطاع ہے، لیکن اگلی سند میں عن أبیہ کا ذکر ہے، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفة 633، 1924)»
وضاحت: ۱؎: گویا دینی معاملہ میں ہمیشہ اپنے سے بہتر اور سب سے زیادہ دین پر عمل کرنے والے شخص کو دیکھنا چاہیئے، تاکہ اپنے اندر اسی جیسا دینی جذبہ پیدا ہو، اور دنیا کے اعتبار سے ہمیشہ اپنے سے کم تر پر نگاہ رہے تاکہ رب العالمین کی جانب سے ہمیں جو کچھ میسر ہے اس پر ہم اس کا شکر گزار بندہ بن سکیں، اور ہمارے اندر نعمت شناسی کی صفت پیدا ہو۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، الضعيفة (633 و 1924) // ضعيف الجامع الصغير (2832) //
قال الشيخ زبير على زئي:(2512) إسناده ضعيف
المثني : ضعيف (تقدم:641)
المثني : ضعيف (تقدم:641)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥عمرو بن شعيب القرشي، أبو إبراهيم، أبو عبد الله عمرو بن شعيب القرشي ← عبد الله بن عمرو السهمي | ثقة | |
👤←👥المثنى بن الصباح، أبو يحيى، أبو عبد الله المثنى بن الصباح ← عمرو بن شعيب القرشي | ضعيف اختلط بآخرة | |
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن المبارك الحنظلي ← المثنى بن الصباح | ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير | |
👤←👥سويد بن نصر المروزي، أبو الفضل سويد بن نصر المروزي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2512
| خصلتان من كانتا فيه كتبه الله شاكرا صابرا ومن لم تكونا فيه لم يكتبه الله شاكرا ولا صابرا من نظر في دينه إلى من هو فوقه فاقتدى به من نظر في دنياه إلى من هو دونه فحمد الله على ما فضله به عليه كتبه الله شاكرا صابرا ومن نظر في دينه إلى من هو دونه نظر في دنياه |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2512 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2512
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
گویا دینی معاملہ میں ہمیشہ اپنے سے بہتر اور سب سے زیادہ دین پر عمل کرنے والے شخص کو دیکھنا چاہیے،
تاکہ اپنے اندر اسی جیسا دینی جذبہ پیدا ہو،
اور دنیا کے اعتبار سے ہمیشہ اپنے سے کم تر پر نگاہ رہے تاکہ رب العالمین کی جانب سے ہمیں جو کچھ میسر ہے اس پر ہم اس کا شکر گزار بندہ بن سکیں،
اور ہمارے اندر نعمت شناسی کی صفت پیدا ہو۔
نوٹ1: (سند میں مثنی بن صباح ضعیف راوی ہیں،
ان کی تضعیف خود امام ترمذی نے کی ہے،
اور عمرو بن شعیب بن محمد اور ان کے پردادا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے درمیان انقطاع ہے،
لیکن اگلی سند میں عن أبیہ کا ذکر ہے،
نیز ملاحظہ ہو:
الضعیفة: 633، 1924)
نوٹ2: (تحفة الأشراف میں ترمذی کا قول ”حسن غریب“ موجود نہیں ہے)
وضاحت:
1؎:
گویا دینی معاملہ میں ہمیشہ اپنے سے بہتر اور سب سے زیادہ دین پر عمل کرنے والے شخص کو دیکھنا چاہیے،
تاکہ اپنے اندر اسی جیسا دینی جذبہ پیدا ہو،
اور دنیا کے اعتبار سے ہمیشہ اپنے سے کم تر پر نگاہ رہے تاکہ رب العالمین کی جانب سے ہمیں جو کچھ میسر ہے اس پر ہم اس کا شکر گزار بندہ بن سکیں،
اور ہمارے اندر نعمت شناسی کی صفت پیدا ہو۔
نوٹ1: (سند میں مثنی بن صباح ضعیف راوی ہیں،
ان کی تضعیف خود امام ترمذی نے کی ہے،
اور عمرو بن شعیب بن محمد اور ان کے پردادا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے درمیان انقطاع ہے،
لیکن اگلی سند میں عن أبیہ کا ذکر ہے،
نیز ملاحظہ ہو:
الضعیفة: 633، 1924)
نوٹ2: (تحفة الأشراف میں ترمذی کا قول ”حسن غریب“ موجود نہیں ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2512]
حدیث نمبر: 2512M
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ حِزَامٍ الرَّجُلُ الصَّالِحُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاق، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَلَمْ يَذْكُرْ سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ فِي حَدِيثِهِ , عَنْ أَبِيهِ.
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- سوید بن نصر نے اپنی سند میں «عن أبيه» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2512M]
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- سوید بن نصر نے اپنی سند میں «عن أبيه» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2512M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (ضعیف) (تحفة الأشراف میں ترمذی کا قول ”حسن غریب“ موجود نہیں ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، الضعيفة (633 و 1924) // ضعيف الجامع الصغير (2832) //
الرواة الحديث:
Sunan at-Tirmidhi Hadith 2512 in Urdu
عمرو بن شعيب القرشي ← عبد الله بن عمرو السهمي