سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب ما جاء في صفة شراب أهل النار
باب: جہنمیوں کے مشروب کا بیان۔
حدیث نمبر: 2583
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ: وَيُسْقَى مِنْ مَاءٍ صَدِيدٍ {16} يَتَجَرَّعُهُ سورة إبراهيم آية 15-16 , قَالَ: " يُقَرَّبُ إِلَى فِيهِ فَيَكْرَهُهُ، فَإِذَا أُدْنِيَ مِنْهُ شَوَى وَجْهَهُ وَوَقَعَتْ فَرْوَةُ رَأْسِهِ، فَإِذَا شَرِبَهُ قَطَّعَ أَمْعَاءَهُ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ دُبُرِهِ " , يَقُولُ اللَّهُ: وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ سورة محمد آية 15 وَيَقُولُ: وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ سورة الكهف آية 29 " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَهَكَذَا قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، وَلَا نَعْرِفُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ , وَقَدْ رَوَى صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ لَهُ أَخٌ قَدْ سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُخْتُهُ قَدْ سَمِعَتْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ الَّذِي رَوَى عَنْهُ صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو حَدِيثَ أَبِي أُمَامَةَ، لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ أَخَا عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ.
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس قول «ويسقى من ماء صديد يتجرعه» (ابراہیم: ۱۶) کے بارے میں فرمایا: ” «صديد» (پیپ) اس کے منہ کے قریب کی جائے گی تو اسے ناپسند کرے گا جب اسے اور قریب کیا جائے گا تو اس کا چہرہ بھن جائے گا اور اس کے سر کی کھال گر جائے گی اور جب اسے پیئے گا تو اس کی آنت کٹ جائے گی یہاں تک کہ اس کے سرین سے نکل جائے گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وسقوا ماء حميما فقطع أمعاءهم» ”وہ «ماء حمیم» (گرم پانی) پلائے جائیں گے تو وہ ان کی آنتوں کو کاٹ دے گا“ (سورۃ محمد: ۱۵) اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وإن يستغيثوا يغاثوا بماء كالمهل يشوي الوجوه بئس الشراب» ”اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو تلچھٹ کی طرح ہو گا چہرے کو بھون دے گا اور وہ نہایت برا مشروب ہے“ (الکہف: ۲۹) امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- اسی طرح محمد بن اسماعیل بخاری نے بھی سند میں «عن عبيد الله بن بسر» کہا ہے اور ہم عبیداللہ بن بسر کو صرف اسی حدیث میں جانتے ہیں،
۳- صفوان بن عمر نے عبداللہ بن بسر سے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، ایک دوسری حدیث روایت کی ہے، عبداللہ بن بسر کے ایک بھائی ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور ان کی ایک بہن نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سنی ہے۔ جس عبیداللہ بن بسر سے صفوان بن عمرو نے یہ حدیث روایت کی ہے، یہ صحابی نہیں ہیں کوئی دوسرے آدمی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2583]
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- اسی طرح محمد بن اسماعیل بخاری نے بھی سند میں «عن عبيد الله بن بسر» کہا ہے اور ہم عبیداللہ بن بسر کو صرف اسی حدیث میں جانتے ہیں،
۳- صفوان بن عمر نے عبداللہ بن بسر سے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، ایک دوسری حدیث روایت کی ہے، عبداللہ بن بسر کے ایک بھائی ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور ان کی ایک بہن نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سنی ہے۔ جس عبیداللہ بن بسر سے صفوان بن عمرو نے یہ حدیث روایت کی ہے، یہ صحابی نہیں ہیں کوئی دوسرے آدمی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2583]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 4894) (سند میں عبید اللہ بن بسر مجہول راوی ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (5680) ، التعليق أيضا
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥صدي بن عجلان الباهلي، أبو أمامة | صحابي | |
👤←👥عبيد الله بن بسر الشامي عبيد الله بن بسر الشامي ← صدي بن عجلان الباهلي | مجهول الحال | |
👤←👥صفوان بن عمرو السكسكي، أبو عمرو صفوان بن عمرو السكسكي ← عبيد الله بن بسر الشامي | ثقة | |
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن المبارك الحنظلي ← صفوان بن عمرو السكسكي | ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير | |
👤←👥سويد بن نصر المروزي، أبو الفضل سويد بن نصر المروزي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2583
| يقرب إلى فيه فيكرهه فإذا أدني منه شوى وجهه ووقعت فروة رأسه فإذا شربه قطع أمعاءه حتى يخرج من دبره يقول الله وسقوا ماء حميما فقطع أمعاءهم |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2583 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2583
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں عبید اللہ بن بسر مجہول راوی ہے)
نوٹ:
(سند میں عبید اللہ بن بسر مجہول راوی ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2583]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 2583 in Urdu
عبيد الله بن بسر الشامي ← صدي بن عجلان الباهلي