Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب ما جاء في فضل الفقه على العبادة
باب: عبادت پر علم و فقہ کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2681
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَقِيهٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک فقیہ (عالم) ہزار عبادت کرنے والوں کے مقابلہ میں اکیلا شیطان پر حاوی اور بھاری ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اسے ولید بن مسلم کی روایت سے صرف اسی سند جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2681]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/المقدمة 17 (222) (تحفة الأشراف: 6395) (موضوع) (سند میں روح بن جناح بہت ہی ضعیف ہے، بلکہ وضع سے متہم ہے)»
قال الشيخ الألباني: موضوع، ابن ماجة (222) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (41) ، المشكاة (217) ، ضعيف الجامع (3987) //
قال الشيخ زبير على زئي:(2681) إسناده ضعيف جدًا / جه 222
روح بن جناح : ضعيف اتهمه ابن حبان (تق: 1961)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج
Newمجاهد بن جبر القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة إمام في التفسير والعلم
👤←👥روح بن جناح القرشي، أبو سعيد، أبو سعد
Newروح بن جناح القرشي ← مجاهد بن جبر القرشي
ضعيف الحديث
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← روح بن جناح القرشي
ثقة
👤←👥إبراهيم بن موسى التميمي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن موسى التميمي ← الوليد بن مسلم القرشي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن إسماعيل البخاري، أبو عبد الله
Newمحمد بن إسماعيل البخاري ← إبراهيم بن موسى التميمي
جبل الحفظ وإمام الدنيا في فقه الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2681
فقيه أشد على الشيطان من ألف عابد
سنن ابن ماجه
222
فقيه واحد أشد على الشيطان من ألف عابد
مشكوة المصابيح
217
فقيه واحد اشد على الشيطان من الف عابد
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2681 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2681
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں روح بن جناح بہت ہی ضعیف ہے،
بلکہ وضع سے متہم ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2681]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 217
اہل علم کی فضیلت
«. . . ‏‏‏‏وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْن مَاجَه) . . .»
. . . سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک فقیہ یعنی عالم باعمل زیادہ سخت ہے شیطان پر ہزار عابد سے۔ اس حدیث کو ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا۔ . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ: 217]
تحقیق الحدیث:
اس روایت کی سند سخت ضعیف (موضوع) ہے۔
اس کے راوی رَوح بن جَناح الدمشقی کو جمہور محدثین نے ضعیف و مجروح قرار دیا۔
◄ حافظ ابن حبان نے کہا:
«منكر الحديث جدا، يروي عن الثقات ما إذا سمعها الإنسان الذى ليس بالمتبحر فى صناعة الحديث شهد لها بالوضع.»
وہ سخت منکر الحدیث تھا، ثقہ راویوں سے ایسی روایتیں بیان کرتا، جنہیں حدیث میں زیادہ مہارت نہ رکھنے والا انسان بھی سن کر گواہی دیتا کہ یہ موضوع ہیں۔ [المجروحين 1؍300، دوسرا نسخه 1؍374]
◄ ابونعیم اصبہانی نے کہا:
وہ مجاہد (ثقہ تابعی) سے منکر حدیثیں بیان کرتا تھا، وہ کوئی چیز نہیں ہے۔ [كتاب الضعفاء لابي نعيم ص81 ت67]
◄ حاکم نیشاپوری نے کہا:
«روي عن مجاهد أحاديث موضوعة.»
اس نے مجاہد سے موضوع حدیثیں بیان کیں۔ [المدخل الي الصحيح ص137 ت59]
↰ اس شدید جرح اور جمہور کی تجریح سے ثابت ہوا کہ رَوح بن جَناح سخت ضعیف اور مجاہد سے موضوع روایات بیان کرنے والا تھا۔
↰ یاد رہے کہ ضعیف راوی کی روایت بھی موضوع ہو سکتی ہے، بشرطیکہ محدثین کرام اسے موضوع قرار دیں یا وضع کا واضح ثبوت ہو۔ موضوع روایت کے لئے یہ ضروری شرط نہیں کہ اس کا راوی لامحالہ کذاب ہی ہو۔
◄ نیز دیکھئے: [مجموع فتاويٰ ابن تيميه ج1 ص248] ، [علل الحديث لابن ابي حاتم 1؍74 ح196] ، [سنن ابن ماجه:1333] اور [الضعيفة الالباني ج1۔ ص169 ح4644 وغير ذلك۔]
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 217]