علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. باب ما جاء في السلام على مجلس فيه المسلمون وغيرهم
باب: ایسی مجلس پر سلام جس میں مسلم اور غیر مسلم دونوں ہوں۔
حدیث نمبر: 2702
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَرَّ بِمَجْلِسٍ وَفِيهِ أَخْلَاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْيَهُودِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
اسامہ بن زید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی مجلس کے پاس سے گزرے جس میں مسلمان اور یہود دونوں تھے تو آپ نے انہیں سلام کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2702]
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2702]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیر آل عمران 15 (4566)، والمرضی 15 (5663)، والأدب 115 (6207)، والاستئذان 20 (6254)، صحیح مسلم/الجھاد 40 (1798) (تحفة الأشراف: 109)، و مسند احمد (5/203) (کلہم سوی المؤلف في سیاق طویل فیہ قصة) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: معلوم ہوا کہ ایسی مجلس جس میں مسلمان اور کافر دونوں موجود ہوں، اس میں مسلمانوں کو اپنا مخاطب سمجھ کر انہیں السلام علیکم کہنا چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2702
| مر بمجلس وفيه أخلاط من المسلمين واليهود فسلم عليهم |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2702 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2702
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
معلوم ہوا کہ ایسی مجلس جس میں مسلمان اور کافر دونوں موجود ہوں،
اس میں مسلمانوں کو اپنا مخاطب سمجھ کر انہیں السلام علیکم کہنا چاہیے۔
وضاحت:
1؎:
معلوم ہوا کہ ایسی مجلس جس میں مسلمان اور کافر دونوں موجود ہوں،
اس میں مسلمانوں کو اپنا مخاطب سمجھ کر انہیں السلام علیکم کہنا چاہیے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2702]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 2702 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← أسامة بن زيد الكلبي