🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. باب ما جاء في تعليم السريانية
باب: سریانی زبان سیکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2715
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: " أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَتَعَلَّمَ لَهُ كَلِمَاتٍ مِنْ كِتَابِ يَهُودَ، قَالَ: إِنِّي وَاللَّهِ مَا آمَنُ يَهُودَ عَلَى كِتَابٍ، قَالَ: فَمَا مَرَّ بِي نِصْفُ شَهْرٍ، حَتَّى تَعَلَّمْتُهُ لَهُ، قَالَ: فَلَمَّا تَعَلَّمْتُهُ كَانَ إِذَا كَتَبَ إِلَى يَهُودَ كَتَبْتُ إِلَيْهِمْ، وَإِذَا كَتَبُوا إِلَيْهِ قَرَأْتُ لَهُ كِتَابَهُمْ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، رَوَاهُ الْأَعْمَشُ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ , قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ أَتَعَلَّمَ السُّرْيَانِيَّةَ ".
زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے لیے یہود کی کچھ تحریر سیکھ لوں، آپ نے فرمایا: قسم اللہ کی! میں یہود کی تحریر پر اعتماد و اطمینان نہیں کرتا، چنانچہ ابھی آدھا مہینہ بھی نہیں گزرا تھا کہ میں نے آپ کے لیے اسے سیکھ لیا۔ کہتے ہیں: پھر جب میں نے سیکھ لیا اور آپ کو یہودیوں کے پاس کچھ لکھ کر بھیجنا ہوا تو میں نے لکھ کر ان کے پاس بھیج دیا، اور جب یہودیوں نے کوئی چیز لکھ کر آپ کے پاس بھیجی تو میں نے ان کی کتاب (تحریر) پڑھ کر آپ کو سنا دی ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- یہ حدیث اس سند کے علاوہ بھی دوسری سند سے زید بن ثابت رضی الله عنہ سے مروی ہے، اسے اعمش نے ثابت بن عبید انصاری کے واسطہ سے زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا کہ میں سریانی زبان سیکھ لوں۔ [سنن ترمذي/كتاب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2715]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأحکام 40 (7195) (تعلیقاً)، سنن ابی داود/ العلم 2 (3645) (تحفة الأشراف: 3702)، و مسند احمد (5/186) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: چونکہ یہود سے اگر کوئی چیز لکھائی جاتی یا ان سے کوئی چیز پڑھوائی جاتی دونوں صورتوں میں ان کی طرف سے کمی و زیادتی کا امکان تھا، اسی خطرہ کے پیش نظر آپ نے زید بن ثابت کو یہود کی زبان سیکھنے کا حکم دیا، یہ خطرہ آج بھی باقی ہے، اور ساتھ ہی دین کی تبلیغ و اشاعت کے لیے ضروری ہے کہ دوسری زبانیں بھی سیکھی جائیں، اس لیے امت مسلمہ کو چاہیئے کہ دنیا کی ہر زبان سیکھے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، المشكاة (4659)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥زيد بن ثابت الأنصاري، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو خارجة، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥ثابت بن عبيد الأنصاري
Newثابت بن عبيد الأنصاري ← زيد بن ثابت الأنصاري
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← ثابت بن عبيد الأنصاري
ثقة حافظ
👤←👥زيد بن ثابت الأنصاري، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو خارجة، أبو عبد الرحمن
Newزيد بن ثابت الأنصاري ← سليمان بن مهران الأعمش
صحابي
👤←👥خارجة بن زيد الأنصاري، أبو زيد
Newخارجة بن زيد الأنصاري ← زيد بن ثابت الأنصاري
ثقة
👤←👥عبد الله بن ذكوان القرشي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن ذكوان القرشي ← خارجة بن زيد الأنصاري
إمام ثقة ثبت
👤←👥عبد الرحمن بن أبي الزناد القرشي، أبو محمد
Newعبد الرحمن بن أبي الزناد القرشي ← عبد الله بن ذكوان القرشي
وكان فقيها، صدوق تغير حفظه لما قدم بغداد
👤←👥علي بن حجر السعدي، أبو الحسن
Newعلي بن حجر السعدي ← عبد الرحمن بن أبي الزناد القرشي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2715
أتعلم له كلمات من كتاب يهود قال إني والله ما آمن يهود على كتاب
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2715 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2715
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
چونکہ یہود سے اگر کوئی چیز لکھائی جاتی یا ان سے کوئی چیز پڑھوائی جاتی دونوں صورتوں میں ان کی طرف سے کمی وزیادتی کا امکان تھا،
اسی خطرہ کے پیش نظر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن ثابت کو یہود کی زبان سیکھنے کا حکم دیا،
یہ خطرہ آج بھی باقی ہے،
اور ساتھ ہی دین کی تبلیغ و اشاعت کے لیے ضروری ہے کہ دوسری زبانیں بھی سیکھی جائیں،
اس لیے امت مسلمہ کو چاہیے کہ دنیا کی ہر زبان سیکھے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2715]