🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. باب ما جاء في دخول الحمام
باب: غسل خانہ میں جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2801
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَدْخُلِ الْحَمَّامَ بِغَيْرِ إِزَارٍ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُدْخِلْ حَلِيلَتَهُ الْحَمَّامَ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَجْلِسْ عَلَى مَائِدَةٍ يُدَارُ عَلَيْهَا بِالْخَمْرِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ طَاوُسٍ، عَنْ جَابِرٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ صَدُوقٌ، وَرُبَّمَا يَهِمُ فِي الشَّيْءِ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، لَيْثٌ لَا يُفْرَحُ بِحَدِيثِهِ، كَانَ لَيْثٌ يَرْفَعُ أَشْيَاءَ لَا يَرْفَعُهَا غَيْرُهُ فَلِذَلِكَ ضَعَّفُوهُ.
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ تہہ بند باندھے بغیر غسل خانہ (حمام) میں داخل نہ ہو، جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنی بیوی کو غسل خانہ (حمام) میں نہ بھیجے، اور جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ ایسے دستر خوان پر نہ بیٹھے جہاں شراب کا دور چلتا ہو ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- ہم اسے صرف اس سند سے جانتے ہیں،
۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: لیث بن ابی سلیم صدوق ہیں، لیکن بسا اوقات وہ وہم کر جاتے ہیں،
۴- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ احمد بن حنبل کہتے ہیں: لیث کی حدیث سے دل خوش نہیں ہوتا۔ لیث بعض ایسی حدیثوں کو مرفوع بیان کر دیتے تھے جسے دوسرے لوگ مرفوع نہیں کرتے تھے۔ انہیں وجوہات سے لوگوں نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2801]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الغسل 2 (401) (بعضہ) (تحفة الأشراف: 2284)، و مسند احمد (3/339) (حسن) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے یہ حدیث حسن ہے، الإروائ: 1949، غایة المرام 190)»
وضاحت: ۱؎: یہ حمامات عمومی غسل خانے ہوا کرتے تھے، جس میں مرد اور عورتیں سب کے سب ننگے نہاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو تہہ بند باندھ کر نہانے کی اجازت دی، جب کہ عورتوں کو اس سے دور رہنے کا حکم دیا ہے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہر وہ مجلس جہاں نشہ آور اور حرام چیزوں کا دور چل رہا ہو اس میں شریک ہونا درست نہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن، التعليق الرغيب (1 / 88 - 89) ، الإرواء (1949) ، غاية المرام (190)
قال الشيخ زبير على زئي:(2801) إسناده ضعيف
ليث بن أبى سليم: ضعيف (تقدم:218)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥طاوس بن كيسان اليماني، أبو عبد الرحمن
Newطاوس بن كيسان اليماني ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة إمام فاضل
👤←👥الليث بن أبي سليم القرشي، أبو بكر، أبو بكير
Newالليث بن أبي سليم القرشي ← طاوس بن كيسان اليماني
ضعيف الحديث
👤←👥الحسن بن صالح الثوري، أبو عبد الله
Newالحسن بن صالح الثوري ← الليث بن أبي سليم القرشي
ثقة
👤←👥مصعب بن المقدام الخثعمي، أبو عبد الله
Newمصعب بن المقدام الخثعمي ← الحسن بن صالح الثوري
صدوق حسن الحديث
👤←👥القاسم بن دينار القرشي، أبو محمد
Newالقاسم بن دينار القرشي ← مصعب بن المقدام الخثعمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
401
من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يدخل الحمام إلا بمئزر
جامع الترمذي
2801
من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يدخل الحمام بغير إزار من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يدخل حليلته الحمام من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يجلس على مائدة يدار عليها بالخمر
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2801 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2801
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ حمامات عمومی غسل خانے ہوا کرتے تھے،
جس میں مرد اور عورتیں سب کے سب ننگے نہاتے تھے،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو تہہ بند باندھ کر نہانے کی اجازت دی،
جب کہ عورتوں کو اس سے دور رہنے کا حکم دیا ہے،
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہر وہ مجلس جہاں نشہ آور اور حرام چیزوں کا دور چل رہا ہو اس میں شریک ہونا درست نہیں۔

نوٹ:
(سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں،
لیکن متابعت کی وجہ سے یہ حدیث حسن ہے،
الإرواء: 1949،
غایة المرام: 190)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2801]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 401
حمام میں داخل ہونے کی رخصت کا بیان۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو بغیر تہبند کے حمام میں داخل نہ ہو۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 401]
401۔ اردو حاشیہ:
➊ حمام، حمیم سے ہے جس کے معنی گرم پانی کے ہیں۔ حمام سے وہ مشترک غسل خانے مراد ہیں جن میں گرم پانی کا انتظام ہوتا ہے اور ہر آدمی غسل کر سکتا ہے۔ چونکہ یہاں ہر وقت آدمی آتے رہتے ہیں، لہٰذا بے پردگی کا خطرہ ہے، خصوصاً اس دور میں جب کہ وہاں ایک کمرا کپڑے اتارنے اور پہننے کے لیے مختص ہوتا تھا۔ وہاں سے غسل خانے میں ننگے جاتے تھے اور غسل خانے کی قطار میں کئی کئی نہانے والے ننگے ہوا کرتے تھے، اس بنا پر بعض احادیث میں حمام کی مذمت کی گئی ہے۔
➋بہتر یہی ہے کہ انسان اپنے مخصوص گھریلو غسل خانے میں نہائے جہاں نہ عام لوگ آتے ہیں اور نہ بے پردگی کا خطرہ ہے لیکن اگر کبھی مجبوراً حمامات (مشترکہ غسل خانوں) میں نہانا پڑے تو ازارباندھ کر نہائے تاکہ بے پردگی نہ ہو۔ عورتوں کا حمامات میں نہانا سخت گناہ ہے کہ اس کا تقریباً سارا جسم پردہ ہے۔ ہمارے ہاں موجود حمام ایسے نہیں ہیں اور نہ ان میں مذکورہ بالا قباحتیں پائی جاتی ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 401]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 2801 in Urdu