یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
61. باب ما جاء في فداك أبي وأمي
باب: ”میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں“ کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2829
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، سَمِعَا سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ: قَالَ عَلِيٌّ: " مَا جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَاهُ وَأُمَّهُ لِأَحَدٍ إِلَّا لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ: ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، وَقَالَ لَهُ: ارْمِ أَيُّهَا الْغُلَامُ الْحَزَوَّرُ " وَفِي الْبَابِ، عَنْ الزُّبَيْرِ، وَجَابِرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَلِيٍّ.
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ علی رضی الله عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے والد اور اپنی ماں کو سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے سوا کسی کے لیے جمع نہیں کیا۔ جنگ احد میں آپ نے ان سے کہا: ”تیر چلاؤ، تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں“، اور آپ نے ان سے یہ بھی کہا: ”اے بہادر قوی جوان! تیر چلاتے جاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- یہ حدیث علی سے متعدد سندوں سے روایت کی گئی ہے،
۳- اس حدیث کو متعدد لوگوں نے یحییٰ بن سعید سے، یحییٰ نے سعید بن مسیب سے، سعید بن مسیب نے سعد بن ابی وقاص سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے کہا احد کی لڑائی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے اپنے والدین کو یکجا کر دیا۔ آپ نے فرمایا: ”تیر چلائے جاؤ، تم پر ہمارے ماں باپ قربان ہوں“،
۴- اس باب میں زبیر اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2829]
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- یہ حدیث علی سے متعدد سندوں سے روایت کی گئی ہے،
۳- اس حدیث کو متعدد لوگوں نے یحییٰ بن سعید سے، یحییٰ نے سعید بن مسیب سے، سعید بن مسیب نے سعد بن ابی وقاص سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے کہا احد کی لڑائی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے اپنے والدین کو یکجا کر دیا۔ آپ نے فرمایا: ”تیر چلائے جاؤ، تم پر ہمارے ماں باپ قربان ہوں“،
۴- اس باب میں زبیر اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2829]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں، اور ان کی روایت میں ”الغلام الحزور“ کا لفظ صحیح نہیں ہے، بقیہ حدیث صحیح کے متابعات و شواہد صحیحین میں موجود ہیں)»
قال الشيخ الألباني: منكر بذكر الغلام الحزور // سيأتي (783 / 4019) //
قال الشيخ زبير على زئي:(2829) إسناده ضعيف / وسيأتي: 3753/2
قوله: ”ارم أيها الغلام الحزور“ :ضعيف، ابن عيينة عنعن (تقدم:867)
قوله: ”ارم أيها الغلام الحزور“ :ضعيف، ابن عيينة عنعن (تقدم:867)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسين | صحابي | |
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد سعيد بن المسيب القرشي ← علي بن أبي طالب الهاشمي | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد يحيى بن سعيد الأنصاري ← سعيد بن المسيب القرشي | ثقة ثبت | |
👤←👥علي بن زيد القرشي، أبو الحسن علي بن زيد القرشي ← يحيى بن سعيد الأنصاري | ضعيف الحديث | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← علي بن زيد القرشي | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥الحسن بن الصباح الواسطي، أبو علي الحسن بن الصباح الواسطي ← سفيان بن عيينة الهلالي | صدوق حسن الحديث |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2829 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2829
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سندمیں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں،
اور ان کی روایت میں ''الغلام الحزور'' کا لفظ صحیح نہیں ہے،
بقیہ حدیث صحیح کے متابعات و شواہد صحیحین میں موجود ہیں)
نوٹ:
(سندمیں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں،
اور ان کی روایت میں ''الغلام الحزور'' کا لفظ صحیح نہیں ہے،
بقیہ حدیث صحیح کے متابعات و شواہد صحیحین میں موجود ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2829]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 2829 in Urdu
سعيد بن المسيب القرشي ← علي بن أبي طالب الهاشمي