🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب ما جاء في فضل فاتحة الكتاب منه
باب: سورۃ فاتحہ کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2875
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أُبَيُّ وَهُوَ يُصَلِّي فَالْتَفَتَ أُبَيٌّ وَلَمْ يُجِبْهُ وَصَلَّى أُبَيٌّ فَخَفَّفَ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ مَا مَنَعَكَ يَا أُبَيُّ أَنْ تُجِيبَنِي إِذْ دَعَوْتُكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: أَفَلَمْ تَجِدْ فِيمَا أَوْحَى اللَّهُ إِلَيَّ أَنِ اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ سورة الأنفال آية 24، قَالَ: بَلَى، وَلَا أَعُودُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، قَالَ: أَتُحِبُّ أَنْ أُعَلِّمَكَ سُورَةً لَمْ يَنْزِلْ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ وَلَا فِي الزَّبُورِ وَلَا فِي الْفُرْقَانِ مِثْلُهَا، قَالَ: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ تَقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: فَقَرَأَ أُمَّ الْقُرْآنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أُنْزِلَتْ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ وَلَا فِي الزَّبُورِ وَلَا فِي الْفُرْقَانِ مِثْلُهَا، وَإِنَّهَا سَبْعٌ مِنَ الْمَثَانِي، وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُعْطِيتُهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَفِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابی بن کعب رضی الله عنہ کے پاس سے گزرے وہ نماز پڑھ رہے تھے، آپ نے فرمایا: اے ابی (سنو) وہ (آواز سن کر) متوجہ ہوئے لیکن جواب نہ دیا، نماز جلدی جلدی پوری کی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: السلام علیک یا رسول اللہ! (اللہ کے رسول آپ پر سلامتی نازل ہو)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: وعلیک السلام (تم پر بھی سلامتی ہو) ابی! جب میں نے تمہیں بلایا تو تم میرے پاس کیوں نہ حاضر ہوئے؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: (اب تک) جو وحی مجھ پر نازل ہوئی ہے اس میں تجھے کیا یہ آیت نہیں ملی «استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم لما يحييكم» اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول کے کہنے کو بجا لاؤ، جب کہ رسول تم کو تمہاری زندگی بخش چیز کی طرف بلاتے ہوں (انفال ۲۴)، انہوں نے کہا: جی ہاں، اور آئندہ إن شاء اللہ ایسی بات نہ ہو گی۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہیں پسند ہے کہ میں تمہیں ایسی سورت سکھاؤں جیسی سورت نہ تو رات میں نازل ہوئی نہ انجیل میں اور نہ زبور میں اور نہ ہی قرآن میں؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! (ضرور سکھائیے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز میں تم (قرآن) کیسے پڑھتے ہو؟ تو انہوں نے ام القرآن (سورۃ فاتحہ) پڑھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ تورات میں، انجیل میں، زبور میں (حتیٰ کہ) قرآن اس جیسی سورت نازل نہیں ہوئی ہے۔ یہی سبع مثانی ۲؎ (سات آیتیں) ہیں اور یہی وہ قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں انس بن مالک اور ابوسعید بن معلی رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2875]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 14070) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حکم ربانی کی بنا پر صحابہ پر واجب تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پکار کا جواب دیں خواہ نماز ہی میں کیوں نہ ہو، لیکن ان صحابی نے یہ سمجھا تھا کہ یہ حکم نماز سے باہر کے لیے ہے، اس لیے جواب نہیں دیا تھا۔
۲؎: چونکہ اس میں سات آیتیں ہیں اس لیے اسے سبع کہا گیا، اور ہر نماز میں یہ سورت دہرائی جاتی ہے، اس لیے اسے مثانی کہا گیا، یا مثانی اس لیے کہا گیا کہ اس کا نزول دو مرتبہ ہوا ایک مکہ میں دوسرا مدینہ میں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، صحيح أبي داود (1310) ، المشكاة (2142 / التحقيق الثاني) ، التعليق الرغيب (2 / 216)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبي بن كعب الأنصاري، أبو المنذر، أبو الطفيلصحابي
👤←👥أبو هريرة الدوسي
Newأبو هريرة الدوسي ← أبي بن كعب الأنصاري
صحابي
👤←👥عبد الرحمن بن يعقوب الجهني، أبو العلاء
Newعبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥العلاء بن عبد الرحمن الحرقي، أبو شبل
Newالعلاء بن عبد الرحمن الحرقي ← عبد الرحمن بن يعقوب الجهني
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد العزيز بن محمد الدراوردي، أبو محمد
Newعبد العزيز بن محمد الدراوردي ← العلاء بن عبد الرحمن الحرقي
صدوق حسن الحديث
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← عبد العزيز بن محمد الدراوردي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2875
يا أبي وهو يصلي فالتفت أبي ولم يجبه وصلى أبي فخفف ثم انصرف إلى رسول الله فقال السلام عليك يا رسول الله فقال رسول الله وعليك السلام ما منعك يا أبي أن تجيبني إذ دعوتك فقال يا رسول الله إني كنت في الصلاة قال أفلم تجد
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2875 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2875
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول کے کہنے کو بجا لاؤ،
جب کہ رسول تم کو تمہاری زندگی بخش چیز کی طرف بلاتے ہوں۔
(انفال24) اس حکم ربانی کی بنا پرصحابہ پر واجب تھاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پکار کا جواب دیں خواہ نماز ہی میں کیوں نہ ہو،
لیکن ان صحابی نے یہ سمجھا تھا کہ یہ حکم نماز سے باہر کے لیے ہے،
اس لیے جواب نہیں دیا تھا۔

2؎:
چونکہ اس میں سات آیتیں ہیں اس لیے اسے سبع کہاگیا،
اور ہر نماز میں یہ سورت دہرائی جاتی ہے،
اس لیے اسے مثانی کہا گیا،
یا مثانی اس لیے کہا گیا کہ اس کا نزول دو مرتبہ ہوا ایک مکہ میں دوسرا مدینہ میں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2875]