سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب ما جاء في الذي يفسر القرآن برأيه
باب: اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر کرنے والے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2950
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بغیر علم کے (بغیر سمجھے بوجھے) قرآن کی تفسیر کی، تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2950]
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2950]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 5543) (ضعیف) (سند میں عبدالاعلی بن عامر ثعلبی روایت میں وہم کا شکار ہو جایا کرتے تھے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (234) ، نقد التاج، // ضعيف الجامع الصغير (5737) //
قال الشيخ زبير على زئي:(2950) إسناده ضعيف
عبد الاعلي الثعلبي : ضعيف وقال الهثيمي ”الأكثر على تضعيفه“ (مجمع الزوائد 147/1) وانظر ضعيف سنن أبى داود :3208
عبد الاعلي الثعلبي : ضعيف وقال الهثيمي ”الأكثر على تضعيفه“ (مجمع الزوائد 147/1) وانظر ضعيف سنن أبى داود :3208
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2950
| من قال في القرآن بغير علم فليتبوأ مقعده من النار |
مشكوة المصابيح |
234
| من قال في القرآن برايه فليتبوا مقعده من النار |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2950 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2950
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں عبدالاعلی بن عامر ثعلبی روایت میں وہم کا شکار ہو جایا کرتے تھے)
نوٹ:
(سند میں عبدالاعلی بن عامر ثعلبی روایت میں وہم کا شکار ہو جایا کرتے تھے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2950]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 234
اپنی رائے سے تفسیر کرنے پر وعید
«. . . وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِرَأْيِهِ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَليَتَبَوَّأ مَقْعَده من النَّار» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ . . .»
”. . . سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قرآن مجید کے بارے میں اپنی رائے سے کہا۔ (یعنی قرآن شریف کی تفسیر اپنی عقل سے کی جس کی سند قرآن وسنت سے نہیں ہے) اس چاہیے کہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنا لے۔“ اور ایک روایت میں ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں کہ جس نے بغیر علم کے قرآن مجید کے بارے میں کچھ کہا اس کو چاہیے اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنا لے۔اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ: 234]
«. . . وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِرَأْيِهِ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَليَتَبَوَّأ مَقْعَده من النَّار» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ . . .»
”. . . سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قرآن مجید کے بارے میں اپنی رائے سے کہا۔ (یعنی قرآن شریف کی تفسیر اپنی عقل سے کی جس کی سند قرآن وسنت سے نہیں ہے) اس چاہیے کہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنا لے۔“ اور ایک روایت میں ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں کہ جس نے بغیر علم کے قرآن مجید کے بارے میں کچھ کہا اس کو چاہیے اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنا لے۔اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ: 234]
تحقیق الحدیث:
اس کی سند ضعیف ہے۔
◄ اس کا راوی عبدالاعلیٰ بن عامر الثعلبی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف تھا۔ ديكهئے: [سنن ترمذي 2951، اضواء المصابيح حديث: 232]
لہٰذا اس راوی کی وجہ سے یہ سند بھی ضعیف ہے، نیز اس کے شواہد بھی ضعیف ہیں۔ مثلاً دیکھئے: [سنن ترمذي 2952، اضواء المصابيح روايت: 235]
اس کی سند ضعیف ہے۔
◄ اس کا راوی عبدالاعلیٰ بن عامر الثعلبی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف تھا۔ ديكهئے: [سنن ترمذي 2951، اضواء المصابيح حديث: 232]
لہٰذا اس راوی کی وجہ سے یہ سند بھی ضعیف ہے، نیز اس کے شواہد بھی ضعیف ہیں۔ مثلاً دیکھئے: [سنن ترمذي 2952، اضواء المصابيح روايت: 235]
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 234]
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي