🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب ومن سورة يونس
باب: سورۃ یونس سے بعض آیات کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3107
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"لَمَّا أَغْرَقَ اللَّهُ فِرْعَوْنَ قَالَ: {آمَنْتُ أَنَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ} فَقَالَ جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ! فَلَوْ رَأَيْتَنِي وَأَنَا آخُذُ مِنْ حَالِ الْبَحْرِ؛ فَأَدُسُّهُ فِي فِيهِ مَخَافَةَ أَنْ تُدْرِكَهُ الرَّحْمَةُ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ نے فرعون کو ڈبویا تو اس نے (اس موقع پر) کہا «آمنت أنه لا إله إلا الذي آمنت به بنو إسرائيل» کہ میں اس بات پر ایمان لایا کہ اس معبود کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں (یونس: ۹۰)، پھر جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اے محمد! کاش اس وقت میری حالت دیکھی ہوتی۔ میں اس ڈر سے کہ کہیں اس (مردود) کو اللہ کی رحمت حاصل نہ ہو جائے، میں سمندر سے کیچڑ نکال نکال کر اس کے منہ میں ٹھونسنے لگا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3107]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف وانظر مایأتي (تحفة الأشراف: 6560) (صحیح) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں، نیچے آنے والی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح بما بعده (3106)
قال الشيخ زبير على زئي:(3107) إسناده ضعيف
علي بن زيد بن جدعان ضعيف (تقدم: 589) والحديث الأتي (الأصل : 3108) يغني عنه

تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3108
جعل يدس في في فرعون الطين خشية أن يقول لا إله إلا الله فيرحمه الله أو خشية أن يرحمه الله
جامع الترمذي
3107
لما أغرق الله فرعون قال آمنت أنه لا إله إلا الذي آمنت به بنو إسرائيل فقال جبريل يا محمد فلو رأيتني وأنا آخذ من حال البحر فأدسه في فيه مخافة أن تدركه الرحمة
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3107 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3107
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں،
نیچے آنے والی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3107]