یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب ومن سورة يونس
باب: سورۃ یونس سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3106
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا سورة يونس آية 64، قَالَ: مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا، فَقَالَ: " مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ غَيْرُكَ مُنْذُ أُنْزِلَتْ فَهِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ ".
عطاء بن یسار ایک مصری شیخ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابو الدرداء رضی الله عنہ سے اس آیت «لهم البشرى في الحياة الدنيا» ”ان کے لیے بشارت ہے دنیا کی زندگی میں“ (یونس: ۶۴)، کی تفسیر پوچھی تو انہوں نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی تفسیر پوچھی مجھ سے کسی نے اس آیت کے متعلق نہیں پوچھا (اور میں نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے مجھ سے تمہارے سوا کسی نے اس کے متعلق نہیں پوچھا۔ ”یہ بشارت اچھے خواب ہیں جنہیں مسلمان دیکھتا ہے یا اس کے لیے (کسی اور کو) دکھایا جاتا ہے“۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3106]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم 2273 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح ومضى (2389)
قال الشيخ زبير على زئي:(3106) إسناده ضعيف / تقدم : 2273
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2273
| الرؤيا الصالحة يراها المسلم أو ترى له |
جامع الترمذي |
3106
| الرؤيا الصالحة يراها المسلم أو ترى له |
مسندالحميدي |
395
| ما سألني عنها أحد منذ أنزلت غيرك إلا رجلا واحدا الرؤيا الصالحة يراها المسلم أو ترى له |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3106 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3106
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ان کے لیے بشارت ہے دنیا کی زندگی میں (یونس: 64)
2؎:
اور ابوصالح سمان کا سماع ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے،
اس لیے یہ سند بھی متصل ہوئی۔
وضاحت:
1؎:
ان کے لیے بشارت ہے دنیا کی زندگی میں (یونس: 64)
2؎:
اور ابوصالح سمان کا سماع ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے،
اس لیے یہ سند بھی متصل ہوئی۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3106]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2273
آیت کریمہ: «لهم البشرى في الحياة الدنيا» ”ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بشارت ہے“ کی تفسیر کا بیان۔
عطاء بن یسار مصر کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو الدرداء رضی الله عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول «لهم البشرى في الحياة الدنيا» ”ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بشارت ہے“ (یونس: ۶۴) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا ہے، تمہارے سوا صرف ایک آدمی نے مجھ سے پوچھا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”جب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے اس کے بارے میں تمہارے سوا کسی ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا/حدیث: 2273]
عطاء بن یسار مصر کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو الدرداء رضی الله عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول «لهم البشرى في الحياة الدنيا» ”ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بشارت ہے“ (یونس: ۶۴) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا ہے، تمہارے سوا صرف ایک آدمی نے مجھ سے پوچھا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”جب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے اس کے بارے میں تمہارے سوا کسی ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا/حدیث: 2273]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ایک مبہم راوی ہے،
لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے،
دیکھیے:
الصحیحة رقم: 1786)
نوٹ:
(سند میں ایک مبہم راوی ہے،
لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے،
دیکھیے:
الصحیحة رقم: 1786)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2273]
حدیث نمبر: 3106M
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ابوالدرداء رضی الله عنہ سے اسی جیسی روایت کی۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3106M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح ومضى (2389)
الرواة الحديث:
حدیث نمبر: 3106M
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَلَيْسَ فِيهِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ.
ابوالدرداء رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی۔ اور اس سند میں عطاء بن یسار سے روایت کا ذکر نہیں ہے ۱؎،
۳- اس باب میں عبادہ بن صامت سے بھی روایت ہے۔ فائدہ ۱؎: اور ابوصالح سمان کا سماع ابو الدرداء رضی الله عنہ سے ثابت ہے، اس لیے یہ سند بھی متصل ہوئی۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3106M]
۳- اس باب میں عبادہ بن صامت سے بھی روایت ہے۔
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح ومضى (2389)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عويمر بن مالك الأنصاري، أبو الدرداء | صحابي | |
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح أبو صالح السمان ← عويمر بن مالك الأنصاري | ثقة ثبت | |
👤←👥عاصم بن أبي النجود الأسدي، أبو بكر عاصم بن أبي النجود الأسدي ← أبو صالح السمان | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← عاصم بن أبي النجود الأسدي | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥أحمد بن عبدة الضبي، أبو عبد الله أحمد بن عبدة الضبي ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة |
Sunan at-Tirmidhi Hadith 3106 in Urdu
اسم مبهم ← عويمر بن مالك الأنصاري