🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب ومن سورة الكهف
باب: سورۃ الکہف سے بعض آیات کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3154
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ مِينَاءَ، عَنْ أَبِي سَعْدِ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ وَكَانَ مِنَ الصَّحَابَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا جَمَعَ اللَّهُ النَّاسَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ يَوْمَ لَا رَيْبَ فِيهِ نَادَى مُنَادٍ مَنْ كَانَ أَشْرَكَ فِي عَمَلٍ عَمِلَهُ لِلَّهِ أَحَدًا فَلْيَطْلُبْ ثَوَابَهُ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ.
ابوسعید بن ابی فضالہ انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو قیامت کے دن جس کے آنے میں ذرا بھی شک نہیں ہے جمع کرے گا تو پکارنے والا پکار کر کہے گا: جس نے اللہ کے واسطے کوئی کام کیا ہو اور اس کام میں کسی کو شریک کر لیا ہو، وہ جس غیر کو اس نے شریک کیا تھا اسی سے اپنے عمل کا ثواب مانگ لے، کیونکہ اللہ شرک سے کلی طور پر بیزار و بے نیاز ہے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف محمد بن بکر کی روایت سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3154]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الزہد 21 (4203) (تحفة الأشراف: 12044) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: مؤلف یہ حدیث ارشاد باری «فمن كان يرجو لقاء ربه فليعمل عملا صالحا ولا يشرك بعبادة ربه أحدا» (الكهف: 110) کی تفسیر میں لائے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن، ابن ماجة (4203)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعد بن أبي فضالة الأنصاري، أبو سعيد، أبو سعدصحابي
👤←👥زياد بن ميناء
Newزياد بن ميناء ← أبو سعد بن أبي فضالة الأنصاري
مقبول
👤←👥جعفر بن عبد الله الأنصاري، أبو عبد الحميد
Newجعفر بن عبد الله الأنصاري ← زياد بن ميناء
ثقة
👤←👥عبد الحميد بن جعفر الأنصاري، أبو حفص، أبو الفضل
Newعبد الحميد بن جعفر الأنصاري ← جعفر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥محمد بن بكر البرساني، أبو عثمان، أبو عبد الله
Newمحمد بن بكر البرساني ← عبد الحميد بن جعفر الأنصاري
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن بكر البرساني
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3154
إذا جمع الله الناس ليوم القيامة يوم لا ريب فيه نادى مناد من كان أشرك في عمل عمله لله أحدا فليطلب ثوابه من عند غير الله فإن الله أغنى الشركاء عن الشرك
سنن ابن ماجه
4203
إذا جمع الله الأولين والآخرين ليوم القيامة ليوم لا ريب فيه نادى مناد من كان أشرك في عمل عمله لله فليطلب ثوابه من عند غير الله فإن الله أغنى الشركاء عن الشرك
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3154 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3154
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مؤلف یہ حدیث ارشاد باری ﴿فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاء رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلا صَالِحًا وَلا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا﴾ (الكهف: 110) کی تفسیر میں لائے ہیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3154]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4203
ریا اور شہرت کا بیان۔
سعد بن ابی فضالہ انصاری رضی اللہ عنہ (صحابی تھے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اگلوں اور پچھلوں کو جمع کرے گا، اس دن جس میں کوئی شک نہیں ہے، تو ایک پکارنے والا پکارے گا کہ جس نے کوئی کام اللہ تعالیٰ کے لیے کیا، اور اس میں کسی کو شریک کیا، تو وہ اپنا بدلہ شرکاء سے طلب کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام شریکوں کی شرکت سے بے نیاز ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4203]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  ریاکاری قیامت کے دن رسوائی کا باعث ہے۔

(2)
ثواب دینا صرف اللہ کا کام ہے لہٰذا کوئی کسی سے کوئی ثواب حاصل نہیں کرسکتا۔
اس لحاظ سے ریاکاری والے عمل بے کار ہیں جن کا ثواب نہ اللہ تعالی دے گا نہ عوام دے سکیں گے۔

(3)
ریاکاری قیامت کے دن شرمندگی کا باعث ہوگی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4203]