سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. باب ومن سورة الروم
باب: سورۃ الروم سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3192
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ظَهَرَتْ الروم عَلَى فَارِسَ فَأَعْجَبَ ذَلِكَ الْمُؤْمِنِينَ، فَنَزَلَتْ الم غُلِبَتِ الرُّومُ إِلَى قَوْلِهِ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِنَصْرِ اللَّهِ سورة الروم آية 1 ـ 5، قَالَ: فَفَرِحَ الْمُؤْمِنُونَ بِظُهُورِ الروم عَلَى فَارِسَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، كَذَا قَرَأَ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ: 0 غَلَبَتِ الرُّومُ 0.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے موقع پر جب رومی اہل فارس پر غالب آ گئے تو مومنوں کو اس سے خوشی حاصل ہوئی ۱؎ اس پر یہ آیت: «الم غلبت الروم» سے لے کر «يفرح المؤمنون بنصر الله» ۲؎ تک نازل ہوئی، وہ کہتے ہیں: روم کے فارس پر غلبہ سے مسلمان بےحد خوش ہوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ایسے ہی نصر بن علی نے «غَلَبَتِ الرُّومُ» ( «غ» اور «ل» کے زبر کے ساتھ) پڑھا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3192]
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ایسے ہی نصر بن علی نے «غَلَبَتِ الرُّومُ» ( «غ» اور «ل» کے زبر کے ساتھ) پڑھا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3192]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم 2935 (صحیح) (بعد کی حدیث سے یہ صحیح لغیرہ ہے)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ رومی اہل کتاب تھے اور مسلمان بھی اہل کتاب اس لیے ان کی کامیابی میں انہیں اپنی کامیابی دکھائی دی۔ ۲؎: ”رومی مغلوب ہو گئے ہیں، نزدیک کی زمین پر اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آ جائیں گے، چند سال میں ہی، اس سے پہلے اور اس کے بعد بھی اختیار اللہ تعالیٰ کا ہی ہے، اس روز مسلمان شادمان ہوں گے“ (الروم: ۱-۴)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح بما بعده (3193) ومضى برقم (3116)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2935
| لما كان يوم بدر ظهرت الروم على فارس فأعجب ذلك المؤمنين فنزلت الم غلبت الروم إلى قوله يفرح المؤمنون قال يفرح المؤمنون بظهور الروم على فارس |
جامع الترمذي |
3192
| لما كان يوم بدر ظهرت الروم على فارس فأعجب ذلك المؤمنين فنزلت الم غلبت الروم إلى قوله يفرح المؤمنون بنصر الله قال ففرح المؤمنون بظهور الروم على فارس |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3192 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3192
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
کیونکہ رومی اہل کتاب تھے اور مسلمان بھی اہل کتاب اس لیے ان کی کامیابی میں انہیں اپنی کامیابی دکھائی دی۔
2؎:
رومی مغلوب ہو گئے ہیں،
نزدیک کی زمین پر اوروہ مغلوب ہونے کے بعدعنقریب غالب آ جائیں گے،
چند سال میں ہی،
اس سے پہلے اوراس کے بعد بھی اختیاراللہ تعالیٰ کا ہی ہے،
اس روز مسلمان شادمان ہوں گے (الروم: 1 - 4)
نوٹ:
(بعد کی حدیث سے یہ صحیح لغیرہ ہے)
وضاحت:
1؎:
کیونکہ رومی اہل کتاب تھے اور مسلمان بھی اہل کتاب اس لیے ان کی کامیابی میں انہیں اپنی کامیابی دکھائی دی۔
2؎:
رومی مغلوب ہو گئے ہیں،
نزدیک کی زمین پر اوروہ مغلوب ہونے کے بعدعنقریب غالب آ جائیں گے،
چند سال میں ہی،
اس سے پہلے اوراس کے بعد بھی اختیاراللہ تعالیٰ کا ہی ہے،
اس روز مسلمان شادمان ہوں گے (الروم: 1 - 4)
نوٹ:
(بعد کی حدیث سے یہ صحیح لغیرہ ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3192]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2935
سورۃ الروم کے شانِ نزول کا بیان۔
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر رومی (اہل کتاب نصاریٰ) اہل فارس (آتش پرست مجوسیوں) پر غالب آ گئے۔ تو یہ چیز مسلمانوں کو بڑی پسند آئی اور اسی موقع پر ( «الم غلبت الروم» سے «يفرح المؤمنون» ) تک کی آیات نازل ہوئیں ۱؎۔ چنانچہ مسلمان اہل روم کے اہل فارس پر غلبہ سے خوش ہوئے ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب القراءات/حدیث: 2935]
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر رومی (اہل کتاب نصاریٰ) اہل فارس (آتش پرست مجوسیوں) پر غالب آ گئے۔ تو یہ چیز مسلمانوں کو بڑی پسند آئی اور اسی موقع پر ( «الم غلبت الروم» سے «يفرح المؤمنون» ) تک کی آیات نازل ہوئیں ۱؎۔ چنانچہ مسلمان اہل روم کے اہل فارس پر غلبہ سے خوش ہوئے ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب القراءات/حدیث: 2935]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
الم،
رومی مغلوب ہوگئے ہیں نزدیک کی زمین پر اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آ جائیں گے،
چند سال میں ہی،
اس سے پہلے اوراس کے بعد بھی اختیاراللہ تعالیٰ ہی کا ہے،
اس روز مسلمان خوش ہوں گے۔
(الروم: 1-4)
2؎:
اس لیے کہ مسلمان اہل کتاب (قرآن والے) تھے اور رومی بھی اہل کتاب (انجیل والے) تھے،
اور اہل فارس کافرومشرک تھے جیسے اہل مکہ کافرومشرک تھے۔
ان کی خوشی ادنی موافقت کی بنا پر تھی۔
نوٹ:
(عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں،
شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
وضاحت:
1؎:
الم،
رومی مغلوب ہوگئے ہیں نزدیک کی زمین پر اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آ جائیں گے،
چند سال میں ہی،
اس سے پہلے اوراس کے بعد بھی اختیاراللہ تعالیٰ ہی کا ہے،
اس روز مسلمان خوش ہوں گے۔
(الروم: 1-4)
2؎:
اس لیے کہ مسلمان اہل کتاب (قرآن والے) تھے اور رومی بھی اہل کتاب (انجیل والے) تھے،
اور اہل فارس کافرومشرک تھے جیسے اہل مکہ کافرومشرک تھے۔
ان کی خوشی ادنی موافقت کی بنا پر تھی۔
نوٹ:
(عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں،
شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2935]
عطية بن سعد العوفي ← أبو سعيد الخدري