Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. باب ومن سورة الروم
باب: سورۃ الروم سے بعض آیات کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3192
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ظَهَرَتْ الروم عَلَى فَارِسَ فَأَعْجَبَ ذَلِكَ الْمُؤْمِنِينَ، فَنَزَلَتْ الم غُلِبَتِ الرُّومُ إِلَى قَوْلِهِ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِنَصْرِ اللَّهِ سورة الروم آية 1 ـ 5، قَالَ: فَفَرِحَ الْمُؤْمِنُونَ بِظُهُورِ الروم عَلَى فَارِسَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، كَذَا قَرَأَ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ: 0 غَلَبَتِ الرُّومُ 0.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے موقع پر جب رومی اہل فارس پر غالب آ گئے تو مومنوں کو اس سے خوشی حاصل ہوئی ۱؎ اس پر یہ آیت: «الم غلبت الروم» سے لے کر «يفرح المؤمنون بنصر الله» ۲؎ تک نازل ہوئی، وہ کہتے ہیں: روم کے فارس پر غلبہ سے مسلمان بےحد خوش ہوئے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ایسے ہی نصر بن علی نے «غَلَبَتِ الرُّومُ» ( «غ» اور «ل» کے زبر کے ساتھ) پڑھا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3192]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم 2935 (صحیح) (بعد کی حدیث سے یہ صحیح لغیرہ ہے)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ رومی اہل کتاب تھے اور مسلمان بھی اہل کتاب اس لیے ان کی کامیابی میں انہیں اپنی کامیابی دکھائی دی۔
۲؎: رومی مغلوب ہو گئے ہیں، نزدیک کی زمین پر اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آ جائیں گے، چند سال میں ہی، اس سے پہلے اور اس کے بعد بھی اختیار اللہ تعالیٰ کا ہی ہے، اس روز مسلمان شادمان ہوں گے (الروم: ۱-۴)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح بما بعده (3193) ومضى برقم (3116)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥عطية بن سعد العوفي، أبو الحسن
Newعطية بن سعد العوفي ← أبو سعيد الخدري
ضعيف الحديث
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← عطية بن سعد العوفي
ثقة حافظ
👤←👥سليمان بن طرخان التيمي، أبو المعتمر
Newسليمان بن طرخان التيمي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥معتمر بن سليمان التيمي، أبو محمد
Newمعتمر بن سليمان التيمي ← سليمان بن طرخان التيمي
ثقة
👤←👥نصر بن علي الأزدي، أبو عمرو
Newنصر بن علي الأزدي ← معتمر بن سليمان التيمي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2935
لما كان يوم بدر ظهرت الروم على فارس فأعجب ذلك المؤمنين فنزلت الم غلبت الروم إلى قوله يفرح المؤمنون قال يفرح المؤمنون بظهور الروم على فارس
جامع الترمذي
3192
لما كان يوم بدر ظهرت الروم على فارس فأعجب ذلك المؤمنين فنزلت الم غلبت الروم إلى قوله يفرح المؤمنون بنصر الله قال ففرح المؤمنون بظهور الروم على فارس
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3192 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3192
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
کیونکہ رومی اہل کتاب تھے اور مسلمان بھی اہل کتاب اس لیے ان کی کامیابی میں انہیں اپنی کامیابی دکھائی دی۔

2؎:
رومی مغلوب ہو گئے ہیں،
نزدیک کی زمین پر اوروہ مغلوب ہونے کے بعدعنقریب غالب آ جائیں گے،
چند سال میں ہی،
اس سے پہلے اوراس کے بعد بھی اختیاراللہ تعالیٰ کا ہی ہے،
اس روز مسلمان شادمان ہوں گے (الروم: 1 - 4)

نوٹ:
(بعد کی حدیث سے یہ صحیح لغیرہ ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3192]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2935
سورۃ الروم کے شانِ نزول کا بیان۔
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر رومی (اہل کتاب نصاریٰ) اہل فارس (آتش پرست مجوسیوں) پر غالب آ گئے۔ تو یہ چیز مسلمانوں کو بڑی پسند آئی اور اسی موقع پر ( «الم غلبت الروم» سے «يفرح المؤمنون» ) تک کی آیات نازل ہوئیں ۱؎۔ چنانچہ مسلمان اہل روم کے اہل فارس پر غلبہ سے خوش ہوئے ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب القراءات/حدیث: 2935]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
الم،
رومی مغلوب ہوگئے ہیں نزدیک کی زمین پر اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آ جائیں گے،
چند سال میں ہی،
اس سے پہلے اوراس کے بعد بھی اختیاراللہ تعالیٰ ہی کا ہے،
اس روز مسلمان خوش ہوں گے۔
 (الروم: 1-4)
2؎:
اس لیے کہ مسلمان اہل کتاب (قرآن والے) تھے اور رومی بھی اہل کتاب (انجیل والے) تھے،
اور اہل فارس کافرومشرک تھے جیسے اہل مکہ کافرومشرک تھے۔
ان کی خوشی ادنی موافقت کی بنا پر تھی۔

نوٹ:
(عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں،
شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2935]