🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. باب ومن سورة ص
باب: سورۃ ص سے بعض آیات کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3233
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَعَبْدُ بْنُ حميد، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَانِي اللَّيْلَةَ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ، قَالَ: أَحْسَبُهُ قَالَ فِي الْمَنَامِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ هَلْ تَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ، أَوْ قَالَ: فِي نَحْرِي، فَعَلِمْتُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ هَلْ تَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فِي الْكَفَّارَاتِ، وَالْكَفَّارَاتُ: الْمُكْثُ فِي الْمَسَاجِدِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ، وَالْمَشْيُ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ، وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكَارِهِ، وَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ عَاشَ بِخَيْرٍ وَمَاتَ بِخَيْرٍ، وَكَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِذَا صَلَّيْتَ فَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَإِذَا أَرَدْتَ بِعِبَادِكَ فِتْنَةً فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مَفْتُونٍ، قَالَ: وَالدَّرَجَاتُ إِفْشَاءُ السَّلَامِ، وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ ذَكَرُوا بَيْنَ أَبِي قِلَابَةَ، وَبَيْنَ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ رَجُلًا، وَقَدْ رَوَاهُ قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا بزرگ و برتر رب بہترین صورت میں میرے پاس آیا، مجھے خیال پڑتا ہے کہ آپ نے فرمایا: - خواب میں - رب کریم نے کہا: اے محمد! کیا تمہیں معلوم ہے کہ «ملا ٔ اعلی» (اونچے مرتبے والے فرشتے) کس بات پر آپس میں لڑ جھگڑ رہے ہیں، آپ نے فرمایا: میں نے کہا کہ میں نہیں جانتا تو اللہ نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے بیچ میں رکھ دیا جس کی ٹھنڈک میں نے اپنی چھاتیوں کے درمیان محسوس کی، یا اپنے سینے میں یا «نحری» کہا، (ہاتھ کندھے پر رکھنے کے بعد) آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے، وہ میں جان گیا، رب کریم نے فرمایا: اے محمد! کیا تم جانتے ہو «ملا ٔ اعلی» میں کس بات پر جھگڑا ہو رہا ہے، (بحث و تکرار ہو رہی ہے)؟ میں نے کہا: ہاں، کفارات گناہوں کو مٹا دینے والی چیزوں کے بارے میں (کہ وہ کون کون سی چیزیں ہیں؟) (فرمایا) کفارات یہ ہیں: (۱) نماز کے بعد مسجد میں بیٹھ کر دوسری نماز کا انتظار کرنا، (۲) پیروں سے چل کر نماز باجماعت کے لیے مسجد میں جانا، (۳) ناگواری کے باوجود باقاعدگی سے وضو کرنا، جو ایسا کرے گا بھلائی کی زندگی گزارے گا، اور بھلائی کے ساتھ مرے گا اور اپنے گناہوں سے اس طرح پاک و صاف ہو جائے گا جس طرح وہ اس دن پاک و صاف تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا، رب کریم کہے گا: اے محمد! جب تم نماز پڑھ چکو تو کہو: «اللهم إني أسألك فعل الخيرات وترك المنكرات وحب المساكين وإذا أردت بعبادك فتنة فاقبضني إليك غير مفتون» اے اللہ میں تجھ سے بھلے کام کرنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، اور ناپسندیدہ و منکر کاموں سے بچنا چاہتا ہوں اور مسکینوں سے محبت کرنا چاہتا ہوں، اور جب تو اپنے بندوں کو کسی آزمائش میں ڈالنا چاہیئے تو فتنے میں ڈالے جانے سے پہلے مجھے اپنے پاس بلا لے، آپ نے فرمایا: درجات بلند کرنے والی چیزیں (۱) سلام کو پھیلانا عام کرنا ہے، (۲) (محتاج و مسکین) کو کھانا کھلانا ہے، (۳) رات کو تہجد پڑھنا ہے کہ جب لوگ سو رہے ہوں ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- کچھ محدثین نے ابوقلابہ اور ابن عباس رضی الله عنہما کے درمیان اس حدیث میں ایک شخص کا ذکر کیا ہے۔ (اور وہ خالد بن لجلاج ہیں ان روایت کے آگے آ رہی ہے)
۲- اس حدیث کو قتادہ نے ابوقلابہ سے روایت کی ہے اور ابوقلابہ نے خالد بن لجلاج سے، اور خالد بن لجلاج نے ابن عباس سے روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3233]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 5417) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مولف نے اس حدیث کو ارشاد باری تعالیٰ «ما كان لي من علم بالملإ الأعلى إذ يختصمون» (ص: 69) کی تفسیر میں ذکر کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الظلال (388) ، التعليق الرغيب (1 / 98 - 126)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عبد الله بن زيد الجرمي، أبو كلابة، أبو قلابة
Newعبد الله بن زيد الجرمي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← عبد الله بن زيد الجرمي
ثقة ثبتت حجة
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← أيوب السختياني
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥عبد بن حميد الكشي، أبو محمد
Newعبد بن حميد الكشي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة حافظ
👤←👥سلمة بن شبيب المسمعي، أبو عبد الرحمن
Newسلمة بن شبيب المسمعي ← عبد بن حميد الكشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3234
فيم يختصم الملأ الأعلى قلت في الدرجات والكفارات وفي نقل الأقدام إلى الجماعات وإسباغ الوضوء في المكروهات وانتظار الصلاة بعد الصلاة ومن يحافظ عليهن عاش بخير ومات بخير وكان من ذنوبه كيوم ولدته أمه
جامع الترمذي
3233
هل تدري فيم يختصم الملأ الأعلى قلت نعم قال في الكفارات والكفارات المكث في المساجد بعد الصلوات والمشي على الأقدام إلى الجماعات وإسباغ الوضوء في المكاره ومن فعل ذلك عاش بخير ومات بخير وكان من خطيئته كيوم ولدته أمه اللهم إني أسألك فعل الخيرات وترك الم
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3233 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3233
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے اللہ میں تجھ سے بھلے کام کرنے کی توفیق طلب کرتا ہوں،
اور ناپسندیدہ و منکر کاموں سے بچنا چاہتا ہوں اور مسکینوں سے محبت کرنا چاہتا ہوں،
اور جب تو اپنے بندوں کو کسی آزمائش میں ڈالنا چاہیے تو فتنے میں ڈالے جانے سے پہلے مجھے اپنے پاس بلا لے۔

2؎:
مؤلف نے اس حدیث کو ارشاد باری تعالیٰ ﴿مَا كَانَ لِي مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلإِ الأَعْلَى إِذْ يَخْتَصِمُونَ﴾ (ص: 69) کی تفسیر میں ذکر کیا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3233]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3234
سورۃ ص سے بعض آیات کی تفسیر۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے میرا رب (خواب میں) بہترین صورت میں نظر آیا، اور اس نے مجھ سے کہا: محمد! میں نے کہا: میرے رب! میں تیری خدمت میں حاضر و موجود ہوں، کہا: اونچے مرتبے والے فرشتوں کی جماعت کس بات پر جھگڑ رہی ہے؟ میں نے عرض کیا: (میرے) رب! میں نہیں جانتا، (اس پر) میرے رب نے اپنا دست شفقت و عزت میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک میں نے اپنی چھاتیوں کے درمیان (سینے میں) محسوس کی، اور مجھے مشرق و مغرب کے درمیان کی چیزوں کا علم حاصل ہو گیا، (پھر) کہا: محمد! میں ن۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3234]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی حدیث تو خود مؤلف کے یہاں آ رہی ہے،
اورعبدالرحمن بن عائش رضی اللہ عنہ کی حدیث بغوی کی شرح السنہ میں ہے،
ان عبدالرحمن بن عائش کی صحابیت کے بارے میں اختلاف ہے،
صحیح یہی معلوم ہوتا ہے کہ صحابی نہیں ہیں،
معاذ کی اگلی حدیث بھی انہی کے واسطہ سے ہے اور ان کے اور معاذ کے درمیان بھی ایک راوی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3234]