سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
48. باب ومن سورة الفتح
باب: سورۃ الفتح سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3265
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ ثُوَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى سورة الفتح آية 26، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ "، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْحَسَنِ بْنِ قَزَعَةَ، قَالَ: وَسَأَلْتُ أَبَا زُرْعَةَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «وألزمهم كلمة التقوى» ”اللہ نے انہیں تقوے کی بات پر جمائے رکھا“ (الفتح: ۲۶)، کے متعلق فرمایا: ”اس سے مراد «لا إله إلا الله» ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- اسے ہم حسن بن قزعہ کے سوا کسی اور کو مرفوع روایت کرتے ہوئے نہیں جانتے،
۳- میں نے ابوزرعہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس سند کے سوا کسی اور سند سے اسے مرفوع نہیں جانا۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3265]
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- اسے ہم حسن بن قزعہ کے سوا کسی اور کو مرفوع روایت کرتے ہوئے نہیں جانتے،
۳- میں نے ابوزرعہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس سند کے سوا کسی اور سند سے اسے مرفوع نہیں جانا۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3265]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 31) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3265
| وألزمهم كلمة التقوى قال لا إله إلا الله |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3265 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3265
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
(اللہ نے انہیں تقوے کی بات پر جمائے رکھا) (الفتح: 26)
وضاحت:
1؎:
(اللہ نے انہیں تقوے کی بات پر جمائے رکھا) (الفتح: 26)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3265]
الطفيل بن أبي الأنصاري ← أبي بن كعب الأنصاري