سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
77. باب ومن سورة الغاشية
باب: سورۃ الغاشیہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3341
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ، ثُمَّ قَرَأَ: إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ {21} لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُسَيْطِرٍ {22} سورة الغاشية آية 21-22 ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم ملا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک لڑوں (جنگ جاری رکھو) جب تک کہ لوگ «لا إلہ إلا اللہ» کہنے نہ لگ جائیں، جب لوگ اس کلمے کو کہنے لگ جائیں تو وہ اپنے خون اور مال کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے، سوائے اس صورت کے جب کہ جان و مال دینا حق بن جائے تو پھر دینا ہی پڑے گا، اور ان کا (حقیقی) حساب تو اللہ ہی لے گا، پھر آپ نے آیت «إنما أنت مذكر لست عليهم بمصيطر» ”آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں آپ کچھ ان پر داروغہ نہیں ہیں“ (الغاشیہ: ۲۲)، پڑھی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3341]
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3341]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 8 (21/35) (تحفة الأشراف: 2744) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بظاہر اس باب کی حدیث اور اس آیت میں تضاد نظر آ رہا ہے، امام نووی فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کے وقت قتال کا حکم نہیں تھا، بعد میں ہوا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح متواتر، ابن ماجة (71)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري | صدوق إلا أنه يدلس | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← محمد بن مسلم القرشي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد عبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري | ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
128
| أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فإذا قالوا لا إله إلا الله عصموا مني دماءهم وأموالهم إلا بحقها وحسابهم على الله |
جامع الترمذي |
3341
| أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فإذا قالوها عصموا مني دماءهم وأموالهم إلا بحقها وحسابهم على الله |
سنن ابن ماجه |
3928
| أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فإذا قالوا لا إله إلا الله عصموا مني دماءهم وأموالهم إلا بحقها وحسابهم على الله |
المعجم الصغير للطبراني |
590
| لا تمنوا لقاء العدو ، وسلوا الله العافية ، فإنكم لا تدرون ما تبتلون به منهم ، فإذا لقيتموهم ، فقولوا : اللهم ، أنت ربنا وربهم ، ونواصينا بيدك ، وإنما تقتلهم أنت ، ثم الزموا الأرض جلوسا ، فإذا غشوكم فانهضوا وكبروا ، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : لأبعثن غدا رجلا يحب الله ورسوله ويحبانه ، لا يولي الدبر ، فلما كان الغد بعث عليا وهو أرمد شديد الرمد ، فقال : سر ، فقال : يا رسول الله ، ما أبصر موضع قدمي ، فتفل فى عينه ، وعقد له اللواء ، ودفع إليه الراية ، فقال على : على ما أقاتل يا رسول الله ؟ ، قال : على أن يشهدوا أن لا إله إلا الله ، وأني رسول الله ، فإذا فعلوا ذلك فقد حقنوا دماءهم وأموالهم إلا بحقها ، وحسابهم على الله عز وجل |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3341 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3341
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں آپ کچھ ان پر داروغہ نہیں ہیں (الغاشیة: 22)
2؎:
بظاہراس باب کی حدیث اور اس آیت میں تضاد نظر آ رہا ہے،
امام نووی فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کے وقت قتال کا حکم نہیں تھا،
بعد میں ہوا۔
وضاحت:
1؎:
آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں آپ کچھ ان پر داروغہ نہیں ہیں (الغاشیة: 22)
2؎:
بظاہراس باب کی حدیث اور اس آیت میں تضاد نظر آ رہا ہے،
امام نووی فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کے وقت قتال کا حکم نہیں تھا،
بعد میں ہوا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3341]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 128
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم ملا ہے، کہ لوگوں سے جنگ لڑوں یہاں تک کہ وہ "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہیں، جب "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہہ لیں گے، تو اس کے بعد میری طرف سے ان کے خون اور مال محفوظ ہیں اِلّا یہ کہ اس (کلمہ) کے حق کا تقاضا ہو، اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔ پھر آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے پڑھا:”بس آپؐ تو نصیحت کرنے والے ہیں۔ ان پر مسلّط (جبرکرنے والے) نہیں ہیں۔“ (سورة الغاشية: 21،22) [صحيح مسلم، حديث نمبر:128]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جب مصنف سند میں کسی نام کے بعد (یَعْنِيْ)
یا(ھُوَ)
کا اضافہ کر کے کسی نام یا نسبت کا تذکرہ کرتے ہیں تو اس میں اس طرف اشارہ ہوتاہے کہ مصنف کے استاد نے اس نام یا نسبت کو ذکر نہیں کیا تھا،
بلکہ مصنف نے توضیح وتعیین کےلیے ایسے کیا ہے۔
فوائد ومسائل:
جب مصنف سند میں کسی نام کے بعد (یَعْنِيْ)
یا(ھُوَ)
کا اضافہ کر کے کسی نام یا نسبت کا تذکرہ کرتے ہیں تو اس میں اس طرف اشارہ ہوتاہے کہ مصنف کے استاد نے اس نام یا نسبت کو ذکر نہیں کیا تھا،
بلکہ مصنف نے توضیح وتعیین کےلیے ایسے کیا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 128]
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري