🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب ما جاء في فضل الدعاء
باب: دعا کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3372
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ يُسَيْعٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ "، ثُمَّ قَرَأَ: وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ سورة غافر آية 60 ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ مَنْصُورٌ، وَالْأَعْمَشُ، عَنْ ذَرٍّ وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ذَرٍّ هُوَ ذَرُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ ثِقَةٌ وَالِدُ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ.
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دعا ہی عبادت ہے، پھر آپ نے آیت: «وقال ربكم ادعوني أستجب لكم إن الذين يستكبرون عن عبادتي سيدخلون جهنم داخرين» تمہارا رب فرماتا ہے، تم مجھے پکارو، میں تمہاری پکار (دعا) کو قبول کروں گا، جو لوگ مجھ سے مانگنے سے گھمنڈ کرتے ہیں، وہ جہنم میں ذلیل و خوار ہو کر داخل ہوں گے (المومن: ۶) پڑھی۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- منصور نے یہ حدیث اعمش سے اور اعمش نے ذر سے روایت کی ہے، ہم اسے صرف ذر کی روایت سے جانتے ہیں، یہ ذر بن عبداللہ ہمدانی ہیں ثقہ ہیں، عمر بن ذر کے والد ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3372]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم 2969، و3247 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3828)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥النعمان بن بشير الأنصاري، أبو عبد اللهصحابي صغير
👤←👥يسيع بن معدان الحضرمي
Newيسيع بن معدان الحضرمي ← النعمان بن بشير الأنصاري
ثقة
👤←👥ذر بن عبد الله المرهبي، أبو عمرو، أبو عمر
Newذر بن عبد الله المرهبي ← يسيع بن معدان الحضرمي
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← ذر بن عبد الله المرهبي
ثقة حافظ
👤←👥مروان بن معاوية الفزاري، أبو عبد الله
Newمروان بن معاوية الفزاري ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة حافظ وكان يدلس أسماء الشيوخ
👤←👥أحمد بن منيع البغوي، أبو عبد الله، أبو جعفر
Newأحمد بن منيع البغوي ← مروان بن معاوية الفزاري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3247
الدعاء هو العبادة ثم قرأ وقال ربكم ادعوني أستجب لكم إن الذين يستكبرون عن عبادتي سيدخلون جهنم داخرين
جامع الترمذي
3372
الدعاء هو العبادة ثم قرأ وقال ربكم ادعوني أستجب لكم إن الذين يستكبرون عن عبادتي سيدخلون جهنم داخرين
جامع الترمذي
2969
الدعاء هو العبادة
سنن أبي داود
1479
الدعاء هو العبادة قال ربكم ادعوني أستجب لكم
سنن ابن ماجه
3828
الدعاء هو العبادة ثم قرأ وقال ربكم ادعوني أستجب لكم
المعجم الصغير للطبراني
979
الدعاء هو العبادة ثم تلا وقال ربكم ادعوني أستجب لكم إن الذين يستكبرون عن عبادتي
بلوغ المرام
1342
إن الدعاء هو العبادة
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3372 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3372
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
تمہارا رب فرماتا ہے،
تم مجھے پکارو،
میں تمہاری پکار (دعاء) کو قبول کروں گا،
جو لوگ مجھ سے مانگنے سے گھمنڈ کرتے ہیں،
وہ جہنم میں ذلیل وخوار ہو کر داخل ہوں گے (المومن: 6)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3372]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1479
دعا کا بیان۔
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دعا عبادت ہے ۱؎، تمہارا رب فرماتا ہے: مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا (سورۃ غافر: ۶۰)۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1479]
1479. اردو حاشیہ: جب دعا عبادت ہے۔تو غیر اللہ سے دعا کرنا شرک ہوا۔لہذا زبان زدعام کلمات یارسول اللہ یا علی۔یا حسین۔یا غوث۔وغیرہ قسم کے انداز سےدعایئں کرنا نعرے لگانا یا ان کے طغرے لکھنا اور لٹکانا صریح شرک ہے۔اور ان سے بچنافرض ہے۔اورعلمائے حق پرواجب ہے۔ کہ عوام کو مسئلہ توحید کی اہمیت اور نزاکت سے آگاہ کرتے رہا کریں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1479]

علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1342
ذکر اور دعا کا بیان
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک دعا ہی عبادت ہے۔ اسے چاروں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے اور ترمذی میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں «الدعاء مخ العبادة» کے الفاظ ہیں یعنی دعا مغز عبادت ہے۔ اور ترمذی میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ کوئی چیز معزز و مکرم نہیں۔ ابن حبان اور حاکم دونوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1342»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الصلاة، باب الدعاء، حديث:1479، والترمذي، تفسير القرآن، حديث:3247، وابن ماجه، الدعاء، حديُ:3828، والنسائي، في الكبرٰي:6 /450، حديث:11464، "الدعاءمخ العبادة" أخرجه الترمذي، الدعوات، حديث:3371 وسنده ضعيف، وليد بن مسلم وشيخه عنعنا، "ليس شيء أكرم علي الله من الدعاء "أخرجه الترمذي، الدعوات، حديث:3370، وابن حبان (الموارد)، حديث:2397، والحاكم:1 /490، وصححه، ووافقه الذهبي، وسنده ضعيف، قتادة عنعن.»
تشریح:
1. ہمارے فاضل محقق نے حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی روایات کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت کو شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے اور اس روایت پر سیرحاصل بحث کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث شواہد کی بنا پر حسن درجے کی ہے اور یہی رائے اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۱۴ /۳۶۰‘ ۳۶۱‘ والمشکاۃ للألباني‘ التحقیق الثاني‘ رقم:۲۳۲) 2. اس حدیث میں دعا کو عبادت قرار دیا گیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ غیر اللہ سے جو دعائیں حاجات و مشکلات حل کرانے کے لیے کی جاتی ہیں وہ گویا غیر اللہ کی عبادت ہے‘ اسی لیے غیراللہ سے دعا مانگنا شرک ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1342]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3828
دعا کی فضیلت۔
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک دعا ہی عبادت ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «وقال ربكم ادعوني أستجب لكم» اور تمہارے رب نے کہا: دعا کرو (مجھے پکارو) میں تمہاری دعا قبول کروں گا (سورة الغافر: 60)۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3828]
اردو حاشہ:
  فوائد و مسائل:
کسی مخلوق سے ایسی چیز کا سوال کرنا جو صرف اللہ کے اختیار میں ہے، اس مخلوق کی عبادت ہے، لہٰذا شرک ہے۔
وہ مخلوق خواہ بے جان پتھر، سورج، ستارے، درخت وغیرہ ہوں یا حیوان، جن، فرشتہ، ولی یا نبی، ان سے اسباب سے ماورا طریقے سے کچھ طلب کرنا شرک ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3828]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2969
سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «وقال ربكم ادعوني أستجب لكم» اور تمہارے رب کا فرمان ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا، یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے اعراض کرتے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں پہنچ جائیں گے (غافر: ۶۰)، کی تفسیر میں فرمایا کہ دعا ہی عبادت ہے۔ پھر آپ نے سورۃ مومن کی آیت «وقال ربكم ادعوني أستجب لكم» سے «داخرين» ۱؎ تک پڑھی۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2969]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اور تمہارے رب کا فرمان ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا،
یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے اعراض کرتے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں پہنچ جائیں گے (المؤمن: 60)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2969]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3247
سورۃ مومن سے بعض آیات کی تفسیر۔
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: دعا ہی عبادت ہے، پھر آپ نے آیت: «وقال ربكم ادعوني أستجب لكم إن الذين يستكبرون عن عبادتي سيدخلون جهنم داخرين» (غافر: 60) ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3247]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
تمہارے رب نے فرمایا:
مجھ سے دعاکرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔
جولوگ بڑا بن کر میری عبادت (دعاء) سے منہ پھیرتے ہیں وہ ذلت خواری کے ساتھ جہنم میں جائیں گے۔
(المؤمن: 60)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3247]