سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب ما جاء في الدعاء إذا أوى إلى فراشه
باب: آدمی جب اپنے بستر پر سونے کے لیے جائے تو کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 3396
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَآوَانَا وَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر سونے کے لیے آتے تو کہتے: «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وكفانا وآوانا فكم ممن لا كافي له ولا مؤوي» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم کو کھلایا اور پلایا اور بچایا ہم کو (مخلوق کے شر سے) اور ہم کو (رہنے سہنے کے لیے) ٹھکانا دیا، جب کہ کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کا نہ کوئی حمایتی اور محافظ ہے اور نہ ہی کوئی ٹھکانا اور جائے رہائش“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3396]
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3396]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الذکر والدعاء 17 (2715)، سنن ابی داود/ الأدب 107 (5053) (تحفة الأشراف: 311)، و مسند احمد (3/153، 167، 235) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥عفان بن مسلم الباهلي، أبو عثمان عفان بن مسلم الباهلي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت | |
👤←👥إسحاق بن منصور الكوسج، أبو يعقوب إسحاق بن منصور الكوسج ← عفان بن مسلم الباهلي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
6894
| الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وكفانا وآوانا كم ممن لا كافي له ولا مؤوي |
جامع الترمذي |
3396
| الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وكفانا وآوانا كم ممن لا كافي له ولا مؤوي |
سنن أبي داود |
5053
| الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وكفانا وآوانا كم ممن لا كافي له ولا مؤوي |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3396 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3396
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم کو کھلایا اور پلایا اور بچایا ہم کو (مخلوق کے شر سے) اور ہم کو (رہنے سہنے کے لیے) ٹھکانا دیا،
جب کہ کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کا نہ کوئی حمایتی اور محافظ ہے اور نہ ہی کوئی ٹھکانا اور جائے رہائش۔
وضاحت:
1؎:
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم کو کھلایا اور پلایا اور بچایا ہم کو (مخلوق کے شر سے) اور ہم کو (رہنے سہنے کے لیے) ٹھکانا دیا،
جب کہ کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کا نہ کوئی حمایتی اور محافظ ہے اور نہ ہی کوئی ٹھکانا اور جائے رہائش۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3396]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5053
سوتے وقت کیا دعا پڑھے؟
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر آتے تو یہ دعا پڑھتے «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وكفانا وآوانا فكم ممن لا كافي له ولا مئوي» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم کو کھلایا اور پلایا، دشمن کے شر سے بچایا، ہم کو پناہ دی، کتنے بندے تو ایسے ہیں جنہیں نہ کوئی بچانے والا ہے، اور نہ کوئی پناہ دینے والا ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5053]
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر آتے تو یہ دعا پڑھتے «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وكفانا وآوانا فكم ممن لا كافي له ولا مئوي» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم کو کھلایا اور پلایا، دشمن کے شر سے بچایا، ہم کو پناہ دی، کتنے بندے تو ایسے ہیں جنہیں نہ کوئی بچانے والا ہے، اور نہ کوئی پناہ دینے والا ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5053]
فوائد ومسائل:
بندے کو اللہ عزوجل کی ہر ہر نعمت کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
اور بالخصو ص محروم لوگوں کو دیکھ کر اور زیادہ جھکنا چاہیے۔
بندے کو اللہ عزوجل کی ہر ہر نعمت کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
اور بالخصو ص محروم لوگوں کو دیکھ کر اور زیادہ جھکنا چاہیے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5053]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6894
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر قرار پکڑتے، یہ دعا پڑھتے"حمدو شکر کا حقدار اللہ ہے جس نے ہمیں کھلا یا اور پلایا اور ہماری ضرورتیں پوری کیں اور ہمیں ٹھکانا دیا سو کتنے ہی بندے ہیں۔ جن کا نہ کوئی ضروریات پوری کرنے والا ہے اور نہ انہیں ٹھکانا دینے والا ہے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6894]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ہم جو کھاتے پیتے ہیں،
جو ٹھکانے ہمیں میسر ہیں اور ہماری ضروریات پوری ہو رہی ہیں،
یعنی جو کچھ ہمیں مل رہا ہے،
وہ سب ہمارے رب مہربان کا عطیہ ہے اس لیے وہی حمدو شکر کا حقدار ہے،
اس طرح اس اعتراف حقیقت اور دعا کے ذریعہ ہم اللہ کی ان تمام نعمتوں کا شکر ادا کر سکتے ہیں،
جن سے ہم فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
فوائد ومسائل:
ہم جو کھاتے پیتے ہیں،
جو ٹھکانے ہمیں میسر ہیں اور ہماری ضروریات پوری ہو رہی ہیں،
یعنی جو کچھ ہمیں مل رہا ہے،
وہ سب ہمارے رب مہربان کا عطیہ ہے اس لیے وہی حمدو شکر کا حقدار ہے،
اس طرح اس اعتراف حقیقت اور دعا کے ذریعہ ہم اللہ کی ان تمام نعمتوں کا شکر ادا کر سکتے ہیں،
جن سے ہم فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6894]
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري