🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب الدعاء عند النوم
باب: سوتے وقت کی دعا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2715 ترقیم شاملہ: -- 6894
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ، قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَآوَانَا، فَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ؟ ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر جاتے تو فرماتے: «الحمد للہ الذی اطعمنا وسقانا وکفانا وآوانا فکم ممن لا کفاء لہ ولا مؤوی» اللہ تعالیٰ کی حمد ہے جس نے ہمیں کھلایا، پلایا، (ہر طرح سے) کافی ہوا اور ہمیں ٹھکانا دیا۔ کتنے لوگ ہیں جن کا نہ کوئی کفایت کرنے والا ہے نہ ٹھکانہ دینے والا۔ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6894]
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر قرار پکڑتے، یہ دعا پڑھتے"حمدو شکر کا حقدار اللہ ہے جس نے ہمیں کھلا یا اور پلایا اور ہماری ضرورتیں پوری کیں اور ہمیں ٹھکانا دیا سو کتنے ہی بندے ہیں۔ جن کا نہ کوئی ضروریات پوری کرنے والا ہے اور نہ انہیں ٹھکانا دینے والا ہے۔" [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6894]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد
Newثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة متقن
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6320
إذا أوى أحدكم إلى فراشه فلينفض فراشه بداخلة إزاره فإنه لا يدري ما خلفه عليه ثم يقول باسمك رب وضعت جنبي وبك أرفعه إن أمسكت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين
صحيح البخاري
7393
إذا جاء أحدكم فراشه فلينفضه بصنفة ثوبه ثلاث مرات ليقل باسمك رب وضعت جنبي وبك أرفعه إن أمسكت نفسي فاغفر لها وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين
صحيح مسلم
6894
إذا أوى أحدكم إلى فراشه فليأخذ داخلة إزاره فلينفض بها فراشه وليسم الله فإنه لا يعلم ما خلفه بعده على فراشه إذا أراد أن يضطجع فليضطجع على شقه الأيمن وليقل سبحانك اللهم ربي بك وضعت جنبي وبك أرفعه إن أمسكت نفسي فاغفر لها وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبا
جامع الترمذي
3401
إذا قام أحدكم عن فراشه ثم رجع إليه فلينفضه بصنفة إزاره ثلاث مرات فإنه لا يدري ما خلفه عليه بعده فإذا اضطجع فليقل باسمك ربي وضعت جنبي وبك أرفعه فإن أمسكت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين فإذا استيقظ فليقل الحمد لله الذي عافاني في
سنن أبي داود
5050
إذا أوى أحدكم إلى فراشه فلينفض فراشه بداخلة إزاره فإنه لا يدري ما خلفه عليه ثم ليضطجع على شقه الأيمن ثم ليقل باسمك ربي وضعت جنبي وبك أرفعه إن أمسكت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين
سنن ابن ماجه
3874
إذا أراد أحدكم أن يضطجع على فراشه فلينزع داخلة إزاره ثم لينفض بها فراشه فإنه لا يدري ما خلفه عليه ثم ليضطجع على شقه الأيمن ثم ليقل رب بك وضعت جنبي وبك أرفعه فإن أمسكت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما حفظت به عبادك الصالحين
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
6894
الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وكفانا وآوانا كم ممن لا كافي له ولا مؤوي
جامع الترمذي
3396
الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وكفانا وآوانا كم ممن لا كافي له ولا مؤوي
سنن أبي داود
5053
الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وكفانا وآوانا كم ممن لا كافي له ولا مؤوي
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6894 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6894
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ہم جو کھاتے پیتے ہیں،
جو ٹھکانے ہمیں میسر ہیں اور ہماری ضروریات پوری ہو رہی ہیں،
یعنی جو کچھ ہمیں مل رہا ہے،
وہ سب ہمارے رب مہربان کا عطیہ ہے اس لیے وہی حمدو شکر کا حقدار ہے،
اس طرح اس اعتراف حقیقت اور دعا کے ذریعہ ہم اللہ کی ان تمام نعمتوں کا شکر ادا کر سکتے ہیں،
جن سے ہم فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6894]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5050
سوتے وقت کیا دعا پڑھے؟
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر سونے کے لیے آئے تو اپنے ازار کے کونے سے اسے جھاڑے کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ اس کی جگہ اس کی عدم موجودگی میں کون آ بسا ہے، پھر وہ اپنے داہنے پہلو پر لیٹے، پھر کہے «باسمك ربي وضعت جنبي وبك أرفعه إن أمسكت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين» تیرے نام پر میں اپنا پہلو ڈال کر لیٹتا ہوں اور تیرے ہی نام سے اسے اٹھاتا ہوں، اگر تو میری جان کو روک لے تو تو اس پر رحم فرما اور اگر چھوڑ دے تو اس کی اسی طرح حفاظت فرما جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حف۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5050]
فوائد ومسائل:

سونے سے پہلے بستر کو جھاڑ لینا سنت ہے۔


حدیث میں مذکور دعا کے آخری الفاظ (الصالحين من عبادك) بعض کتب حدیث میں اس طرح بھی ہے۔
(عبادك الصالحين) لہذا دعا میں دونوں طرح کے الفاظ درست ہیں۔
دیکھئے۔
(صحیح البخاري، الدعوات، حدیث: 6320)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5050]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3874
بستر پر لیٹتے وقت کیا دعا پڑھے؟
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر لیٹنے کا ارادہ کرے تو اپنے تہبند کا داخلی کنارہ کھینچ کر اس سے اپنا بستر جھاڑے، اس لیے کہ اسے نہیں پتہ کہ (جانے کے بعد) بستر پر کون سی چیز پڑی ہے، پھر داہنی کروٹ لیٹے اور کہے: «رب بك وضعت جنبي وبك أرفعه فإن أمسكت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما حفظت به عبادك الصالحين» میرے رب! میں نے تیرا نام لے کر اپنا پہلو رکھا ہے، اور تیرے ہی نام پر اس کو اٹھاؤں گا، پھر اگر تو میری جان کو روک لے (یعنی اب میں نہ جاگوں اور مر جاؤں) تو اس پر رحم فرما۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3874]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بستر پر لیٹنے سے پہلے اسے جھاڑ لینا چاہیے کہیں اس پر کوئی موذی چیز بچھو یا چیونٹا وغیرہ نہ ہو جس سے تکلیف پہنچے۔

(2)
اللہ سے دعا حفاظت کا بہترین طریقہ ہے۔

(3)
احتیاط کرنا اور حفاظتی تدابیر اختیار کرنا توکل کے منافی نہیں۔

(4)
جب کوئی انسان سوتا ہے تو اسے سوچنا چاہیے کہ ممکن ہے یہ آخری نیند ہو اس لئے اللہ سے معافی مانگ کر اور اس کا ذکر کرکے مسنون طریقے سے آرام کےلئے لیٹنا چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3874]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3401
سوتے وقت پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی تم میں سے اپنے بستر پر سے اٹھ جائے پھر لوٹ کر اس پر (لیٹنے، بیٹھنے) آئے تو اسے چاہیئے کہ اپنے ازار (تہبند، لنگی) کے (پلو) کو نے اور کنارے سے تین بار بستر کو جھاڑ دے، اس لیے کہ اسے کچھ پتہ نہیں کہ اس کے اٹھ کر جانے کے بعد وہاں کون سی چیز آ کر بیٹھی یا چھپی ہے، پھر جب لیٹے تو کہے: «باسمك ربي وضعت جنبي وبك أرفعه فإن أمسكت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين» اے میرے رب! میں تیرا نام لے کر (اپنے بستر پر) اپنے پہلو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3401]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے میرے رب! میں تیرا نام لے کر (اپنے بستر پر) اپنے پہلو کو ڈال رہا ہوں یعنی سونے جا رہا ہوں،
اور تیرا ہی نام لے کر میں اسے اٹھاؤں گا بھی،
پھر اگر تو میری جان کو (سونے ہی کی حالت میں) روک لیتا ہے (یعنی مجھے موت دے دیتا ہے) تو میری جان پر رحم فرما،
اور اگر تو سونے دیتا ہے تو اس کی ویسی ہی حفاظت فرما جیسی کہ تو اپنے نیک وصالح بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔

2؎:
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے میرے بدن کو صحت مند رکھا،
اور میری روح مجھ پر لوٹا دی اور مجھے اپنی یاد کی اجازت (اور توفیق) دی۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3401]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7393
7393. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جب تم سے کوئی اپنے بستر پر جائے تو کپڑے کے کنارے سے اسے تین مرتبہ جھاڑے اور یہ دعا پڑھے: اے اللہ! تیرے نام سے میں نے اپنا پہلو رکھا اور تیری ہی رحمت سے میں اسے اٹھاؤں گا۔ اگر تو نے میری روح کو روک لیا تو اسے معاف کرنا اور اگر اسے چھوڑ دیا تو اس کی حفاظت کرنا جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔ یحیٰی اور بشر بن مفضل نے عبید اللہ سے، اس نے سعید سے، اس نے سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (اسی طرح) بیان کیا ہے نیز زہیر ابو ضمرہ اور اسماعیل بن زکریا نے عبیداللہ سے یہ اضافہ نقل کیا ہے: ان سے سعید نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابو ہریرہ ؓ نے، ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ابن عجلان نے بھی سعید سے، انہوں نے سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7393]
حدیث حاشیہ:
محمد بن عبد الرحمن طفاوی اور اسامہ بن حفص کی روایتیں خود اس کتاب میں موصولاً گزر چکی ہیں اور عبد العزیز کی روایت کی عدی رضی اللہ عنہ نے وصل کیا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7393]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6320
6320. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے پستر پر لیٹنے کا ارادہ کرے تو پہلے اسے اپنی چادر کے کنارے سے جھاڑ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے بعد کیا چیز داخل ہو گئی ہے۔ پھر یہ دعا پڑھے: اے میرے رب! تیرے نام سے میں نے اپنا پہلو رکھا ہے اور تیری قوت سے میں اسے اٹھاؤں گا۔ اگر تو نے میری جان کو روک لیا تو اس پر رحم کرنا اور اگر اسے چھوڑ دیا تو اس کی حفاظت کرنا جس طرح تو اپنے لوگوں کی حفاظت کرتا ہے۔ ابوضمر اور اسماعیل بن زکریا نے عبید اللہ سے روایت کرنے میں زہیر بن معاویہ کی متابعت کی ہے یحیٰی اور بشر نے عبید اللہ سے بیان کیا، انہوں نے سعید سے، انہوں نے سیدہ ابو ہریرہ ؓ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو بیان کیا مالک اور ابن عجلان نے سعید سے انہوں نے ابو ہریرہ ؓ سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس روایت کو بیان۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:6320]
حدیث حاشیہ:
(1)
اگر کوئی اپنے بستر پر سونے کے لیے آئے تو اپنی چادر کے کنارے سے اسے جھاڑے کیونکہ ممکن ہے اس کی بے خبری میں کوئی زہریلا جانور یا کیڑا مکوڑا بستر پر آ گیا ہو۔
ہاتھ کے بجائے چادر سے جھاڑنے کی تلقین ہے تاکہ اس کے ہاتھ کو کوئی موذی جانور کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچائے۔
(فتح الباري: 152/11) (2)
مذکورہ دعا کے علاوہ دیگر دعائیں بھی اس وقت پڑھی جا سکتی ہیں جن کا ذکر بہت سی حدیثوں میں آیا ہے۔
کچھ روایات میں تین دفعہ بستر جھاڑنے کا ذکر بھی ملتا ہے، (صحیح البخاري، التوحید، حدیث: 7393)
تاکہ دم وغیرہ سے اس عمل کی تشبیہ ہو جائے۔
(فتح الباري: 152/11)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6320]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7393
7393. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جب تم سے کوئی اپنے بستر پر جائے تو کپڑے کے کنارے سے اسے تین مرتبہ جھاڑے اور یہ دعا پڑھے: اے اللہ! تیرے نام سے میں نے اپنا پہلو رکھا اور تیری ہی رحمت سے میں اسے اٹھاؤں گا۔ اگر تو نے میری روح کو روک لیا تو اسے معاف کرنا اور اگر اسے چھوڑ دیا تو اس کی حفاظت کرنا جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔ یحیٰی اور بشر بن مفضل نے عبید اللہ سے، اس نے سعید سے، اس نے سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (اسی طرح) بیان کیا ہے نیز زہیر ابو ضمرہ اور اسماعیل بن زکریا نے عبیداللہ سے یہ اضافہ نقل کیا ہے: ان سے سعید نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابو ہریرہ ؓ نے، ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ابن عجلان نے بھی سعید سے، انہوں نے سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7393]
حدیث حاشیہ:

ابن بطال نے کہا ہے کہ اس روایت میں وضع کی نسبت اسم کی طرف اوررفع کی نسبت ذات کی طرف ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسم سے مراد ذات ہے وضع اوررفع میں ذات سے استعانت کی جاتی ہے لفظ سے نہیں۔
(فتح الباري: 464/13)

ابن بطال نے اپنے انداز سے اس حدیث سے مناسبت کشید کی ہے جبکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا قطعاً یہ مقصد نہیں۔
ہمارے رجحان کے مطابق بندہ مخلص ہر وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے زندگی کے تمام معاملات اپنے رب کی مرضی کے مطابق بجالاتا ہے، اپنے گھر سے نکلتے وقت، اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت، اپنے کھانے پینے، نیند وبیداری اور لوگوں سے میل جول رکھنے میں اللہ تعالیٰ کی رضا کا طالب رہتا ہے۔

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیند کے وقت اور اس سے بیدار ہوتے وقت عبادت کرنے کی رہنمائی کی ہے کہ وہ کس طرح اللہ تعالیٰ کے نام کے ذریعے سے اپنا پہلو بستر پر رکھے اور اللہ تعالیٰ کے ناموں کے حوالے سے اس سے سوال کرے۔
درحقیقت، نیند موت ہی کی ایک قسم ہے، بعض اوقات انسان نیند کی حالت میں فوت ہوجاتا ہے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم دی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر اس سے التجا کی جائے۔
اگر موت آجائے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے۔
اوراگر اپنی قدرت کاملہ سے بدن میں اسے واپس کردے توشیطان اور دیگر موذی چیزوں سے اس کی حفاظت کرے۔
اس حدیث کے مطابق نیند کے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا مشروع ہے تاکہ انسان کی چھوٹی موت، یعنی نیند اللہ تعالیٰ کے نام پر ہو اور اس آیت کی زندہ تصویر بن جائے:
کہہ دیجئے!میری نماز،میری قربانی،میر ی زندگی اورمیری موت اللہ کے لیے ہے جو رب العالمین ہے۔
(الأنعام: 162)
اس انداز سے انسان خود کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کردیتا ہے اور اس کی طرف اپنی عاجزی، بے بسی اور محتاجی کا اظہار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ سے ہر چیز کا سوال کرتا ہے جس سے وہ بے نیاز نہیں ہے۔
یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے ناموں کے طفیل اسے پکارنا ہے، گویا اس آیت کی تفسیر ہے:
سب سے اچھے نام اللہ تعالیٰ ہی کے نام ہیں،لہذا تم اسے انھی ناموں سے پکارا کرو۔
(الأعراف۔
180)
اس مناسبت کی بنا پر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو یہاں بیان کیا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7393]

Sahih Muslim Hadith 6894 in Urdu