🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. باب ما يقول إذا دخل السوق
باب: بازار میں داخل ہو تو کیا پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3428
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ، قَالَ: قَدِمْتُ مَكَّةَ فَلَقِيَنِي أَخِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَحَدَّثَنِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ دَخَلَ السُّوقَ، فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ وَمَحَا عَنْهُ أَلْفَ أَلْفِ سَيِّئَةٍ وَرَفَعَ لَهُ أَلْفَ أَلْفِ دَرَجَةٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ وَهُوَ قَهْرَمَانُ آلِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ هَذَا الْحَدِيثَ نَحْوَهُ.
عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بازار میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھی: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو حي لا يموت بيده الخير وهو على كل شيء قدير» نہیں کوئی معبود برحق ہے مگر اللہ اکیلا، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی کے لیے ملک (بادشاہت) ہے اور اسی کے لیے حمد و ثناء ہے وہی زندہ کرتا اور وہی مارتا ہے، وہ زندہ ہے کبھی مرے گا نہیں، اسی کے ہاتھ میں ساری بھلائیاں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھتا ہے اور اس کی دس لاکھ برائیاں مٹا دیتا ہے اور اس کے دس لاکھ درجے بلند فرماتا ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- عمرو بن دینار زبیر رضی الله عنہ کے گھر والوں کے آمد و خرچ کے منتظم تھے، انہوں نے یہ حدیث سالم بن عبداللہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3428]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/التجارات 40 (2235) (تحفة الأشراف: 10528) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن، ابن ماجة (2235)
قال الشيخ زبير على زئي:(3428) إسناده ضعيف
أزهر بن سنان: ضعيف (تق:309)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمرثقة ثبت
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو يحيى
Newعمرو بن دينار الجمحي ← سالم بن عبد الله العدوي
ضعيف الحديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفص
Newعمر بن الخطاب العدوي ← عمرو بن دينار الجمحي
صحابي
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عمر العدوي ← عمر بن الخطاب العدوي
صحابي
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر
Newسالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن واسع الأزدي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن واسع الأزدي ← سالم بن عبد الله العدوي
ثقة
👤←👥أزهر بن سنان القرشي، أبو خالد
Newأزهر بن سنان القرشي ← محمد بن واسع الأزدي
ضعيف الحديث
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← أزهر بن سنان القرشي
ثقة متقن
👤←👥أحمد بن منيع البغوي، أبو عبد الله، أبو جعفر
Newأحمد بن منيع البغوي ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3428
من دخل السوق فقال لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو حي لا يموت بيده الخير وهو على كل شيء قدير كتب الله له ألف ألف حسنة ومحا عنه ألف ألف سيئة ورفع له ألف ألف درجة
جامع الترمذي
3429
من قال في السوق لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو حي لا يموت بيده الخير وهو على كل شيء قدير كتب الله له ألف ألف حسنة ومحا عنه ألف ألف سيئة وبنى له بيتا في الجنة
سنن ابن ماجه
2235
من قال حين يدخل السوق لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو حي لا يموت بيده الخير كله وهو على كل شيء قدير كتب الله له ألف ألف حسنة ومحا عنه ألف ألف سيئة وبنى له بيتا في الجنة
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3428 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3428
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
نہیں کوئی معبود برحق ہے مگر اللہ اکیلا،
اس کا کوئی شریک نہیں ہے،
اسی کے لیے ملک (بادشاہت) ہے اور اسی کے لیے حمدوثناء ہے وہی زندہ کرتا اور وہی مارتا ہے،
وہ زندہ ہے کبھی مرے گا نہیں،
اسی کے ہاتھ میں ساری بھلائیاں ہیں،
اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3428]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2235
بازار اور اس میں جانے کا بیان۔
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بازار میں داخل ہوتے وقت دعا یہ پڑھے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو حي لا يموت بيده الخير كله وهو على كل شيء قدير» اکیلے اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے حکمرانی ہے، اور اسی کے لیے ہر طرح کی حمد و ثناء ہے، وہی زندگی، اور موت دیتا ہے، اور وہ زندہ ہے، اس کے لیے موت نہیں، اسی کے ہاتھ میں سارا خیر ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھے گا، اور اس کی دس لاکھ ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2235]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جائز ضرورت کے لیے بازار میں جانا جائز ہے۔

(2)
جہاں کا ماحول اللہ سے غفلت کا ہو، وہاں اللہ کو یاد کرنا بہت ثواب کا کام ہے۔

(3)
سنت کے مطابق ادا کیا جانے والا بظاہر معمولی نیک کام بھی اللہ کےہاں بہت مقام رکھتا ہے۔

(4)
مسنون اذکار کا اہتمام کرنا چاہیے اور خود ساختہ اذکار سے بچنا چاہیے۔

(5)
اس حدیث پر عمل کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ روایت بعض کے نزدیک حسن ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2235]

الشيخ حافظ ندیم ظہیر حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ترمذی 3429
بازار میں تہلیل کی فضیلت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بازار جاتے ہوئے یہ دعا پڑھے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو حي لا يموت بيده الخير وهو على كل شيء قدير» تو اللہ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھ دے گا اور دس لاکھ اس کے گناہ مٹا دے گا اور جنت میں اس کے لیے ایک گھر بنائے گا۔ [ترمذي 3429]
فوائد:
یہ روایت کئی طریق سے مروی ہے
لیکن تمام طرق ضعیف ہیں۔
سنن ترمذی کی روایت میں ازہر بن سنان راوی ضعیف ہے
اور سنن ابن ماجہ میں حماد بن عمرو ضعیف ہے۔
اس کے علاوہ یہ روایت کتاب الدعاء للطبرانی (۷۹۳، ۷۹۲) مستدرک حاکم (۵۳۹/۱ ح ۱۹۷۵) وغیرہ میں بھی ضعیف سندوں کے ساتھ موجود ہے۔
الغرض مذکورہ روایت اپنے تمام طرق کے ساتھ ضعیف ہے۔
[ماہنامہ السنہ جہلم، حدیث/صفحہ نمبر: 23]