🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
69. باب منه
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3482
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ وَمِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ ". قَالَ: وفي الباب، عَنْ جَابِرٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ مَسْعُودٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من قلب لا يخشع ومن دعا لا يسمع ومن نفس لا تشبع ومن علم لا ينفع أعوذ بك من هؤلاء الأربع» اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے دل سے جو ڈرتا نہ ہو (یعنی جس میں خوف الٰہی نہ ہو)، اور ایسی دعا سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں جو سنی نہ جائے، اور اس نفس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں جو سیر نہ ہو، اور ایسے علم سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں جو فائدہ نہ پہنچائے، اے اللہ! میں ان چاروں چیزوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس سند سے (یعنی) عبداللہ بن عمرو کی روایت حسن صحیح غریب ہے،
۲- اس باب میں جابر، ابوہریرہ اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3482]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الاستعاذة 2 (5444) (تحفة الأشراف: 8629)، و مسند احمد (2/167، 198) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، التعليق الرغيب (1 / 75 - 76) ، صحيح أبي داود (1384 - 1385)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الله بن مالك الزبيدي، أبو كثير
Newعبد الله بن مالك الزبيدي ← عبد الله بن عمرو السهمي
ثقة
👤←👥عبد الله بن الحارث الزبيدي
Newعبد الله بن الحارث الزبيدي ← عبد الله بن مالك الزبيدي
ثقة
👤←👥عمرو بن مرة المرادي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعمرو بن مرة المرادي ← عبد الله بن الحارث الزبيدي
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← عمرو بن مرة المرادي
ثقة حافظ
👤←👥أبو بكر بن عياش الأسدي، أبو بكر
Newأبو بكر بن عياش الأسدي ← سليمان بن مهران الأعمش
صدوق حسن الحديث
👤←👥يحيى بن آدم الأموي، أبو زكريا
Newيحيى بن آدم الأموي ← أبو بكر بن عياش الأسدي
ثقة حافظ فاضل
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← يحيى بن آدم الأموي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3482
اللهم إني أعوذ بك من قلب لا يخشع ومن دعاء لا يسمع ومن نفس لا تشبع ومن علم لا ينفع أعوذ بك من هؤلاء الأربع
سنن النسائى الصغرى
5445
يتعوذ من أربع من علم لا ينفع ومن قلب لا يخشع ودعاء لا يسمع ونفس لا تشبع
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3482 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3482
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے دل سے جو ڈرتا نہ ہو (یعنی جس میں خوف الٰہی نہ ہو)،
اور ایسی دعا سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں جو سنی نہ جائے،
اور اس نفس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں جو سیر نہ ہو،
اور ایسے علم سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں جو فائدہ نہ پہنچا ئے،
اے اللہ! میں ان چاروں چیزوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3482]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5445
سینے دل کے فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بزدلی، کنجوسی، سینے (دل) کے فتنے اور قبر کے عذاب سے (اللہ تعالیٰ کی) پناہ مانگتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5445]
اردو حاشہ:
(1) باپ کا مقصد بالکل واضح ہے کہ مذکورہ تمام بیماریوں سے چھٹکارے کے لیے اللہ تعالیٰ کا سہارا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سہارے کے بغیر ان موذی اور مہلک بیماریوں سے بچنا بہت ہی مشکل کام ہے۔ پھر جس سے یہ روحانی بیماریاں لگ جائیں تو اس کے لیے جہنم اور آگ کا عذاب ہے۔ أعا ذنا اللہ منه.
(2) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذکورہ دعا پڑھنا اور امت کو اس کی تعلیم دینا صرف اس بنا پر تھا کہ امت کو عملاً یہ بتایا جائے کہ ان کی تمام بیماریوں کا صرف اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنا‘ اس کا سہارا لینا اور اس سے امان طلب کرنے ہی میں ہے۔لوگ مصائب سے بچنے کےلیے تعویذوں اور خود ساختہ وظائف کا سہارہ لیتے ہیں ‘حالانکہ تمام مشکلات کا حل رسوللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے اذکار میں ہے۔ انھی کو اختیار کرنا چاہیے تا کہ روحانی اور جسمانی بیماریوں سے چھٹکارا حاصل ہو سکے۔
(3) بزدلی سے مراد اللہ تعالیٰ کے راستے میں جان قربان کرنے سے بھاگنا ہے اور بخل سے مراد اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال کرنے سے کنی کترانا ہے۔
(4) سینے کے فتنے سے مراد شیطانی وساوس‘ باطل عقائد اور دل کی خرابیاں‘ مثلاً: حسد‘ کینہ بغض اور عناد وغیرہ ہیں۔ پیچھے یہ ہو چکا ہے کہ نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا استعاذہ اصل امت کی تعلیم کے لیے ہے ورنہ آپ تو رذائل سے قطعاً پاک و صاف تھے۔ آپ کے بارہ میں ان کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5445]