سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
70. باب منه
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 3483
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي: " يَا حُصَيْنُ، كَمْ تَعْبُدُ الْيَوْمَ إِلَهًا؟ " قَالَ أَبِي: سَبْعَةً سِتَّةً فِي الْأَرْضِ وَوَاحِدًا فِي السَّمَاءِ، قَالَ: " فَأَيُّهُمْ تَعُدُّ لِرَغْبَتِكَ وَرَهْبَتِكَ؟ " قَالَ: الَّذِي فِي السَّمَاءِ، قَالَ: " يَا حُصَيْنُ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَسْلَمْتَ عَلَّمْتُكَ كَلِمَتَيْنِ تَنْفَعَانِكَ "، قَالَ: فَلَمَّا أَسْلَمَ حُصَيْنٌ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِيَ الْكَلِمَتَيْنِ اللَّتَيْنِ وَعَدْتَنِي، فَقَالَ: " قُلِ اللَّهُمَّ أَلْهِمْنِي رُشْدِي وَأَعِذْنِي مِنْ شَرِّ نَفْسِي ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ.
عمران بن حصین کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے باپ سے پوچھا: ”اے حصین! آج کل تم کتنے معبودوں کو پوجتے ہو؟“ میرے باپ نے جواب دیا سات کو چھ زمین میں (رہتے ہیں) اور ایک آسمان میں، آپ نے پوچھا: ”ان میں سے کس کی سب سے زیادہ رغبت دلچسپی، امید اور خوف و ڈر کے ساتھ عبادت کرتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اس کی جو آسمان میں ہے، آپ نے فرمایا: ”اے حصین! سنو، اگر تم اسلام لے آتے تو میں تمہیں دو کلمے سکھا دیتا وہ دونوں تمہیں برابر نفع پہنچاتے رہتے“، پھر جب حصین اسلام لے آئے تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے وہ دونوں کلمے سکھا دیجئیے جنہیں سکھانے کا آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا، آپ نے فرمایا: ”کہو «اللهم ألهمني رشدي وأعذني من شر نفسي» ”اے اللہ! تو مجھے میری بھلائی کی باتیں سکھا دے، اور میرے نفس کے شر سے مجھے بچا لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- یہ حدیث عمران بن حصین سے اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی آئی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3483]
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- یہ حدیث عمران بن حصین سے اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی آئی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3483]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10797) (ضعیف) (حسن بصری کا عمران بن حصین رضی الله عنہ سے لقاع و سماع نہیں ہے، نیز ”شبیب بن شیبہ“ مجہول راوی ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (2476 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (4098) القسم الأخير //
قال الشيخ زبير على زئي:(3483) إسناده ضعيف
الحسن عنعن (تقدم:21)
الحسن عنعن (تقدم:21)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3483
| اللهم ألهمني رشدي وأعذني من شر نفسي |
المعجم الصغير للطبراني |
953
| اللهم إني أستهديك لأرشد أمري وأعوذ بك من شر نفسي |
المعجم الصغير للطبراني |
982
| اللهم إني أستهديك لأرشد أموري وأستجيرك من شر نفسي |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3483 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3483
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! تو مجھے میری بھلائی کی باتیں سکھا دے،
اور میرے نفس کے شر سے مجھے بچا لے۔
نوٹ:
(حسن بصری کا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے لقاء و سماع نہیں ہے،
نیز ”شبیب بن شیبہ“ مجہول راوی ہیں)
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! تو مجھے میری بھلائی کی باتیں سکھا دے،
اور میرے نفس کے شر سے مجھے بچا لے۔
نوٹ:
(حسن بصری کا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے لقاء و سماع نہیں ہے،
نیز ”شبیب بن شیبہ“ مجہول راوی ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3483]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 3483 in Urdu
الحسن البصري ← عمران بن حصين الأزدي