🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
149. باب ما جاء في الصلاة إلى الراحلة
باب: سواری کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 352
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى إِلَى بَعِيرِهِ أَوْ رَاحِلَتِهِ وَكَانَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ مَا تَوَجَّهَتْ بِهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَرَوْنَ بِالصَّلَاةِ إِلَى الْبَعِيرِ بَأْسًا أَنْ يَسْتَتِرَ بِهِ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ یا اپنی سواری کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی، نیز اپنی سواری پر نماز پڑھتے رہتے چاہے وہ جس طرف متوجہ ہوتی ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- یہی بعض اہل علم کا قول ہے کہ اونٹ کو سترہ بنا کر اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 352]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 47 (502)، سنن ابی داود/ الصلاة 104 (692)، (تحفة الأشراف: 7908)، سنن الدارمی/الصلاة 126 (1452)، وراجع إیضا: صحیح البخاری/الصلاة 50 (430) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: پچھلی حدیث کے حاشیہ میں امام ترمذی نے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے، ایسے میں شرط صرف یہ ہے کہ تکبیر تحریمہ کے وقت منہ قبلہ کی طرف کر کے اس کے بعد سواری چاہے جدھر جائے، لیکن یہ صرف نفل نمازوں میں تھا، فرض نماز میں سواری سے اتر کر قبلہ رخ ہو کر ہی پڑھتے تھے۔
۲؎: اور وہ جو گزرا کہ آپ اونٹوں کے باڑے میں نماز نہیں پڑھتے تھے اور اس سے منع فرمایا، تو باڑے کے اندر معاملہ دوسرا ہے، اور کہیں راستے میں صرف اونٹ کو بیٹھا کر اس کے سامنے پڑھنے کا معاملہ دوسرا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، صفة الصلاة // 55 //، صحيح أبي داود (691 - 1109)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان
Newعبيد الله بن عمر العدوي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة ثبت
👤←👥سليمان بن حيان الجعفري، أبو خالد
Newسليمان بن حيان الجعفري ← عبيد الله بن عمر العدوي
صدوق حسن الحديث
👤←👥سفيان بن وكيع الرؤاسي، أبو محمد
Newسفيان بن وكيع الرؤاسي ← سليمان بن حيان الجعفري
مقبول
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
352
صلى إلى بعيره يصلي على راحلته حيث ما توجهت به
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 352 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 352
اردو حاشہ:
1؎:
پچھلی حدیث کے حاشہ میں امام ترمذی نے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے،
ایسے میں شرط صرف یہ ہے کہ تکبیرتحریمہ کے وقت منہ قبلہ کی طرف کر کے اس کے بعد سواری چاہے جدھر جائے،
لیکن یہ صرف نفل نمازوں میں تھا،
فرض نماز میں سواری سے اتر کر قبلہ رخ ہو کر ہی پڑھتے تھے۔

2؎:
اور وہ جو گزرا کہ آپ اونٹوں کے باڑے میں نماز نہیں پڑھتے تھے اوراس سے منع فرمایا،
تو باڑے کے اندر معاملہ دوسرا ہے،
اور کہیں راستے میں صرف اونٹ کو بیٹھا کر اس کے سامنے پڑھنے کا معاملہ دوسرا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 352]