سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب في مبعث النبي صلى الله عليه وسلم وابن كم كان حين بعث
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی بعثت اور بعثت کے وقت آپ کی عمر کا بیان
حدیث نمبر: 3622
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ سَنَةً ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَكَذَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَرَوَى عَنْهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل مِثْلَ ذَلِكَ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ پینسٹھ (۶۵) سال کے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
اسی طرح سے ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ہے اور ان سے محمد بن اسماعیل بخاری نے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3622]
اسی طرح سے ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ہے اور ان سے محمد بن اسماعیل بخاری نے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3622]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 6227) (شاذ)»
وضاحت: ۱؎: یہی بات شاذ ہے، محفوظ بات یہ ہے کہ آپ ترسٹھ سال کے تھے جیسا کہ پچھلی حدیث میں ہے، ممکن ہے کسی نے پیدائش کے سال اور وفات کے سال کو پورا پورا ایک سال جوڑ لیا ہو، اور اس طرح پینسٹھ بتا دیا ہو؟
قال الشيخ الألباني: شاذ المصدر نفسه // مختصر الشمائل (320) ، وسيأتي (751 / 3912) //
قال الشيخ زبير على زئي:(3622) شاذ
هشام بن حسان عنعن (تقدم: 460) والحديث شاذ مخالف للروايات الصحيحة
هشام بن حسان عنعن (تقدم: 460) والحديث شاذ مخالف للروايات الصحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
6102
| توفي وهو ابن خمس وستين |
جامع الترمذي |
3622
| قبض النبي وهو ابن خمس وستين سنة |
جامع الترمذي |
3650
| توفي رسول الله وهو ابن خمس وستين |
جامع الترمذي |
3651
| توفي وهو ابن خمس وستين |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3622 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3622
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہی بات شاذ ہے،
محفوظ بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ترسٹھ سال کے تھے جیساکہ پچھلی حدیث میں ہے،
ممکن ہے کسی نے پیدائش کے سال اور وفات کے سال کو پورا پورا ایک سال جوڑ لیا ہو،
اوراس طرح پینسٹھ بتا دیا ہو؟۔
وضاحت:
1؎:
یہی بات شاذ ہے،
محفوظ بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ترسٹھ سال کے تھے جیساکہ پچھلی حدیث میں ہے،
ممکن ہے کسی نے پیدائش کے سال اور وفات کے سال کو پورا پورا ایک سال جوڑ لیا ہو،
اوراس طرح پینسٹھ بتا دیا ہو؟۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3622]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3650
وفات کے وقت نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی عمر کتنی تھی؟
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ پینسٹھ (۶۵) سال کے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3650]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ پینسٹھ (۶۵) سال کے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3650]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
دیکھئے حاشہ حدیث رقم:3631۔
نوٹ:
(سند صحیح ہے،
لیکن ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اس بابت وہم ہو گیا تھا،
وفات کے وقت صحیح عمر 63 سال ہے،
دیکھیے ابن عباس ہی کا بیان حدیث رقم: 3652 میں)
وضاحت:
1؎:
دیکھئے حاشہ حدیث رقم:3631۔
نوٹ:
(سند صحیح ہے،
لیکن ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اس بابت وہم ہو گیا تھا،
وفات کے وقت صحیح عمر 63 سال ہے،
دیکھیے ابن عباس ہی کا بیان حدیث رقم: 3652 میں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3650]
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي