سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب في مناقب أبي بكر وعمر رضى الله عنهما كليهما
باب: ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے مناقب و فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 3665
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقَّرِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ طَلَعَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ إِلَّا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ، يَا عَلِيُّ لَا تُخْبِرْهُمَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَالْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقَّرِيُّ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ، وَلَمْ يَسْمَعْ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ مِنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَلِيٍّ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَنَسٍ , وَابْنِ عَبَّاسٍ.
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اچانک ابوبکر و عمر رضی الله عنہما نمودار ہوئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دونوں جنت کے ادھیڑ عمر کے لوگوں کے سردار ہیں، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے انبیاء و مرسلین کے لیکن علی! تم انہیں نہ بتانا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے،
۲- ولید بن محمد موقری حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں اور علی بن حسین نے علی سے نہیں سنا ہے،
۳- علی رضی الله عنہ سے یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی آئی ہے،
۴- اس باب میں انس اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3665]
۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے،
۲- ولید بن محمد موقری حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں اور علی بن حسین نے علی سے نہیں سنا ہے،
۳- علی رضی الله عنہ سے یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی آئی ہے،
۴- اس باب میں انس اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3665]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10246) (صحیح) (سند میں ”علی بن الحسین زین العابدین“ کی اپنے دادا ”علی“ رضی الله عنہ سے ملاقات و سماع نہیں ہے، مگر شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (95)
قال الشيخ زبير على زئي:(3665) إسناده ضعيف جداً
في السند علل ، منها الوليد بن محمد الموقري وهو متروك (تقدم:2086) والحديث السابق (الأصل: 3664) يغني عنه
في السند علل ، منها الوليد بن محمد الموقري وهو متروك (تقدم:2086) والحديث السابق (الأصل: 3664) يغني عنه
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسين | صحابي | |
👤←👥علي زين العابدين، أبو محمد، أبو الحسن، أبو الحسين علي زين العابدين ← علي بن أبي طالب الهاشمي | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← علي زين العابدين | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥الوليد بن محمد الموقري، أبو بشر الوليد بن محمد الموقري ← محمد بن شهاب الزهري | متروك الحديث | |
👤←👥علي بن حجر السعدي، أبو الحسن علي بن حجر السعدي ← الوليد بن محمد الموقري | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3665
| سيدا كهول أهل الجنة |
جامع الترمذي |
3666
| سيدا كهول أهل الجنة |
سنن ابن ماجه |
95
| سيدا كهول أهل الجنة |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3665 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3665
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ”علی بن الحسین زین العابدین“ کی اپنے دادا ”علی“ رضی اللہ عنہ سے ملاقات و سماع نہیں ہے،
مگر شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
نوٹ:
(سند میں ”علی بن الحسین زین العابدین“ کی اپنے دادا ”علی“ رضی اللہ عنہ سے ملاقات و سماع نہیں ہے،
مگر شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3665]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث95
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکرو عمر نبیوں اور رسولوں کے علاوہ جملہ اولین و آخرین میں سے ادھیڑ عمر والے جنتیوں کے سردار ہوں گے، علی! جب تک وہ دونوں زندہ رہیں انہیں یہ بات نہ بتانا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 95]
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکرو عمر نبیوں اور رسولوں کے علاوہ جملہ اولین و آخرین میں سے ادھیڑ عمر والے جنتیوں کے سردار ہوں گے، علی! جب تک وہ دونوں زندہ رہیں انہیں یہ بات نہ بتانا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 95]
اردو حاشہ:
(1)
ہمارے فاضل محقق نے اس روایت کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے، وہ اس روایت کی تحقیق میں رقم طراز ہیں کہ اس روایت کے بعض الفاظ کی تائید میں کچھ طرق حسن درجے کے بھی ہیں، علاوہ ازیں شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔ دیکھیے: (الصحیحۃ، حدیث: 824)
لہٰذا معلوم ہوا کہ یہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل حجت ہے۔
(2)
ادھیڑ عمر جنتیوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس عمر میں فوت ہوئے، ورنہ جنت میں عمروں کا فرق نہیں ہو گا، بلکہ سب لوگ ہمیشہ کی جوانی سے لطف اندوز ہوں گے۔
(3)
اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ غیر نبی خواہ کتنے بلند مرتبہ پر پہنچ جائے، نبی کے برابر یا اس سے افضل نہیں ہو سکتا۔
(4)
اس میں صراحت ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما انبیاء علیھم السلام کے بعد سب سے افضل ہیں، یعنی امت محمدیہ اور سابقہ امتوں کے تمام مومنوں سے افضل ہیں۔
(5)
اس میں اشارہ ہے کہ یہ حضرات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کے مستحق ہیں۔
چونکہ جنت میں اہل جنت کے سردار ہوں گے، تو دنیا میں بھی انہی کو مومنوں کا سردار ہونا چاہیے۔
(6)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شیخین رضی اللہ عنہما کو براہ راست یہ خبر نہیں دی تاکہ دل میں فخر نہ آجائے کیونکہ غیر نبی معصوم نہیں ہوتا۔
(1)
ہمارے فاضل محقق نے اس روایت کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے، وہ اس روایت کی تحقیق میں رقم طراز ہیں کہ اس روایت کے بعض الفاظ کی تائید میں کچھ طرق حسن درجے کے بھی ہیں، علاوہ ازیں شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔ دیکھیے: (الصحیحۃ، حدیث: 824)
لہٰذا معلوم ہوا کہ یہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل حجت ہے۔
(2)
ادھیڑ عمر جنتیوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس عمر میں فوت ہوئے، ورنہ جنت میں عمروں کا فرق نہیں ہو گا، بلکہ سب لوگ ہمیشہ کی جوانی سے لطف اندوز ہوں گے۔
(3)
اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ غیر نبی خواہ کتنے بلند مرتبہ پر پہنچ جائے، نبی کے برابر یا اس سے افضل نہیں ہو سکتا۔
(4)
اس میں صراحت ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما انبیاء علیھم السلام کے بعد سب سے افضل ہیں، یعنی امت محمدیہ اور سابقہ امتوں کے تمام مومنوں سے افضل ہیں۔
(5)
اس میں اشارہ ہے کہ یہ حضرات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کے مستحق ہیں۔
چونکہ جنت میں اہل جنت کے سردار ہوں گے، تو دنیا میں بھی انہی کو مومنوں کا سردار ہونا چاہیے۔
(6)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شیخین رضی اللہ عنہما کو براہ راست یہ خبر نہیں دی تاکہ دل میں فخر نہ آجائے کیونکہ غیر نبی معصوم نہیں ہوتا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 95]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3666
ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے مناقب و فضائل کا بیان
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر و عمر جنت کے ادھیڑ عمر کے لوگوں کے سردار ہیں، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے نبیوں اور رسولوں کے، لیکن علی! تم انہیں نہ بتانا۔“ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3666]
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر و عمر جنت کے ادھیڑ عمر کے لوگوں کے سردار ہیں، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے نبیوں اور رسولوں کے، لیکن علی! تم انہیں نہ بتانا۔“ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3666]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں حارث اعور ضعیف راوی ہے،
لیکن شواہد و متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
نوٹ:
(سند میں حارث اعور ضعیف راوی ہے،
لیکن شواہد و متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3666]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 3665 in Urdu
علي زين العابدين ← علي بن أبي طالب الهاشمي