🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب في مناقب أبي بكر وعمر رضى الله عنهما كليهما
باب: ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے مناقب و فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3666
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: ذَكَرَ دَاوُدُ , عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ مَا خَلَا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ، لَا تُخْبِرْهُمَا يَا عَلِيُّ ".
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر و عمر جنت کے ادھیڑ عمر کے لوگوں کے سردار ہیں، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے نبیوں اور رسولوں کے، لیکن علی! تم انہیں نہ بتانا۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3666]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (95) (تحفة الأشراف: 10035) (صحیح) (سند میں حارث اعور ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد و متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح انظر ما قبله (3665)
قال الشيخ زبير على زئي:(3666) إسناده ضعيف / جه 95
الحارث الأعور ضعيف، ضعفه الجمهور (تقدم:282) والحديث السابق (الأصل:3664) يغني عنه و للحديث شواهد ضعيفة عند الدولابي (الكني 99/2 ح 1683) وغيره . الدولابي ضعيف على الراجع و عبدالله أبو محمد مولي بني هاشم لم أعرفه وإن وثقه أحد الرواة . !

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥الحارث بن عبد الله الأعور، أبو زهير
Newالحارث بن عبد الله الأعور ← علي بن أبي طالب الهاشمي
متهم بالكذب
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← الحارث بن عبد الله الأعور
ثقة
👤←👥داود بن أبي هند القشيري، أبو محمد، أبو بكر
Newداود بن أبي هند القشيري ← عامر الشعبي
ثقة متقن
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← داود بن أبي هند القشيري
ثقة حافظ حجة
👤←👥يعقوب بن إبراهيم العبدي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم العبدي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3665
سيدا كهول أهل الجنة
جامع الترمذي
3666
سيدا كهول أهل الجنة
سنن ابن ماجه
95
سيدا كهول أهل الجنة
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3666 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3666
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں حارث اعور ضعیف راوی ہے،
لیکن شواہد و متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3666]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث95
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکرو عمر نبیوں اور رسولوں کے علاوہ جملہ اولین و آخرین میں سے ادھیڑ عمر والے جنتیوں کے سردار ہوں گے، علی! جب تک وہ دونوں زندہ رہیں انہیں یہ بات نہ بتانا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 95]
اردو حاشہ:
(1)
ہمارے فاضل محقق نے اس روایت کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے، وہ اس روایت کی تحقیق میں رقم طراز ہیں کہ اس روایت کے بعض الفاظ کی تائید میں کچھ طرق حسن درجے کے بھی ہیں، علاوہ ازیں شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔ دیکھیے: (الصحیحۃ، حدیث: 824)
لہٰذا معلوم ہوا کہ یہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل حجت ہے۔

(2)
ادھیڑ عمر جنتیوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس عمر میں فوت ہوئے، ورنہ جنت میں عمروں کا فرق نہیں ہو گا، بلکہ سب لوگ ہمیشہ کی جوانی سے لطف اندوز ہوں گے۔

(3)
اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ غیر نبی خواہ کتنے بلند مرتبہ پر پہنچ جائے، نبی کے برابر یا اس سے افضل نہیں ہو سکتا۔

(4)
اس میں صراحت ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما انبیاء علیھم السلام کے بعد سب سے افضل ہیں، یعنی امت محمدیہ اور سابقہ امتوں کے تمام مومنوں سے افضل ہیں۔

(5)
اس میں اشارہ ہے کہ یہ حضرات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کے مستحق ہیں۔
چونکہ جنت میں اہل جنت کے سردار ہوں گے، تو دنیا میں بھی انہی کو مومنوں کا سردار ہونا چاہیے۔

(6)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شیخین رضی اللہ عنہما کو براہ راست یہ خبر نہیں دی تاکہ دل میں فخر نہ آجائے کیونکہ غیر نبی معصوم نہیں ہوتا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 95]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3665
ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے مناقب و فضائل کا بیان
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اچانک ابوبکر و عمر رضی الله عنہما نمودار ہوئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دونوں جنت کے ادھیڑ عمر کے لوگوں کے سردار ہیں، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے انبیاء و مرسلین کے لیکن علی! تم انہیں نہ بتانا۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3665]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں علی بن الحسین زین العابدین کی اپنے دادا علی رضی اللہ عنہ سے ملاقات و سماع نہیں ہے،
مگر شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3665]