یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
74. باب في ثقيف وبني حنيفة
باب: قبیلہ ثقیف اور بنی حنیفہ کے فضائل و مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 3943
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: " مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَكْرَهُ ثَلَاثَةَ أَحْيَاءٍ: ثَقِيفًا، وَبَنِي حَنِيفَةَ، وَبَنِي أُمَيَّةَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ تین قبیلوں ثقیف، بنی حنیفہ اور بنی امیہ کو ناپسند کرتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3943]
یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3943]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10813) (ضعیف الإسناد) (حسن بصری مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت ہے، جب کہ عمران بن حصین رضی الله عنہ“ سے ان کا سماع بھی نہیں ہے)»
وضاحت: ۱؎: اس سلسلہ میں علماء کا کہنا ہے کہ ثقیف کو حجاج بن یوسف اور بنی حنیفہ کو مسیلمہ کذاب اور بنی امیہ کو عبیداللہ بن زیاد کی وجہ سے ناپسند کرتے تھے (واللہ اعلم)۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:(3943) إسناده ضعيف
هشام بن حسان والحسن البصري عنعنا (تقدما:21،460)
هشام بن حسان والحسن البصري عنعنا (تقدما:21،460)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيد | صحابي | |
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد الحسن البصري ← عمران بن حصين الأزدي | ثقة يرسل كثيرا ويدلس | |
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله هشام بن حسان الأزدي ← الحسن البصري | ثقة حافظ | |
👤←👥عبد القاهر بن شعيب المعولي، أبو سعيد عبد القاهر بن شعيب المعولي ← هشام بن حسان الأزدي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥زيد بن أخزم الطائي، أبو طالب زيد بن أخزم الطائي ← عبد القاهر بن شعيب المعولي | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3943
| يكره ثلاثة أحياء ثقيفا بني حنيفة بني أمية |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3943 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3943
◈ اس سلسلہ میں علماء کا کہنا ہے کہ ثقیف کو حجاج بن یوسف اور بنی حنیفہ کو مسیلمہ کذاب اور بنی امیہ کو عبیداللہ بن زیاد کی وجہ سے ناپسند کرتے تھے۔ (واللہ اعلم)۔
➊ حسن بصری مدلس ہیں۔
➋ اور عنعنہ سے روایت ہے۔
➌ جب کہ ”عمران بن حصین رضی اللہ عنہ“ سے ان کا سماع بھی نہیں ہے۔
➊ حسن بصری مدلس ہیں۔
➋ اور عنعنہ سے روایت ہے۔
➌ جب کہ ”عمران بن حصین رضی اللہ عنہ“ سے ان کا سماع بھی نہیں ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3943]
ڈاکٹر محمد جاوید حفظ اللہ، سنن ترمذی 3943
➊ یہ حدیث سندا ضعیف ہے۔
◈ امام ترمذی رحمہ اللہ اس کی تخریج کے متصلاً بعد فرماتے ہیں:
«هذا حديث غريب لا نعرفه إلا من هذا الوجه»
”یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں۔“ [جامع الترمذی: 3943]
➋ اس کے راوی ہشام بن حسان الازدی الفردوسی (متوفی: 247ھ) امام ابو داؤد رحمہ اللہ اور دیگر محدثین کے نزدیک ابن سیرین رحمہ اللہ سے روایت میں ثقہ جبکہ حسن اور عطا رحمہما اللہ سے متکلم فیہ ہیں۔
◈ محدثین فرماتے ہیں:
«أثبت الناس في ابن سيرين وفي روايته عن الحسن وعطاء مقال لأنه كان يرسل عنهما»
”وہ ابن سیرین کے بارے میں لوگوں میں سب سے زیادہ ثابت قدم ہیں اور ان کی حسن اور عطا سے روایت میں کلام ہے کیونکہ وہ ان سے ارسال کرتے تھے۔“ [تقریب التہذیب: 7289، الضعیفہ: 724]
یہ روایت ان کی حسن بصری رحمہ اللہ سے ہی ہے جس میں محدثین کو کلام ہے۔
➌ اس روایت میں حسن بصری رحمہ اللہ مدلس ہیں جن کی عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے عنعنہ ہے، سماعت کی صراحت نہیں، جس وجہ سے روایت ضعیف ہے۔
➍ ان دو ضعف کے باعث شیخ البانی رحمہ اللہ وغیرہ اس روایت کو ضعیف الاسناد کہتے ہیں۔
➎ اس ضعف کے باوجود بعض محدثین کے نزدیک بنو ثقیف کو حجاج، بنو حنیفہ کو مسیلمہ کذاب جبکہ بنو امیہ کو عبید اللہ بن زیاد کی وجہ سے ناپسند کیا گیا ہے۔
➏ یاد رکھیے امام الانبیاء والرسل صلی اللہ علیہ وسلم کی چار میں سے تین صاحب زادیاں سیدہ زینب، سیدہ رقیہ اور سیدہ ام کلثوم رضوان اللہ علیہن کی شادیاں بنو امیہ میں ہوئیں۔
ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا تعلق بھی بنو امیہ سے تھا۔
➐ ❀ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
«اللهم اهد ثقيفا»
”اے اللہ! ثقیف کو ہدایت دے۔“ [مسند احمد: 14702، صحیح علی شرط مسلم]
ڈاکٹر محمد جاوید
◈ امام ترمذی رحمہ اللہ اس کی تخریج کے متصلاً بعد فرماتے ہیں:
«هذا حديث غريب لا نعرفه إلا من هذا الوجه»
”یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں۔“ [جامع الترمذی: 3943]
➋ اس کے راوی ہشام بن حسان الازدی الفردوسی (متوفی: 247ھ) امام ابو داؤد رحمہ اللہ اور دیگر محدثین کے نزدیک ابن سیرین رحمہ اللہ سے روایت میں ثقہ جبکہ حسن اور عطا رحمہما اللہ سے متکلم فیہ ہیں۔
◈ محدثین فرماتے ہیں:
«أثبت الناس في ابن سيرين وفي روايته عن الحسن وعطاء مقال لأنه كان يرسل عنهما»
”وہ ابن سیرین کے بارے میں لوگوں میں سب سے زیادہ ثابت قدم ہیں اور ان کی حسن اور عطا سے روایت میں کلام ہے کیونکہ وہ ان سے ارسال کرتے تھے۔“ [تقریب التہذیب: 7289، الضعیفہ: 724]
یہ روایت ان کی حسن بصری رحمہ اللہ سے ہی ہے جس میں محدثین کو کلام ہے۔
➌ اس روایت میں حسن بصری رحمہ اللہ مدلس ہیں جن کی عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے عنعنہ ہے، سماعت کی صراحت نہیں، جس وجہ سے روایت ضعیف ہے۔
➍ ان دو ضعف کے باعث شیخ البانی رحمہ اللہ وغیرہ اس روایت کو ضعیف الاسناد کہتے ہیں۔
➎ اس ضعف کے باوجود بعض محدثین کے نزدیک بنو ثقیف کو حجاج، بنو حنیفہ کو مسیلمہ کذاب جبکہ بنو امیہ کو عبید اللہ بن زیاد کی وجہ سے ناپسند کیا گیا ہے۔
➏ یاد رکھیے امام الانبیاء والرسل صلی اللہ علیہ وسلم کی چار میں سے تین صاحب زادیاں سیدہ زینب، سیدہ رقیہ اور سیدہ ام کلثوم رضوان اللہ علیہن کی شادیاں بنو امیہ میں ہوئیں۔
ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا تعلق بھی بنو امیہ سے تھا۔
➐ ❀ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
«اللهم اهد ثقيفا»
”اے اللہ! ثقیف کو ہدایت دے۔“ [مسند احمد: 14702، صحیح علی شرط مسلم]
ڈاکٹر محمد جاوید
[محدث فورم، حدیث/صفحہ نمبر: 999]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 3943 in Urdu
الحسن البصري ← عمران بن حصين الأزدي