🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
214. باب منه
باب: سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 442
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً " قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ اسْمُهُ: نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ الضُّبَعِيُّ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- ابوحمزہ ضبعی کا نام نصر بن عمران ضبعی ہے۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 442]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التہجد 10 (1138)، صحیح مسلم/المسافرین 26 (764)، (تحفة الأشراف: 6525) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: پیچھے حدیث رقم ۴۳۹ میں گزرا کہ آپ رمضان یا غیر رمضان میں تہجد گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، اور اس حدیث میں تیرہ پڑھنے کا تذکرہ ہے، تو کسی نے ان تیرہ میں عشاء کی دو سنتوں کو شمار کیا ہے کہ کبھی تاخیر کر کے ان کو تہجد کے ساتھ ملا کر پڑھتے تھے، اور کسی نے یہ کہا ہے کہ اس میں فجر کی دو سنتیں شامل ہیں، کسی کسی روایت میں ایسا تذکرہ بھی ہے، یا ممکن ہے کہ کبھی گیارہ پڑھتے ہوں اور کبھی تیرہ بھی، جس نے جیسا دیکھا بیان کر دیا، لیکن تیرہ سے زیادہ کی کوئی روایت صحیح نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، صحيح أبي داود (1205)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥نصر بن عمران الضبعي، أبو جمرة
Newنصر بن عمران الضبعي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← نصر بن عمران الضبعي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة حافظ إمام
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1138
صلاة النبي ثلاث عشرة ركعة يعني بالليل
صحيح مسلم
1803
يصلي من الليل ثلاث عشرة ركعة
جامع الترمذي
442
يصلي من الليل ثلاث عشرة ركعة
سنن أبي داود
1365
قام النبي يصلي من الليل فصلى ثلاث عشرة ركعة منها ركعتا الفجر حزرت قيامه في كل ركعة بقدر يأيها المزمل
سنن النسائى الصغرى
1708
يصلي من الليل ثمان ركعات ويوتر بثلاث ويصلي ركعتين قبل صلاة الفجر
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 442 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 442
اردو حاشہ:
1؎:
پیچھے (حدیث:
رقم 439) میں گزرا کہ آپ رمضان یا غیر رمضان میں تہجد گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے،
اور اس حدیث میں تیرہ پڑھنے کا تذکرہ ہے،
تو کسی نے ان تیرہ میں عشاء کی دو سنتوں کو شمار کیا ہے کہ کبھی تاخیر کر کے ان کو تہجد کے ساتھ ملا کر پڑھتے تھے،
اور کسی نے یہ کہا ہے کہ اس میں فجر کی دو سنتیں شامل ہیں،
کسی کسی روایت میں ایسا تذکرہ بھی ہے،
یا ممکن ہے کہ کبھی گیارہ پڑھتے ہوں اور کبھی تیرہ بھی،
جس نے جیسا دیکھا بیان کر دیا،
لیکن تیرہ سے زیادہ کی کوئی روایت صحیح نہیں ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 442]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1138
1138. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تہجد تیرہ رکعت پر مشتمل ہوتی تھی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1138]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تہجد کی رکعات کی تعداد کو بیان کیا گیا ہے کہ وہ تیرہ رکعات ہوتی تھیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح ادا کرتے تھے کہ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیر دیتے۔
صحیح بخاری کی ایک روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان رکعات کو گیارہ بتایا گیا ہے۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4569)
لیکن یہ روایت شریک بن عبداللہ سے مروی ہے جنہوں نے حضرت کریب سے یہ تعداد بیان کی ہے جبکہ کریب کے دوسرے شاگرد تیرہ رکعت ہی بیان کرتے ہیں، اس بنا پر شریک کی روایت مرجوح ہے۔
حضرت عائشہ ؓ سے بھی اس کی تعداد تیرہ رکعات ہی مروی ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں اس کے متعلق متعدد روایات ہیں۔
بہرحال نماز تہجد کے موقع پر افتتاحی دو رکعت کو شامل کر کے ان کی تعداد تیرہ ہے۔
تفصیل کے لیے حدیث: 992 کے فوائد ملاحظہ فرمائیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1138]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 442 in Urdu