صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب كيف كان صلاة النبى صلى الله عليه وسلم وكم كان النبى صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کی کیا کیفیت تھی؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز میں کتنی رکعتیں پڑھا کرتے تھے؟
حدیث نمبر: 1138
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ:" كَانَتْ صَلَاةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يَعْنِي بِاللَّيْلِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے کہا کہ مجھ سے ابوحمزہ نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز تیرہ رکعت ہوتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب التهجد/حدیث: 1138]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس | صحابي | |
👤←👥نصر بن عمران الضبعي، أبو جمرة نصر بن عمران الضبعي ← عبد الله بن العباس القرشي | ثقة ثبت | |
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام شعبة بن الحجاج العتكي ← نصر بن عمران الضبعي | ثقة حافظ متقن عابد | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← شعبة بن الحجاج العتكي | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن مسدد بن مسرهد الأسدي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
1138
| صلاة النبي ثلاث عشرة ركعة يعني بالليل |
صحيح مسلم |
1803
| يصلي من الليل ثلاث عشرة ركعة |
جامع الترمذي |
442
| يصلي من الليل ثلاث عشرة ركعة |
سنن أبي داود |
1365
| قام النبي يصلي من الليل فصلى ثلاث عشرة ركعة منها ركعتا الفجر حزرت قيامه في كل ركعة بقدر يأيها المزمل |
سنن النسائى الصغرى |
1708
| يصلي من الليل ثمان ركعات ويوتر بثلاث ويصلي ركعتين قبل صلاة الفجر |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1138 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1138
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تہجد کی رکعات کی تعداد کو بیان کیا گیا ہے کہ وہ تیرہ رکعات ہوتی تھیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح ادا کرتے تھے کہ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیر دیتے۔
صحیح بخاری کی ایک روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان رکعات کو گیارہ بتایا گیا ہے۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4569)
لیکن یہ روایت شریک بن عبداللہ سے مروی ہے جنہوں نے حضرت کریب سے یہ تعداد بیان کی ہے جبکہ کریب کے دوسرے شاگرد تیرہ رکعت ہی بیان کرتے ہیں، اس بنا پر شریک کی روایت مرجوح ہے۔
حضرت عائشہ ؓ سے بھی اس کی تعداد تیرہ رکعات ہی مروی ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں اس کے متعلق متعدد روایات ہیں۔
بہرحال نماز تہجد کے موقع پر افتتاحی دو رکعت کو شامل کر کے ان کی تعداد تیرہ ہے۔
تفصیل کے لیے حدیث: 992 کے فوائد ملاحظہ فرمائیں۔
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تہجد کی رکعات کی تعداد کو بیان کیا گیا ہے کہ وہ تیرہ رکعات ہوتی تھیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح ادا کرتے تھے کہ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیر دیتے۔
صحیح بخاری کی ایک روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان رکعات کو گیارہ بتایا گیا ہے۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4569)
لیکن یہ روایت شریک بن عبداللہ سے مروی ہے جنہوں نے حضرت کریب سے یہ تعداد بیان کی ہے جبکہ کریب کے دوسرے شاگرد تیرہ رکعت ہی بیان کرتے ہیں، اس بنا پر شریک کی روایت مرجوح ہے۔
حضرت عائشہ ؓ سے بھی اس کی تعداد تیرہ رکعات ہی مروی ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں اس کے متعلق متعدد روایات ہیں۔
بہرحال نماز تہجد کے موقع پر افتتاحی دو رکعت کو شامل کر کے ان کی تعداد تیرہ ہے۔
تفصیل کے لیے حدیث: 992 کے فوائد ملاحظہ فرمائیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1138]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 442
سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 442]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 442]
اردو حاشہ:
1؎:
پیچھے (حدیث:
رقم 439) میں گزرا کہ آپ رمضان یا غیر رمضان میں تہجد گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے،
اور اس حدیث میں تیرہ پڑھنے کا تذکرہ ہے،
تو کسی نے ان تیرہ میں عشاء کی دو سنتوں کو شمار کیا ہے کہ کبھی تاخیر کر کے ان کو تہجد کے ساتھ ملا کر پڑھتے تھے،
اور کسی نے یہ کہا ہے کہ اس میں فجر کی دو سنتیں شامل ہیں،
کسی کسی روایت میں ایسا تذکرہ بھی ہے،
یا ممکن ہے کہ کبھی گیارہ پڑھتے ہوں اور کبھی تیرہ بھی،
جس نے جیسا دیکھا بیان کر دیا،
لیکن تیرہ سے زیادہ کی کوئی روایت صحیح نہیں ہے۔
1؎:
پیچھے (حدیث:
رقم 439) میں گزرا کہ آپ رمضان یا غیر رمضان میں تہجد گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے،
اور اس حدیث میں تیرہ پڑھنے کا تذکرہ ہے،
تو کسی نے ان تیرہ میں عشاء کی دو سنتوں کو شمار کیا ہے کہ کبھی تاخیر کر کے ان کو تہجد کے ساتھ ملا کر پڑھتے تھے،
اور کسی نے یہ کہا ہے کہ اس میں فجر کی دو سنتیں شامل ہیں،
کسی کسی روایت میں ایسا تذکرہ بھی ہے،
یا ممکن ہے کہ کبھی گیارہ پڑھتے ہوں اور کبھی تیرہ بھی،
جس نے جیسا دیکھا بیان کر دیا،
لیکن تیرہ سے زیادہ کی کوئی روایت صحیح نہیں ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 442]
نصر بن عمران الضبعي ← عبد الله بن العباس القرشي