🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. باب ما جاء في الوضوء مرة ومرتين وثلاثا
باب: اعضائے وضو کو ایک ایک بار، دو دو بار اور تین تین بار دھونے کا بیان​۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 45
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ أَبِي صَفِيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ: حَدَّثَكَ جَابِرٌ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً , وَمَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ , وَثَلَاثًا ثَلَاثًا " , قَالَ: نَعَمْ.
ابوحمزہ ثابت بن ابی صفیہ ثمالی کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر سے پوچھا: کیا جابر رضی الله عنہما نے آپ سے یہ بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو ایک ایک بار، دو دو بار، اور تین تین بار دھوئے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں (بیان کیا ہے)۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 45]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطہارة 45 (410) (تحفة الأشراف: 2592) (ضعیف) (سند میں ابو حمزہ ثابت بن ابی صفیہ الثمالی، و اور شریک بن عبداللہ القاضی دونوں ضعیف ہیں، نیز یہ آگے آنے والی حدیث کے مخالف بھی ہے، جس کے بارے میں امام ترمذی کا فیصلہ ہے کہ وہ شریک کی روایت سے زیادہ صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجة (410) ، //، المشكاة (422) ، ضعيف سنن ابن ماجة (91) //
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جداً / جه 410
ثابت بن أبي صفيه : ضعيف رافضي (تق : 818) وشريك القاضي عنعن (يأتي : 112) و حديث البخاري (159‘158‘157) يعني عن هذا الحديث .
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد الباقر، أبو جعفر
Newمحمد الباقر ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥ثابت بن أبي صفية الأزدي، أبو حمزة
Newثابت بن أبي صفية الأزدي ← محمد الباقر
ضعيف الحديث
👤←👥شريك بن عبد الله القاضي، أبو عبد الله
Newشريك بن عبد الله القاضي ← ثابت بن أبي صفية الأزدي
صدوق سيء الحفظ يخطئ كثيرا
👤←👥إسماعيل بن موسى، أبو محمد، أبو إسحاق
Newإسماعيل بن موسى ← شريك بن عبد الله القاضي
صدوق يتشيع
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
45
توضأ مرة مرة ومرتين مرتين وثلاثا ثلاثا
سنن ابن ماجه
410
توضأ مرة مرة قال نعم قلت ومرتين مرتين وثلاثا ثلاثا قال نعم
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 45 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 45
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ابوحمزہ ثابت بن ابی صفیہ الثمالی اور شریک بن عبداللہ القاضی دونوں ضعیف ہیں،
نیز یہ آگے آنے والی حدیث کے مخالف بھی ہے،
جس کے بارے میں امام ترمذی کا فیصلہ ہے کہ وہ شریک کی روایت سے زیادہ صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 45]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 45 in Urdu