🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب ما جاء في ترك الجمعة من غير عذر
باب: بغیر عذر کے جمعہ چھوڑنے پر وارد وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 500
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبِيدَةَ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الْجَعْدِ يَعْنِي الضَّمْرِيَّ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ فِيمَا زَعَمَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ تَهَاوُنًا بِهَا طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَمُرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي الْجَعْدِ حَدِيثٌ حَسَنٌ. قَالَ: وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنِ اسْمِ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ، فَلَمْ يَعْرِفْ اسْمَهُ، وَقَالَ: لَا أَعْرِفُ لَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَلَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو.
ابوالجعد ضمری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو جمعہ تین بار سستی ۱؎ سے حقیر جان کر چھوڑ دے گا تو اللہ اس کے دل پر مہر لگا دے گا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابوالجعد کی حدیث حسن ہے،
۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے ابوالجعد ضمری کا نام پوچھا تو وہ نہیں جان سکے،
۳- اس حدیث کے علاوہ میں ان کی کوئی اور حدیث نہیں جانتا جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہو،
۴- ہم اس حدیث کو صرف محمد بن عمرو کی روایت سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الجمعة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 500]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الصلاة 210 (1052)، سنن النسائی/الجمعة 1 (1369)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 93 (1125)، (تحفة الأشراف: 11883)، مسند احمد (3/424)، سنن الدارمی/الصلاة 205 (1612) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ مسلسل جمعہ چھوڑنا ایک خطرناک کام ہے، اس سے دل پر مہر لگ سکتی ہے جس کے بعد اخروی کامیابی کی امید ختم ہو جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، ابن ماجة (1125)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أدرع الضمري، أبو الجعدصحابي
👤←👥عبيدة بن سفيان الحضرمي
Newعبيدة بن سفيان الحضرمي ← أدرع الضمري
ثقة
👤←👥محمد بن عمرو الليثي، أبو الحسن، أبو عبد الله
Newمحمد بن عمرو الليثي ← عبيدة بن سفيان الحضرمي
صدوق له أوهام
👤←👥عيسى بن يونس السبيعي، أبو محمد، أبو عمرو
Newعيسى بن يونس السبيعي ← محمد بن عمرو الليثي
ثقة مأمون
👤←👥علي بن خشرم المروزي، أبو الحسن
Newعلي بن خشرم المروزي ← عيسى بن يونس السبيعي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1370
من ترك ثلاث جمع تهاونا بها طبع الله على قلبه
جامع الترمذي
500
من ترك الجمعة ثلاث مرات تهاونا بها طبع الله على قلبه
سنن أبي داود
1052
من ترك ثلاث جمع تهاونا بها طبع الله على قلبه
سنن ابن ماجه
1125
من ترك الجمعة ثلاث مرات تهاونا بها طبع على قلبه
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 500 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 500
اردو حاشہ:
1؎:
اس سے معلوم ہوا کہ مسلسل جمعہ چھوڑنا ایک خطرناک کام ہے،
اس سے دل پر مہر لگ سکتی ہے جس کے بعد اخروی کامیابی کی امید ختم ہو جاتی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 500]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1370
نماز جمعہ چھوڑنے کی شناعت کا بیان۔
ابوجعد ضمری رضی اللہ عنہ (جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے) کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے تین جمعہ سستی سے چھوڑ دیا، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دے گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1370]
1370۔ اردو حاشیہ:
مہر لگانا ایک محاور ہ ہے جس سے مراد کسی چیز کو یقینی بنانا اور ناقابل تنسیخ کر دینا ہے۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بلاعذر شرعی تین جمعے چھوڑنے والا شخص قطعاً منافق ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ (الا یہ کہ توبہ کر لے۔)
➋ جمعہ ادا کرنا واجب ہے کیونکہ اس قسم کی وعید ترک واجب ہی پر ہوتی ہے۔
➌ واجب اعمال کی ادائیگی میں سستی بہت بڑا جرم ہے۔ ترک واجب پر دوام سے نیکی کی توفیق سلب ہو جاتی ہے، آدمی کے دل پر غفلت کے پردے چڑھ جاتے ہیں اور آدمی نیکی کو نیکی اور برائی کو برائی نہیں سمجھتا۔ أعادنا اللہ منه۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1370]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1052
جمعہ چھوڑنے پر وارد وعید کا بیان۔
ابوجعد ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (انہیں شرف صحبت حاصل تھا) وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سستی سے تین جمعہ چھوڑ دے تو اس کی وجہ سے اللہ اس کے دل پر مہر لگا دے گا ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1052]
1052۔ اردو حاشیہ:
دل پر مہر لگ جانا بہت بڑی بدنصیبی محرومی اور سزا ہے کہ انسان نیکی اور خیر کی توفیق سے محروم ہو جاتا ہے اس لئے بندے کو فوراً اپنی اصلاح اور توبہ کرنی چاہیے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1052]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1125
بغیر عذر کے جمعہ چھوڑنے والے کے بارے میں وارد وعید کا بیان۔
ابوجعد ضمری رضی اللہ عنہ (انہیں شرف صحبت حاصل ہے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے تین جمعے سستی سے چھوڑ دئیے، اس کے دل پہ مہر لگ گئی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1125]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1) (تَھَاوُناً)
کا لفظ ھَیِّنٌ سے تعلق رکھتا ہے۔
جس کا مطلب معمولی اور غیر اہم چیز ہے۔
انسان جس چیز کواہمیت نہیں دیتا۔
اس کی ادایئگی میں سستی اور کاہلی سے کام لیتا ہے۔
اس لئے اس لفظ کا ترجمہ سستی کرتے ہوئے بھی کیا جاتا ہے۔

(2)
دل پر مہر لگ جانا بعض گناہوں کی سزا کے طور پر ہوتا ہے۔
جس کے نتیجے میں دل خیر وشر میں امتیاز سے محروم ہوجاتا ہے۔
پھر ا س کو نیکی سے محبت اور بُرائی سے نفرت نہیں رہتی۔
جب دل کی بیماری اس درجہ تک پہنچ جائے۔
تو پھر ہدایت کی اُمید بہت ہی کم رہ جاتی ہے۔
مومن کو اس خطرناک مرحلے سے بچنے کے لئے نمازوں کاخاص طور پر جمعے کا بہت خیال رکھنا چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1125]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 500 in Urdu