Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب ما جاء ما يستحب عليه الإفطار
باب: کس چیز سے روزہ کھولنا مستحب ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 695
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ح. وَحَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ. وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ الرَّبَاب، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ زَادَ ابْنُ عُيَيْنَةَ فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ فَإِنَّهُ طَهُورٌ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
سلمان بن عامر ضبی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی افطار کرے تو چاہیئے کہ کھجور سے افطار کرے کیونکہ اس میں برکت ہے اور جسے (کھجور) میسر نہ ہو تو وہ پانی سے افطار کرے کیونکہ یہ پاکیزہ چیز ہے ۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 695]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الصوم 21 (2355)، سنن ابن ماجہ/الصیام 25 (1699)، (تحفة الأشراف: 4486)، مسند احمد (4/، 17، 19، 213، 215)، سنن الدارمی/الصوم 12 (1773)، وانظر أیضا ما تقدم برقم 658 (ضعیف)»
وضاحت: ۱؎: اگرچہ قولاً اس کی سند صحیح نہیں ہے، مگر فعلاً یہ حدیث دیگر طرق سے ثابت ہے۔
۲؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر افطار میں کھجور میسر ہو تو کھجور ہی سے افطار کرے کیونکہ یہ مقوی معدہ، مقوی اعصاب اور جسم میں واقع ہونے والی کمزوریوں کا بہترین بدل ہے اور اگر کھجور میّسر نہ ہو سکے تو پھر پانی سے افطار بہتر ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تازہ کھجور سے افطار کیا کرتے تھے اگر تازہ کھجور نہیں ملتی تو خشک کھجور سے افطار کرتے اور اگر وہ بھی نہ ملتی تو چند گھونٹ پانی سے افطار کرتے تھے۔ ان دونوں چیزوں کے علاوہ اجر و ثواب وغیرہ کی نیت سے کسی اور چیز مثلاً نمک وغیرہ سے افطار کرنا بدعت ہے، جو ملاؤں نے ایجاد کی ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سلمان بن عامر الضبيصحابي
👤←👥الرباب بنت صليع الضبية، أم الرائح
Newالرباب بنت صليع الضبية ← سلمان بن عامر الضبي
مقبول
👤←👥حفصة بنت سيرين الأنصارية، أم الهذيل
Newحفصة بنت سيرين الأنصارية ← الرباب بنت صليع الضبية
ثقة
👤←👥عاصم الأحول، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعاصم الأحول ← حفصة بنت سيرين الأنصارية
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عاصم الأحول
ثقة حافظ حجة
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة ثبت
👤←👥عاصم الأحول، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعاصم الأحول ← قتيبة بن سعيد الثقفي
ثقة
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← عاصم الأحول
ثقة
👤←👥هناد بن السري التميمي، أبو السري
Newهناد بن السري التميمي ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة
👤←👥عاصم الأحول، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعاصم الأحول ← هناد بن السري التميمي
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← عاصم الأحول
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري
ثقة حافظ إمام
👤←👥محمود بن غيلان العدوي، أبو أحمد
Newمحمود بن غيلان العدوي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
695
إذا أفطر أحدكم فليفطر على تمر فإنه بركة فمن لم يجد فليفطر على ماء فإنه طهور
جامع الترمذي
658
إذا أفطر أحدكم فليفطر على تمر فإنه بركة فإن لم يجد تمرا فالماء فإنه طهور الصدقة على المسكين صدقة وهي على ذي الرحم ثنتان صدقة وصلة
سنن أبي داود
2355
إذا كان أحدكم صائما فليفطر على التمر فإن لم يجد التمر فعلى الماء فإن الماء طهور
سنن ابن ماجه
1699
إذا أفطر أحدكم فليفطر على تمر فإن لم يجد فليفطر على الماء فإنه طهور
بلوغ المرام
536
‏‏‏‏إذا افطر احدكم فليفطر على تمر فإن لم يجد فليفطر على ماء فإنه طهور
مسندالحميدي
843
إذا أفطر أحدكم فليفطر على تمر، فإنه بركة، فإن لم يكن، فماء فإنه طهور
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 695 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 695
اردو حاشہ:
1؎:
اگرچہ قولاً اس کی سند صحیح نہیں ہے،
مگر فعلاً یہ حدیث دیگر طرق سے ثابت ہے۔

2؎:
یہ حدیث اس بات پردلالت کرتی ہے کہ اگر افطار میں کھجور میسر ہو تو کھجور ہی سے افطار کرے کیونکہ یہ مقوی معدہ،
مقوی اعصاب اور جسم میں واقع ہونے والی کمزوریوں کا بہترین بدل ہے اور اگر کھجور میّسر نہ ہو سکے تو پھر پانی سے افطار بہتر ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تازہ کھجورسے افطار کیا کرتے تھے اگر تازہ کھجور نہیں ملتی تو خشک کھجور سے افطار کرتے اور اگر وہ بھی نہ ملتی تو چند گھونٹ پانی سے افطار کرتے تھے۔
ان دونوں چیزوں کے علاوہ اجر و ثواب وغیرہ کی نیت سے کسی اور چیز مثلاً نمک وغیرہ سے افطار کرنا بدعت ہے،
جو ملاؤں نے ایجاد کی ہے۔

نوٹ:

(الرباب ام الرائح لین الحدیث ہیں،
اس حدیث کی تصحیح ترمذی کے علاوہ:
ابن خزیمہ اور ابن حبان نے بھی کی ہے،
البانی نے پہلے اس کی تصحیح کی تھی بعد میں اسے ضعیف الجامع الصغیر میں رکھ دیا (رقم: 369) دیکھئے:
تراجع الألبانی رقم: 132 و ارواء رقم: 922)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 695]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 536
(روزے کے متعلق احادیث)
سیدنا سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی روزہ افطار کرے تو اسے کھجور سے افطار کرنا چاہیئے۔ پھر اگر کھجور دستیاب نہ ہو سکے تو پانی سے افطار کر لے اس لئے کہ وہ پاک ہے۔
اسے پانچوں نے روایت کیا ہے۔ ابن خزیمہ، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 536]
فوائد و مسائل 536:
➊ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر ممکن ہو تو کھجور سے افطار کرنا چاہیے کیونکہ کھجور مقوئ معدہ مقوئ اعصاب اور جسم میں واقع ہونے والی کمزوری کا بدل ہے۔ اگر کھجور مہیا نہ ہو سکے تو پھر پانی سے افطار بہتر ہے۔
➋ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں سے روزہ افطار فرمایا کرتے تھے۔ اگر تازہ نہ ملتی تو خشک کھجور سے افطار کرتے۔ اگر یہ بھی نہ ملتی تو پھر چند گھونٹ پانی سے روزہ افطار فرمالیتے تھے۔ [جامع الترمذي، الصوم، باب ماجاء ما يستحب عليه الأِفطار، حديث: 696]

➌ امام ابنِ قیّم رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ کھجور یا پانی سے روزہ افطار کرنے میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی اُمت کیساتھ کمالِ شفقت اور خیر خواہی کا اظہار ہے، کیونکہ خالی معدے کی حالت میں میٹھی چیز کھانا معدے کے لیے بہت مفید ہے۔ اس کے ساتھ باقی اعضاء بھی قوت پکڑتے ہیں۔ خصوصًا قوتِ بینائی کو بیحد فائدہ پہنچتا ہے۔ اس طرح پانی کا فائدہ یہ ہے کہ روزے کیساتھ جگر میں خشکی پیدا ہو جاتی ہے، اگر اسے پانی کیساتھ رطوبت پہنچ جائے تو وہ بعد میں کھائی جانے والی غذا سے بہت فائدہ حاصل کرتا ہے۔ علاوہ ازیں کھجور اور پانی کی خاصیات کو امراضِ دل کے ماہرین ہی بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ دل کی درستی میں انکا کسقدر عمل دخل ہے۔ [زادالمعاد: 160/1]

راوئ حدیث:
حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ انکا سلسلہ نسب یوں ہے: سلمان بن عامر بن اویس بن حجر بن عمرو بن حارث الضبی، مشہور صحابی ہیں۔ بصرہ میں رہائش پذیر رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں یہ صاحب عمر رسیدہ تھے۔ خلافتِ معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک زندہ رہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ جنگِ جمل میں شہید ہو گئے۔ اس وقت ان کی عمر سو برس تھی۔ ایک قول کے مطابق ان کے سوا کوئی بھی صحابی ضبی نہیں۔

[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 536]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2355
افطار کس چیز سے کیا جائے؟
سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو اسے کھجور ۱؎ سے روزہ افطار کرنا چاہیئے اگر کھجور نہ پائے تو پانی سے کر لے اس لیے کہ وہ پاکیزہ چیز ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2355]
فوائد ومسائل:
(1) یہ امر ارشاد و ترغیب ہے نہ کہ امر وجوب۔
اس لیے کسی بھی طعام و مشروب سے روزہ افطار کیا جا سکتا ہے۔
(2) مسلمانوں کو چاہیے کہ کجھور جیسے مبارک پھل کو اپنے دسترخوان کا جزو بنانے کا اہتمام کریں۔
یہ نعمت لذت و شیرینی آمیز پھل ہی نہیں، بلکہ طعام کا قائم مقام بھی ہے۔
تہذیب مغرب نے سیب کو بہت شہرت دی ہے جو یقینا اللہ کی عظیم پاکیزہ نعمت ہے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کجھور کو جو فضیلت دی ہے وہ کسی اور پھل کو حاصل نہیں، اسی لیے چاہیے کہ اس کی کاشت بھی بڑھائی جائے۔
(3) مسلمان جہاں کھانے پینے اور پہننے کی ظاہری سنتوں کا اہتمام کرتے ہیں، وہاں انہیں چاہیے کہ عقیدہ و عمل کے معنوی امور کا اس سے بڑھ کر اہتمام کریں۔
(34) اس حدیث کی اسنادی مباحث کے لیے دیکھئے، ارواء الغلیل، حدیث:922۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2355]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1699
کن چیزوں سے افطار مستحب ہے؟
سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی افطار کرے تو کھجور سے افطار کرے، اور اگر اسے کھجور نہ ملے تو پانی سے افطار کرے، اس لیے کہ وہ پاکیزہ چیز ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1699]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
تمر خشک کھجور کو کہتے ہیں جا مع التر مذی کی دوسری حدیث میں تمر خشک کھجو ر کے علاوہ رطب تر کھجور سے روزہ کھولنا بھی مذکو ر ہے۔ دیکھیے: (جامع ترمذي، الصوم، حدیث: 696)

(2)
کھجور سے روزہ کھولنا اس لئے افضل ہے کہ یہ بابرکت پھل ہے اور پانی کا تعلق طہارت اور پا کیزگی سے ہے روزہ روحانی پاکیزگی کا باعث ہے اور پانی ظاہری پاکیزگی کا، اس مناسبت سے پانی سے روزہ کھولنا بھی مستحب ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1699]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 658
رشتہ داروں پر صدقہ کرنے کا بیان۔
سلمان بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی روزہ افطار کرے تو کھجور سے افطار کرے، کیونکہ اس میں برکت ہے، اگر کھجور میسر نہ ہو تو پانی سے افطار کرے وہ نہایت پاکیزہ چیز ہے، نیز فرمایا: مسکین پر صدقہ، صرف صدقہ ہے اور رشتے دار پر صدقہ میں دو بھلائیاں ہیں، یہ صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الزكاة/حدیث: 658]
اردو حاشہ:
1؎:
جس میں رباب کے واسطے کا ذکر ہے۔

نوٹ:

نیز دیکھئے رقم: 695 پہلا فقرہ روزے سے متعلق (ضعیف) ہے،
سند میں رباب،
أم الرائح لین الحدیث ہیں،
اور صدقہ سے متعلق دوسرا فقرہ صحیح ہے،
تراجع الالبانی: 132،
والسراج المنیر: 1873، 1874)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 658]