🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. باب ما جاء في صوم يوم الاثنين والخميس
باب: سوموار (دوشنبہ) اور جمعرات کے دن روزہ رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 746
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنَ الشَّهْرِ السَّبْتَ وَالْأَحَدَ وَالِاثْنَيْنِ وَمِنَ الشَّهْرِ الْآخَرِ الثُّلَاثَاءَ وَالْأَرْبِعَاءَ وَالْخَمِيسَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَرَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ سُفْيَانَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ ہفتہ (سنیچر)، اتوار اور سوموار (دوشنبہ) کو اور دوسرے مہینہ منگل، بدھ، اور جمعرات کو روزہ رکھتے تھے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- عبدالرحمٰن بن مہدی نے اس حدیث کو سفیان سے روایت کیا ہے اور اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 746]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 16070) (ضعیف) (سند میں خیثمہ بن ابی خیثمہ ابو نصر بصری لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف تخريج المشكاة / التحقيق الثاني (2059)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥خيثمة بن عبد الرحمن الجعفي
Newخيثمة بن عبد الرحمن الجعفي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← خيثمة بن عبد الرحمن الجعفي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥معاوية بن هشام الأسدي، أبو الحسن
Newمعاوية بن هشام الأسدي ← سفيان الثوري
صدوق له أوهام
👤←👥محمد بن عبد الله الزبيرى، أبو أحمد
Newمحمد بن عبد الله الزبيرى ← معاوية بن هشام الأسدي
ثقة ثبت قد يخطئ في حديث الثوري
👤←👥محمود بن غيلان العدوي، أبو أحمد
Newمحمود بن غيلان العدوي ← محمد بن عبد الله الزبيرى
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
2744
لم يكن يبالي من أي أيام الشهر يصوم
جامع الترمذي
746
يصوم من الشهر السبت والأحد والاثنين ومن الشهر الآخر الثلاثاء والأربعاء والخميس
جامع الترمذي
763
يصوم ثلاثة أيام من كل شهر قالت نعم قلت من أيه كان يصوم قالت كان لا يبالي من أيه صام
سنن ابن ماجه
1709
يصوم ثلاثة أيام من كل شهر قلت من أيه قالت لم يكن يبالي من أيه كان
سنن النسائى الصغرى
2417
يصوم من كل شهر ثلاثة أيام أول اثنين من الشهر ثم الخميس ثم الخميس الذي يليه
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 746 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 746
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں خیثمہ بن ابی خیثمہ ابو نصر بصری لین الحدیث ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 746]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1709
ماہانہ تین دن روزے رکھنے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینہ میں تین دن روزہ رکھتے تھے، معاذہ عدویہ کہتی ہیں: میں نے پوچھا: کون سے تین دنوں میں؟ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم پروا نہیں کرتے تھے جو بھی تین دن ہوں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1709]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
  اس سے معلو م ہوا کہ مہینے کے درمیانی ایام کے علاوہ بھی کوئی سے تین دن روزے رکھے جا سکتے ہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقا ت بلا تعیین و تخصیص تین روزے رکھا کرتے تھے تا کہ وجوب نہ سمجھا جائے اس طرح آ پ بعض دفعہ مہینے کی ابتدا میں تین روزے رکھتے چنانچہ جن صحا بہ کے علم میں آپ کے یہی ابتدائی دن آئے انھوں نے اس کے مطابق بیان کر دیا اس لئے ان دونو ں یعنی ایا م بیض اور ابتدائی ایا م میں روزے رکھنے میں کوئی منافات نہیں۔
تاہم افضل یہی ہے کہ ایام بیض کے 3 روزے رکھے جائیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا ہے جیسا کہ حدیث نمبر 1707میں گزر چکا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1709]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2744
معاذہ عددیہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ تین روزے رکھتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا: ہاں تو میں نے پوچھا مہینے کے کن دنوں میں کن تاریخوں میں روزہ رکھتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا اس کی فکر واہتمام نہیں فرماتے تھے مہینہ کے کن دنوں میں روزہ رکھیں یعنی جن دنوں چاہتے ر وزہ رکھ لیتے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2744]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معین اور مستقل دستور نہ تھا لیکن آپ ساتھیوں کو ایام ابیض 13۔
14۔
15۔
تاریخ کے روزہ رکھنے کی تلقین کرتے تھے اس لیے اگرصرف تین روزے رکھتے ہوں تو یہی افضل ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2744]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 746 in Urdu