سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب ما جاء في الاغتسال عند الإحرام
باب: احرام کے وقت غسل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 830
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَعْقُوبَ الْمَدَنِيُّ، عَنْ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَجَرَّدَ لِإِهْلَالِهِ وَاغْتَسَلَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدِ اسْتَحَبَّ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ الِاغْتِسَالَ عِنْدَ الْإِحْرَامِ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ.
زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے احرام باندھنے کے لیے اپنے کپڑے اتارے اور غسل کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- اہل علم کی ایک جماعت نے احرام باندھنے کے وقت غسل کرنے کو مستحب قرار دیا ہے۔ یہی شافعی بھی کہتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 830]
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- اہل علم کی ایک جماعت نے احرام باندھنے کے وقت غسل کرنے کو مستحب قرار دیا ہے۔ یہی شافعی بھی کہتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 830]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف وانظر: سنن الدارمی/المناسک 6 (1835) (تحفة الأشراف: 3710) (صحیح) (سند میں عبداللہ بن یعقوب مجہول الحال ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)»
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ احرام کے لیے غسل کرنا مستحب ہے، اکثر لوگوں کی یہی رائے ہے، اور بعض نے اسے واجب کہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح التعليقات الجياد، المشكاة (2547 / التحقيق الثانى، الحج الكبير)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
830
| تجرد لإهلاله واغتسل |
بلوغ المرام |
595
| تجرد لإهلاله واغتسل |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 830 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 830
اردو حاشہ:
1؎:
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ احرام کے لیے غسل کرنا مستحب ہے،
اکثر لوگوں کی یہی رائے ہے،
اور بعض نے اسے واجب کہا ہے۔
نوٹ:
(سند میں عبداللہ بن یعقوب مجہول الحال ہیں،
لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
1؎:
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ احرام کے لیے غسل کرنا مستحب ہے،
اکثر لوگوں کی یہی رائے ہے،
اور بعض نے اسے واجب کہا ہے۔
نوٹ:
(سند میں عبداللہ بن یعقوب مجہول الحال ہیں،
لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 830]
خارجة بن زيد الأنصاري ← زيد بن ثابت الأنصاري