علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
72. باب ما جاء في ركوب البدنة
باب: ہدی کے اونٹ پر سوار ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 911
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، فَقَالَ لَهُ: " ارْكَبْهَا " فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ لَهُ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ: " ارْكَبْهَا وَيْحَكَ " أَوْ وَيْلَكَ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ فِي رُكُوبِ الْبَدَنَةِ إِذَا احْتَاجَ إِلَى ظَهْرِهَا، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا يَرْكَبُ مَا لَمْ يُضْطَرَّ إِلَيْهَا.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ہدی کے اونٹ ہانکتے دیکھا، تو اسے حکم دیا ”اس پر سوار ہو جاؤ“، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ہدی کا اونٹ ہے، پھر آپ نے اس سے تیسری یا چوتھی بار میں کہا: ”اس پر سوار ہو جاؤ، تمہارا برا ہو ۱؎ یا تمہاری ہلاکت ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں علی، ابوہریرہ، اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- صحابہ کرام وغیرہ میں سے اہل علم کی ایک جماعت نے ہدی کے جانور پر سوار ہونے کی اجازت دی ہے، جب کہ وہ اس کا محتاج ہو، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے،
۴- بعض کہتے ہیں: جب تک مجبور نہ ہو ہدی کے جانور پر سوار نہ ہو۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 911]
۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں علی، ابوہریرہ، اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- صحابہ کرام وغیرہ میں سے اہل علم کی ایک جماعت نے ہدی کے جانور پر سوار ہونے کی اجازت دی ہے، جب کہ وہ اس کا محتاج ہو، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے،
۴- بعض کہتے ہیں: جب تک مجبور نہ ہو ہدی کے جانور پر سوار نہ ہو۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 911]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوصایا 12 (2754) (تحفة الأشراف: 1437) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/103 (1690)، والأدب 95 (6159)، صحیح مسلم/الحج 65 (1323)، سنن النسائی/الحج 74 (2802)، مسند احمد (3/99، 170، 173، 202، 231، 334، 275، 276، 291)، سنن الدارمی/المناسک 49 () من غیر ہذا الطریق۔»
وضاحت: ۱؎: یہ آپ نے تنبیہ اور ڈانٹ کے طور پر فرمایا کیونکہ سواری کی اجازت آپ اسے پہلے دے چکے تھے اور آپ کو یہ پہلے معلوم تھا کہ یہ ہدی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥الوضاح بن عبد الله اليشكري، أبو عوانة الوضاح بن عبد الله اليشكري ← قتادة بن دعامة السدوسي | ثقة ثبت | |
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء قتيبة بن سعيد الثقفي ← الوضاح بن عبد الله اليشكري | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6159
| اركبها قال إنها بدنة قال اركبها ويلك |
صحيح البخاري |
2754
| اركبها فقال يا رسول الله إنها بدنة قال في الثالثة أو في الرابعة اركبها ويلك أو ويحك |
صحيح البخاري |
6701
| الله لغني عن تعذيب هذا نفسه ورآه يمشي بين ابنيه |
صحيح البخاري |
1690
| اركبها قال إنها بدنة قال اركبها ثلاثا |
صحيح البخاري |
1865
| الله عن تعذيب هذا نفسه لغني وأمره أن يركب |
صحيح مسلم |
3211
| اركبها فقال إنها بدنة قال اركبها |
صحيح مسلم |
3212
| اركبها قال إنها بدنة أو هدية فقال وإن |
صحيح مسلم |
4247
| الله عن تعذيب هذا نفسه لغني وأمره أن يركب |
جامع الترمذي |
1536
| الله لغني عن مشيها مروها فلتركب |
جامع الترمذي |
911
| اركبها فقال يا رسول الله إنها بدنة قال له في الثالثة أو في الرابعة اركبها ويحك |
جامع الترمذي |
1537
| الله لغني عن تعذيب هذا نفسه قال فأمره أن يركب |
سنن أبي داود |
3301
| الله لغني عن تعذيب هذا نفسه وأمره أن يركب |
سنن النسائى الصغرى |
3885
| الله لا يصنع بتعذيب هذا نفسه شيئا فأمره أن يركب |
سنن النسائى الصغرى |
3884
| الله غني عن تعذيب هذا نفسه مره فليركب فأمره أن يركب |
سنن النسائى الصغرى |
3883
| الله غني عن تعذيب هذا نفسه مره فليركب |
سنن النسائى الصغرى |
2802
| اركبها قال إنها بدنة قال في الرابعة اركبها ويلك |
سنن النسائى الصغرى |
2803
| اركبها قال إنها بدنة قال اركبها وإن كانت بدنة |
سنن ابن ماجه |
3104
| اركبها قال فرأيته راكبها مع النبي في عنقها نعل |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 911 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 911
اردو حاشہ:
1؎:
یہ آپ نے تنبیہ اور ڈانٹ کے طور پر فرمایا کیونکہ سواری کی اجازت آپ اسے پہلے دے چکے تھے اور آپ کو یہ پہلے معلوم تھا کہ یہ ہدی ہے۔
1؎:
یہ آپ نے تنبیہ اور ڈانٹ کے طور پر فرمایا کیونکہ سواری کی اجازت آپ اسے پہلے دے چکے تھے اور آپ کو یہ پہلے معلوم تھا کہ یہ ہدی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 911]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2803
چلتے چلتے تھک جانے والا شخص ہدی کے جانور پر سوار ہو سکتا ہے۔
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ہدی کا اونٹ لے جاتے دیکھا اور وہ تھک کر چور ہو چکا تھا آپ نے اس سے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ“ وہ کہنے لگا ہدی کا اونٹ ہے، آپ نے فرمایا: ”وار ہو جاؤ اگرچہ وہ ہدی کا اونٹ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2803]
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ہدی کا اونٹ لے جاتے دیکھا اور وہ تھک کر چور ہو چکا تھا آپ نے اس سے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ“ وہ کہنے لگا ہدی کا اونٹ ہے، آپ نے فرمایا: ”وار ہو جاؤ اگرچہ وہ ہدی کا اونٹ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2803]
اردو حاشہ:
اگر چلنے میں مشقت ہو تو قربانی کے جانور پر سوار ہونے میں کوئی حرج نہیں۔ اگر سفر لمبا ہو تو یہ بھی مشقت ہی ایک صورت ہے۔ ضروری نہیں کہ وہ بالکل چلنے سے عاجز ہو تب ہی سوار ہو۔ ضرورت کے وقت سوار ہو سکتا ہے، البتہ اگر الگ سواری موجود ہو تو قربانی کے اونٹ پر سوار نہیں ہونا چاہیے۔ احترام ضروری ہے۔
اگر چلنے میں مشقت ہو تو قربانی کے جانور پر سوار ہونے میں کوئی حرج نہیں۔ اگر سفر لمبا ہو تو یہ بھی مشقت ہی ایک صورت ہے۔ ضروری نہیں کہ وہ بالکل چلنے سے عاجز ہو تب ہی سوار ہو۔ ضرورت کے وقت سوار ہو سکتا ہے، البتہ اگر الگ سواری موجود ہو تو قربانی کے اونٹ پر سوار نہیں ہونا چاہیے۔ احترام ضروری ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2803]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3883
جو کوئی نذر مانے پھر اس کی ادائیگی سے عاجز رہے اس شخص پر کیا واجب ہے؟
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ دو آدمیوں کے بیچ میں ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چل رہا ہے، آپ نے فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: اس نے نذر مانی ہے کہ وہ بیت اللہ تک پیدل چل کر جائے گا، آپ نے فرمایا: ”اس طرح اپنی جان کو تکلیف دینے کی اللہ کو ضرورت نہیں، اس سے کہو کہ سوار ہو کر جائے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3883]
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ دو آدمیوں کے بیچ میں ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چل رہا ہے، آپ نے فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: اس نے نذر مانی ہے کہ وہ بیت اللہ تک پیدل چل کر جائے گا، آپ نے فرمایا: ”اس طرح اپنی جان کو تکلیف دینے کی اللہ کو ضرورت نہیں، اس سے کہو کہ سوار ہو کر جائے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3883]
اردو حاشہ:
جو شخص اپنی نذر پوری کرنے سے عاجز آجائے تو اسے کفارہ ادا کرنا ہوگا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے‘ روایت: 3845۔
جو شخص اپنی نذر پوری کرنے سے عاجز آجائے تو اسے کفارہ ادا کرنا ہوگا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے‘ روایت: 3845۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3883]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3885
قسم میں استثنا یعنی ”ان شاءاللہ“ کہنے کا بیان۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ایسے شخص کے پاس سے گزر ہوا جو اپنے دو بیٹوں کے درمیان ان کے کندھوں کا سہارا لیے چل رہا تھا، آپ نے فرمایا: ”اس کا کیا معاملہ ہے؟“ عرض کیا گیا: اس نے کعبہ پیدل جانے کی نذر مانی ہے، آپ نے فرمایا: ”اس طرح اپنے آپ کو تکلیف دینے سے اللہ تعالیٰ اس کو کوئی ثواب نہیں دے گا، پھر آپ نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3885]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ایسے شخص کے پاس سے گزر ہوا جو اپنے دو بیٹوں کے درمیان ان کے کندھوں کا سہارا لیے چل رہا تھا، آپ نے فرمایا: ”اس کا کیا معاملہ ہے؟“ عرض کیا گیا: اس نے کعبہ پیدل جانے کی نذر مانی ہے، آپ نے فرمایا: ”اس طرح اپنے آپ کو تکلیف دینے سے اللہ تعالیٰ اس کو کوئی ثواب نہیں دے گا، پھر آپ نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3885]
اردو حاشہ:
”حکم دیا“ کیونکہ وہ چلنے سے عاجز تھا۔ جو چل سکے‘ وہ چلے عاجز ہوجائے تو سوار ہوجائے اور کفارہ دے۔
”حکم دیا“ کیونکہ وہ چلنے سے عاجز تھا۔ جو چل سکے‘ وہ چلے عاجز ہوجائے تو سوار ہوجائے اور کفارہ دے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3885]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3104
ہدی کے اونٹوں کی سواری کا بیان۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے کوئی شخص ایک اونٹ لے کر گزرا تو آپ نے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ“، اس نے کہا: یہ ہدی کا اونٹ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ۔“ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اسے دیکھا وہ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سوار تھا، اس کی گردن میں ایک جوتی لٹک رہی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3104]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے کوئی شخص ایک اونٹ لے کر گزرا تو آپ نے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ“، اس نے کہا: یہ ہدی کا اونٹ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ۔“ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اسے دیکھا وہ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سوار تھا، اس کی گردن میں ایک جوتی لٹک رہی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3104]
اردو حاشہ:
فوئاد و مسائل:
(1)
ہدی اس جانور کو کہتے ہیں جو حاجی اپنے ساتھ لیکر جاتا ہےتاکہ قربانی کے دن مکہ یا منی میں ذبح کرے۔
(2)
قربانی کے جانور پر سواری کرنا اس وقت جائز ہے جب سواری کا اور جانور موجود نہ ہواور آدمی تھک گیا ہو۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اس پر اچھے طریقے سے سواری کر جب تواس پر (سوار ی کرنے)
پر مجبور ہوجائے حتی کہ تجھے سواری کا (اور)
جانور مل جائے۔ (صحيح مسلم، الحج، باب جواز ركوب البدنة المهداة لمن احتاج إليها، حديث: 1324)
فوئاد و مسائل:
(1)
ہدی اس جانور کو کہتے ہیں جو حاجی اپنے ساتھ لیکر جاتا ہےتاکہ قربانی کے دن مکہ یا منی میں ذبح کرے۔
(2)
قربانی کے جانور پر سواری کرنا اس وقت جائز ہے جب سواری کا اور جانور موجود نہ ہواور آدمی تھک گیا ہو۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اس پر اچھے طریقے سے سواری کر جب تواس پر (سوار ی کرنے)
پر مجبور ہوجائے حتی کہ تجھے سواری کا (اور)
جانور مل جائے۔ (صحيح مسلم، الحج، باب جواز ركوب البدنة المهداة لمن احتاج إليها، حديث: 1324)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3104]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1865
1865. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بوڑھے کو دیکھا جو اپنے دو بیٹوں کے سہارے چل رہا تھا۔ آپ نے دریافت فرمایا: ”اسے کیا ہوا ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا کہ اس نے پیدل چلنے کی نذر مانی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”یہ اپنی جان کو تکلیف دے رہا ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے۔“ آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ سوار ہو کر جائے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1865]
حدیث حاشیہ:
تو اس پر اس منت کا پورا کرنا وجب ہے یا نہیں حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ ایسی نذر کا پورا کرنا واجب نہیں کیوں کہ حج سوار ہو کر کرنا پیدل کرنے سے افضل ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے سوار ہونے کا حکم دیا کہ اس کو پیدل چلنے کی طاقت نہ تھی۔
تو اس پر اس منت کا پورا کرنا وجب ہے یا نہیں حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ ایسی نذر کا پورا کرنا واجب نہیں کیوں کہ حج سوار ہو کر کرنا پیدل کرنے سے افضل ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے سوار ہونے کا حکم دیا کہ اس کو پیدل چلنے کی طاقت نہ تھی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1865]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6701
6701. حضرت انس ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالٰی اس سے بے پروا ہے کہ یہ شخص اپنی جان کو عذاب میں ڈالے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا کہ وہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان چل رہا تھا۔ فزاری نے حمید سے بیان کیا، انہوں نے ثابت سے، انہوں نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6701]
حدیث حاشیہ:
ایسی ناجائز نذر ماننا جو حداعتدال سے باہر ہو اسے توڑ دینے کا حکم ہے اس شخص کے پیرفالج زدہ تھے اور اس نے حج کرنے کے لیے اپنے دو بچوں کے کندھے کے سہارے چل کرحج کرنے کی نذر مانی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےاسے اس طرح چلنے سےمنع فرما دیا۔
ایسی ناجائز نذر ماننا جو حداعتدال سے باہر ہو اسے توڑ دینے کا حکم ہے اس شخص کے پیرفالج زدہ تھے اور اس نے حج کرنے کے لیے اپنے دو بچوں کے کندھے کے سہارے چل کرحج کرنے کی نذر مانی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےاسے اس طرح چلنے سےمنع فرما دیا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6701]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1690
1690. حضرت انس ؓسے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا وہ قربانی کا جانور ہانکے جارہا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”تو اس پر سوار ہوجا۔“ اس نے عرض کیا: یہ تو قربانی کااونٹ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’‘تو اس پر سواری کر۔“ اس نے پھر عرض کیا: یہ تو قربانی کا اونٹ ہے۔ آپ نے تیسری مرتبہ فرمایا: ”تو اس پر سوار ہوجا۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1690]
حدیث حاشیہ:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بار بار فرمانے کا مقصد یہ ہے کہ قربانی کے اونٹ پر سوار ہونا اس کے شعائر اسلام ہونے کے منافی نہیں ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بار بار فرمانے کا مقصد یہ ہے کہ قربانی کے اونٹ پر سوار ہونا اس کے شعائر اسلام ہونے کے منافی نہیں ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1690]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1690
1690. حضرت انس ؓسے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا وہ قربانی کا جانور ہانکے جارہا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”تو اس پر سوار ہوجا۔“ اس نے عرض کیا: یہ تو قربانی کااونٹ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’‘تو اس پر سواری کر۔“ اس نے پھر عرض کیا: یہ تو قربانی کا اونٹ ہے۔ آپ نے تیسری مرتبہ فرمایا: ”تو اس پر سوار ہوجا۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1690]
حدیث حاشیہ:
:
(1)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ قربانی کے جانور پر سواری کرنا جائز ہے، خواہ وہ قربانی فرض ہو یا نفل کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے مالک سے اس قسم کی تفصیل دریافت نہیں کی۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ فرض یا نفل قربانی کا ایک ہی حکم ہے۔
حضرت علی ؓ سے سوال ہوا کہ قربانی کے جانور پر سواری کرنا کیسا ہے؟ انہوں نے فرمایا:
اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پیدل چلنے والے لوگوں کے پاس سے گزرتے تو انہیں قربانی کے جانوروں پر سوار ہونے کا حکم دیتے۔
اس معاملے میں ضرورت کو پیش نظر ضرور رکھنا چاہیے اور جب ضرورت ختم ہو جائے تو انہیں سواری کے لیے استعمال نہ کیا جائے جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”قربانی کے جانور پر اچھے انداز میں سواری کی جائے جبکہ تجھے اس کی ضرورت ہو یہاں تک کہ دوسری سواری مل جائے۔
“ (صحیح مسلم، الحج، حدیث: 3214(1324)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر اور سواری دستیاب ہو تو قربانی کے جانور کو آزاد چھوڑ دیا جائے، چنانچہ امام بیہقی ؒ نے ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے:
(يركب إذا اضطر ركوبا غير قادح)
”جب سواری کی ضرورت ہو تو قربانی کے جانور پر سواری کی جا سکتی ہے۔
“ لیکن ان جانوروں کو بطور اجرت سواری کے لیے نہ دیا جائے۔
(فتح الباري: 679/3)
(2)
دراصل دور جاہلیت میں لوگ کچھ جانوروں کو مذہبی نذرونیاز کے طور پر چھوڑ دیتے تھے۔
ان پر سواری کرنا ان کے ہاں معیوب تھا۔
قربانی کے جانوروں کے متعلق بھی یہی تصور تھا۔
اسلام نے اسے غلط قرار دیا کیونکہ قربانی کے جانور ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انہیں بالکل معطل کر دیا جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصرار کے ساتھ بار بار حکم دیا کہ اس پر سواری کرو تاکہ راستے میں تھکاوٹ سے محفوظ رہو۔
اسلام دین فطرت ہے اور اس نے قدم قدم پر انسانی ضروریات کو ملحوظ رکھا ہے۔
:
(1)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ قربانی کے جانور پر سواری کرنا جائز ہے، خواہ وہ قربانی فرض ہو یا نفل کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے مالک سے اس قسم کی تفصیل دریافت نہیں کی۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ فرض یا نفل قربانی کا ایک ہی حکم ہے۔
حضرت علی ؓ سے سوال ہوا کہ قربانی کے جانور پر سواری کرنا کیسا ہے؟ انہوں نے فرمایا:
اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پیدل چلنے والے لوگوں کے پاس سے گزرتے تو انہیں قربانی کے جانوروں پر سوار ہونے کا حکم دیتے۔
اس معاملے میں ضرورت کو پیش نظر ضرور رکھنا چاہیے اور جب ضرورت ختم ہو جائے تو انہیں سواری کے لیے استعمال نہ کیا جائے جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”قربانی کے جانور پر اچھے انداز میں سواری کی جائے جبکہ تجھے اس کی ضرورت ہو یہاں تک کہ دوسری سواری مل جائے۔
“ (صحیح مسلم، الحج، حدیث: 3214(1324)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر اور سواری دستیاب ہو تو قربانی کے جانور کو آزاد چھوڑ دیا جائے، چنانچہ امام بیہقی ؒ نے ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے:
(يركب إذا اضطر ركوبا غير قادح)
”جب سواری کی ضرورت ہو تو قربانی کے جانور پر سواری کی جا سکتی ہے۔
“ لیکن ان جانوروں کو بطور اجرت سواری کے لیے نہ دیا جائے۔
(فتح الباري: 679/3)
(2)
دراصل دور جاہلیت میں لوگ کچھ جانوروں کو مذہبی نذرونیاز کے طور پر چھوڑ دیتے تھے۔
ان پر سواری کرنا ان کے ہاں معیوب تھا۔
قربانی کے جانوروں کے متعلق بھی یہی تصور تھا۔
اسلام نے اسے غلط قرار دیا کیونکہ قربانی کے جانور ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انہیں بالکل معطل کر دیا جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصرار کے ساتھ بار بار حکم دیا کہ اس پر سواری کرو تاکہ راستے میں تھکاوٹ سے محفوظ رہو۔
اسلام دین فطرت ہے اور اس نے قدم قدم پر انسانی ضروریات کو ملحوظ رکھا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1690]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1865
1865. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بوڑھے کو دیکھا جو اپنے دو بیٹوں کے سہارے چل رہا تھا۔ آپ نے دریافت فرمایا: ”اسے کیا ہوا ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا کہ اس نے پیدل چلنے کی نذر مانی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”یہ اپنی جان کو تکلیف دے رہا ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے۔“ آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ سوار ہو کر جائے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1865]
حدیث حاشیہ:
(1)
بعض شارحین نے اس بوڑھے کا نام ابو اسرائیل بتایا ہے لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ ابو اسرائیل نے پیدل چلنے کی نذر نہیں مانی تھی بلکہ اس کی منت یہ تھی کہ سائے کے لیے کوئی چیز استعمال نہیں کرے گا، کسی سے گفتگو نہیں کرے گا اور روزہ رکھے گا۔
وہ جمعہ کے دن دھوپ میں کھڑا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق دریافت فرمایا۔
مذکورہ حدیث میں ایک دوسرا واقعہ بیان ہوا ہے۔
(2)
علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ پیدل حج کرنا افضل ہے یا سوار ہو کر جانا زیادہ فضیلت کا باعث ہے؟ اگر سوار ہو کر حج کرنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے تو مذکورہ منت میں ترک افضل کا التزام ہے اور اگر پیدل حج کرنا افضل ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے عجز کے باعث سوار ہونے کا حکم دیا۔
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بوڑھے کو منت پوری کرنے کا حکم نہیں دیا۔
(فتح الباري: 103/4)
(1)
بعض شارحین نے اس بوڑھے کا نام ابو اسرائیل بتایا ہے لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ ابو اسرائیل نے پیدل چلنے کی نذر نہیں مانی تھی بلکہ اس کی منت یہ تھی کہ سائے کے لیے کوئی چیز استعمال نہیں کرے گا، کسی سے گفتگو نہیں کرے گا اور روزہ رکھے گا۔
وہ جمعہ کے دن دھوپ میں کھڑا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق دریافت فرمایا۔
مذکورہ حدیث میں ایک دوسرا واقعہ بیان ہوا ہے۔
(2)
علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ پیدل حج کرنا افضل ہے یا سوار ہو کر جانا زیادہ فضیلت کا باعث ہے؟ اگر سوار ہو کر حج کرنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے تو مذکورہ منت میں ترک افضل کا التزام ہے اور اگر پیدل حج کرنا افضل ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے عجز کے باعث سوار ہونے کا حکم دیا۔
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بوڑھے کو منت پوری کرنے کا حکم نہیں دیا۔
(فتح الباري: 103/4)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1865]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6701
6701. حضرت انس ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالٰی اس سے بے پروا ہے کہ یہ شخص اپنی جان کو عذاب میں ڈالے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا کہ وہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان چل رہا تھا۔ فزاری نے حمید سے بیان کیا، انہوں نے ثابت سے، انہوں نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6701]
حدیث حاشیہ:
(1)
مذکورہ روایت پہلے تفصیل سے بیان ہو چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنے دونوں بیٹوں کے سہارے چل رہا تھا تو آپ نے دریافت فرمایا:
”اسے کیا ہوا ہے؟“ انہوں نے عرض کی:
اس نے پیدل چلنے کی نذر مانی تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اس نے خواہ مخواہ خود کو اذیت میں ڈال رکھا ہے۔
اس کی اذیت رسانی سے اللہ تعالیٰ بے پروا ہے۔
“ پھر آپ نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1865) (2)
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص پیدل نہیں چل سکتا تھا۔
شاید اس کے پاؤں فالج زدہ تھے۔
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کی نذر پوری کرنے سے منع فرمایا جس میں خود کو تکلیف میں ڈالنا مقصود ہو۔
واللہ أعلم
(1)
مذکورہ روایت پہلے تفصیل سے بیان ہو چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنے دونوں بیٹوں کے سہارے چل رہا تھا تو آپ نے دریافت فرمایا:
”اسے کیا ہوا ہے؟“ انہوں نے عرض کی:
اس نے پیدل چلنے کی نذر مانی تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اس نے خواہ مخواہ خود کو اذیت میں ڈال رکھا ہے۔
اس کی اذیت رسانی سے اللہ تعالیٰ بے پروا ہے۔
“ پھر آپ نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1865) (2)
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص پیدل نہیں چل سکتا تھا۔
شاید اس کے پاؤں فالج زدہ تھے۔
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کی نذر پوری کرنے سے منع فرمایا جس میں خود کو تکلیف میں ڈالنا مقصود ہو۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6701]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 911 in Urdu
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري