سنن ابي داود کل احادیث 5274 :حدیث نمبر
سنن ابي داود
ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
Prayer (Tafarah Abwab Estaftah Assalah)
197. باب السَّهْوِ فِي السَّجْدَتَيْنِ
197. باب: سجدہ سہو کا بیان۔
Chapter: (Prostrating For) Forgetfulness After The Two Prostrations (Rak’ah).
حدیث نمبر: 1008
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن محمد، عن ابي هريرة، قال: صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم إحدى صلاتي العشي الظهر او العصر، قال: فصلى بنا ركعتين، ثم سلم، ثم قام إلى خشبة في مقدم المسجد، فوضع يديه عليهما إحداهما على الاخرى يعرف في وجهه الغضب، ثم خرج سرعان الناس وهم يقولون قصرت الصلاة قصرت الصلاة وفي الناس ابو بكر، وعمر فهاباه ان يكلماه، فقام رجل كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسميه: ذا اليدين، فقال: يا رسول الله، انسيت ام قصرت الصلاة؟ قال:" لم انس، ولم تقصر الصلاة" قال: بل نسيت يا رسول الله، فاقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم على القوم، فقال:" اصدق ذو اليدين؟" فاومئوا، اي نعم،" فرجع رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى مقامه فصلى الركعتين الباقيتين، ثم سلم، ثم كبر وسجد مثل سجوده او اطول، ثم رفع وكبر، ثم كبر وسجد مثل سجوده او اطول، ثم رفع وكبر". قال: فقيل لمحمد: سلم في السهو، فقال: لم احفظه، عن ابي هريرة، ولكن نبئت ان عمران بن حصين، قال: ثم سلم.
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ، قَالَ: فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ، فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَيْهِمَا إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ، ثُمَّ خَرَجَ سَرْعَانُ النَّاسِ وَهُمْ يَقُولُونَ قُصِرَتِ الصَّلَاةُ قُصِرَتِ الصَّلَاةُ وَفِي النَّاسِ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ، فَقَامَ رَجُلٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَمِّيهِ: ذَا الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَسِيتَ أَمْ قُصُرَتِ الصَّلَاةُ؟ قَالَ:" لَمْ أَنْسَ، وَلَمْ تُقْصَرِ الصَّلَاةُ" قَالَ: بَلْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ:" أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟" فَأَوْمَئُوا، أَيْ نَعَمْ،" فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَقَامِهِ فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ الْبَاقِيَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ وَكَبَّرَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ وَكَبَّرَ". قَالَ: فَقِيلَ لِمُحَمَّدٍ: سَلَّمَ فِي السَّهْوِ، فَقَالَ: لَمْ أَحْفَظْهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلَكِنْ نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں شام کی دونوں یعنی ظہر اور عصر میں سے کوئی نماز پڑھائی مگر صرف دو رکعتیں پڑھا کر آپ نے سلام پھیر دیا، پھر مسجد کے اگلے حصہ میں لگی ہوئی ایک لکڑی کے پاس اٹھ کر گئے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے پر رکھ کر لکڑی پر رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصہ کا اثر ظاہر ہو رہا تھا، پھر جلد باز لوگ یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ نماز کم کر دی گئی ہے، نماز کم کر دی گئی ہے، لوگوں میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے لیکن وہ دونوں آپ سے (اس سلسلہ میں) بات کرنے سے ڈرے، پھر ایک شخص کھڑا ہوا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالیدین کہا کرتے تھے، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم کر دی گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ میں بھولا ہوں، نہ ہی نماز کم کی گئی ہے، اس شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ بھول گئے ہیں، پھر آپ لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور ان سے پوچھا: کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟، لوگوں نے اشارہ سے کہا: ہاں ایسا ہی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پر واپس آئے اور باقی دونوں رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیرا، اس کے بعد «الله أكبر» کہہ کر اپنے اور سجدوں کی طرح یا ان سے کچھ لمبا سجدہ کیا، پھر «الله أكبر» کہہ کر سجدے سے سر اٹھایا پھر «الله أكبر» کہہ کر اپنے اور سجدوں کی طرح یا ان سے کچھ لمبا دوسرا سجدہ کیا پھر «الله أكبر» کہہ کر اٹھے۔ راوی کہتے ہیں: تو محمد سے پوچھا گیا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سہو کے بعد پھر سلام پھیرا؟ انہوں نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مجھے یہ یاد نہیں، لیکن مجھے خبر ملی ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا ہے: آپ نے پھر سلام پھیرا۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 19 (573)، (تحفة الأشراف: 14415)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 88 (482)، والأذان 69 (714)، والسھو 3 (1227)، 4 (1228)، 85 (1367)، والأدب 45 (6051)، وأخبار الآحاد 1 (7250)، سنن الترمذی/الصلاة 180 (399)، سنن النسائی/السھو 22 (1225)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 134 (1214)، مسند احمد (2/237، 284) (صحیح)» ‏‏‏‏

Abu Hurairah said: The Messenger of Allah ﷺ led us in one of the evening (Asha) prayers, noon or afternoon. He led us in two Rak’ahs and gave the salutation. He then got up going towards a piece of wood which was placed in the front part of the mosque. He placed his hands upon it, one on the other, looking from his face as if he were angry. The people came out hastily saying: the prayer has been shortened. Abu Bakr and Umar were among the people, but they were too afraid to speak to him. A man whom the Messenger of Allah ﷺ would call “ the possessor of arms” (Dhu al-Yadain) stood up (asking him): Have you forgotten. The Messenger of Allah, or has the prayer been shortened? He said: I have neither forgotten nor has it been shortened. He said: Messenger of Allah, you have forgotten. The Messenger of Allah ﷺ turned towards the people and asked: did the possessor of arms speak the truth? They made a sign, that is, yes. The Messenger of Allah ﷺ returned to his place and prayed the remaining two Rak’ahs, then gave the salutation; he then uttered the takbir and prostrated himself as usual or prolonged. He then raised his head and uttered the takbir; then he uttered the takbir and made prostration as usual or made longer (prostration). Then he raised his head his and uttered the takbir (Allah is most great). The narrator Muhammad was asked: Did he give the salutation (while prostrating) dueto forgetfulness? He said: I do not remember it from Abu Hurairah. But we Are sure that Imran bin Husain (in his version) said; he then gave the salutation.
USC-MSA web (English) Reference: Book 2 , Number 1003


قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم (573)

   سنن أبي داود1008صلى بنا رسول الله إحدى صلاتي العشي الظهر أو العصر قال فصلى بنا ركعتين ثم سلم ثم قام إلى خشبة في مقدم المسجد فوضع يديه عليهما إحداهما على الأخرى يعرف في وجهه الغضب ثم خرج سرعان الناس وهم يقولون قصرت الصلاة قصرت الصلاة وفي الناس أبو بكر
   المعجم الصغير للطبراني2140 أقصرت الصلاة أم نسيت ؟ ، قال : لم أنس ، ولم تقصر الصلاة ، فسأل القوم ، فقالوا : صدق ذو اليدين ، فرجع رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فصلى ركعتين مثل ركوعه أو أطول ، ثم سجد سجدتين
   المعجم الصغير للطبراني2200 أقصرت الصلاة أم نسيت ؟ ، فقال : بل نسيت ، فقام فصلى الركعتين ، ثم سجد سجدتين وهو جالس ثم سلم
   مسندالحميدي1013ما يقول ذو اليدين؟

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1008  
´سجدہ سہو کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں شام کی دونوں یعنی ظہر اور عصر میں سے کوئی نماز پڑھائی مگر صرف دو رکعتیں پڑھا کر آپ نے سلام پھیر دیا، پھر مسجد کے اگلے حصہ میں لگی ہوئی ایک لکڑی کے پاس اٹھ کر گئے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے پر رکھ کر لکڑی پر رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصہ کا اثر ظاہر ہو رہا تھا، پھر جلد باز لوگ یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ نماز کم کر دی گئی ہے، نماز کم کر دی گئی ہے، لوگوں میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے لیکن وہ دونوں آپ سے (اس سلسلہ میں) بات کرنے سے ڈرے، پھر ایک شخص کھڑا ہوا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالیدین کہا کرتے تھے، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم کر دی گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ میں بھولا ہوں، نہ ہی نماز کم کی گئی ہے، اس شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ بھول گئے ہیں، پھر آپ لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور ان سے پوچھا: کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟، لوگوں نے اشارہ سے کہا: ہاں ایسا ہی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پر واپس آئے اور باقی دونوں رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیرا، اس کے بعد «الله أكبر» کہہ کر اپنے اور سجدوں کی طرح یا ان سے کچھ لمبا سجدہ کیا، پھر «الله أكبر» کہہ کر سجدے سے سر اٹھایا پھر «الله أكبر» کہہ کر اپنے اور سجدوں کی طرح یا ان سے کچھ لمبا دوسرا سجدہ کیا پھر «الله أكبر» کہہ کر اٹھے۔ راوی کہتے ہیں: تو محمد سے پوچھا گیا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سہو کے بعد پھر سلام پھیرا؟ انہوں نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مجھے یہ یاد نہیں، لیکن مجھے خبر ملی ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا ہے: آپ نے پھر سلام پھیرا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1008]
1008۔ اردو حاشیہ:
➊ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چند ایک مواقع پر نسیان ہوا ہے تاکہ امت کے لئے شریعت کے اصول واضح ہو جائیں۔
➋ ذوالیدین کا نام (خریاق) آیا ہے۔ اور اس قسم کے القاب میں اگر تحقیر مقصود نہ ہو تو مذاحاً جائز ہیں۔
➌ نماز میں زیادہ سہو ہو جائیں تو بھی دو سجدے کرنے ہوں گے، جیسے کہ اس حدیث میں آیا ہے کہ دو ر کعتوں پر سلام پھیرا، پھر تشریف لے گئے اور گفتگو فرمائی۔
➍ نسیان میں کیا جانے والا دعویٰ جھوٹ شمار نہیں ہوتا۔
➎ سجدہ سہو میں تکبیر بھی ہے اور سلام بھی۔
➏ بھول کر کلام کرنے سے نماز باطل ہوتی ہے نہ مکمل سمجھ کر سلام پھیر دینے سے۔
➐ ایسی صورت میں نماز کی بنا کرنا درست ہے۔ یعنی ساری نماز دوبارہ نہیں پڑھی جائے گی بلکہ صرف بقیہ رکعتیں پڑھ کر سہو کے دو سجدے کیے جائیں گے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 1008   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.